سارا قصور اسی کا ہے

چوکور ڈبے پر چکلے جیسے گھومتے ریکارڈر پر سیاہ رنگ کے ”سی ڈی“ جیسے بڑے ریکارڈ پر جب سانپ کی شکل کا ایک بڑا سارا بازو نما آلہ، جس میں گراموفون کی سوئی لگی ہوئی ہوتی تھی، اس کالی شکل والے چوڑے چکلے ریکارڈ کے پہلے سرے پر رکھا جاتا تھا تو چوکور شکل کا ڈبہ جو گراموفون کہلایا کرتا تھا، اس میں سے ریکارڈ شدہ گانے فضا میں گونجنے لگتے تھے۔ گراموفون کا یہ دور میری شعوری زندگی میں آخری سانسیں لے رہا تھا اور اس کی جگہ ”ٹیپ ریکارڈر“ سنبھالتا جارہا تھا۔

جس بکس میں ایک بہت طویل ”ٹیپ“ پڑی ہوتی تھی اس کو ”کیسٹ“ کہا جاتا تھا۔ اس میں آواز ریکارڈ کرنے کی گنجائش کیونکہ کافی ہوتی تھی لہٰذا لوگوں کے اپنے اپنے ذوق کے مطابق ڈرامے، پورا پورا قرآن مع ترجمہ، لوگوں کے ذوق کے مطابق گانے اور لطیفے یا اسی قسم کے بہت سارے پروگرام جن کو اس دور میں عوامی مقبولیت حاصل تھی، مارکیٹ میں فروخت ہوا کرتے تھے۔ مجھے اس زمانے کے وہ کیسٹ جس میں لطیفے ہوا کرتے تھے، بہت پسند تھے۔ مارکیٹ میں معین اختر کے سنائے لطیفوں کے بھی بہت سارے والیم میسر تھے۔ انھیں لطبیفوں میں سے ایک لطیفے والی بات مجھے اب بھی یاد ہے جو میں قارئین کو یوں بھی سنانا چاہ رہا ہوں کہ یہ مجھے حسب حال لگتا ہے۔

کسی کو اطلاع ملی کہ اس کا ایک دوست سیڑھی ٹوٹ جانے کی وجہ سے زمین پر آگراور اپنی ٹانگ تڑوا بیٹھا۔ وہ از راہ عیادت اس ے ملنے گیا۔ دوران عیادت اس نے سیڑھی ٹوٹ جانے کا سبب معلوم کیا تو جواب ملا ”ساراقصور اسی کا ہے“۔ یہ جملہ سن کر اسے بڑی حیرت ہوئی۔ اس نے پوچھا کہ سارا قصور آخر کس کا ہے تب بھی اسے وہی جواب ملا کہ سارا قصور اسی کا ہے۔ تین چار مرتبہ معلوم کرنے کے بعد اس نے کہا کہ یار ہم مزدور جس کلب میں کام کر رہے تھے اس عمارت کی دیوار پر ایک بانس کی سیڑھی لگی ہوئی تھی اور سچ پوچھو تو سارا قصور اسی کا تھا۔

یار کس کا قصور تھا، دوست نے کسی حد تک اونچی آواز میں سوال کیا اور اس کے قصور سے تمہاری ٹانگ ٹوٹنے کا کیا تعلق ہے۔ کہنے لگا کہ باؤنڈری وال کے دوسری جانب ایک بہت بڑا تالاب بنا ہوا تھا اس میں ایک غیر ملکی لڑکی نہا رہی تھی، سارا قصور اسی کا تھا۔ چلو یہ بات تو سمجھ میں آگئی کہ تالاب میں ایک غیر ملکی لڑکی نہارہی تھی لیکن سیڑھی ٹوٹنے جانے اور تمہاری ٹانگ ٹوٹ جانے سے اس کا کیا تعلق بنتا ہے؟ کہنے لگا کہ میں اس سیڑھی پر اکیلا تھوڑی تھا، درجن بھر سے زیادہ مزدور یہی نظارہ کر رہے تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اس وقت تاریخ کے بد ترین معاشی بحران سے گزررہا ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ گزشتہ حکومتوں کا تعلق موجودہ بحران سے لازماً جوڑا جا سکتا ہے لیکن خواہ کچھ بھی ہو جائے، جو معاشی بحران کی موجودہ حالت ہے اس میں سارا کا سارا قصور کسی صورت میں بھی صرف ان ہی کا کہنا بھی انصاف کے منافی ہے۔

موجودہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ”روپے کی قدر گرنے کی وجہ منی لانڈرنگ ہے“۔ بات غلط نہیں لیکن یہاں جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے ایک ایسا فرد جس کو امید تھی کہ اسے ملک کا تخت و تاج اسے سونپا جاسکتا ہے، وہ اس بات سے کیسے بے خبر ہو سکتا تھا کہ پاکستان میں سب سے بڑا کینسر منی لانڈرنگ اور کرپشن ہی ہے۔ حکومت میں آتے ہی ان کے جتنے ملکی و غیر ملکی دورے ہوئے اس میں انھوں نے پوری دنیا کے سامنے ”کرپشن“ ہی کا تو رونا رویا اور منی لانڈرنگ کا ہی تو راگ الاپا۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان کرپشن اور منی لانڈرنگ سے بخوبی واقف تھے۔ جب ان کو اس ساری صورتحال کا علم تھا تو انھوں نے عوام کے سامنے یہ دعوے کیوں کیے کہ وہ ڈالر، گھی، چینی، کھانے پینے کی عام اشیا، ڈیزل، پٹرول اور پانی بجلی گیس سستی کر دیں گے؟ قرض بھی نہیں لیں گے پھر بھی ملک کی قسمت بدل کر رکھ دیں گے؟

فرماتے ہیں کہ ”کریک ڈاؤن کر کے منی لانڈرنگ کے تمام راستے بند کردیں گے“۔ ان کا یہ فرمان درست ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کب تک ہوگا؟ ہر حکومت کے پاس 5 سال ہوتے ہیں جس میں سے ایک گزرنے کے قریب ہے لیکن جو بڑی بڑی سرنگیں 70 سال کی جد و جہد کے بعد حرام خوروں نے بنالی ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی بند نہیں کیا جاسکا جبکہ عمران خان کی حکومت مارشل لاؤں کے بعد وہ واحد حکومت ہے جس کی پشت پت 15 لاکھ فوج و رینجرز دیوار چین کی طرح کھڑی ہوئی ہے اور پاکستان کی پوری پولیس و انتظامیہ ایک ہی پیج پر نظر آتی ہے۔ اگر اتنی طاقت و قوت کے باوجود بھی گزرنے والے ایک سال میں کچھ نہیں کیا جاسکا تو باقی بچ رہنے والے 4 سالوں میں بھی کسی بات کی توقع رکھنا خام خیالی ہی ہوگی۔

ایک بہت بڑے راز سے پردی سرکاتے ہوئے ان کا فرمانا تھا کہ ”فوج کی نرسری میں پلنے والے کس منہ سے لفظ سلیکٹڈ کا استعمال کررہے“۔ اللہ جانے ان کا یہ فرمانا سلیکٹڈ کہنے والوں کی تائید میں جاتا ہے یا تردید میں۔ ویسے بات ماضی کے سارے حالات خود اس بات کے غماز ہیں کہ ”ہماری“ مانو گے تو چل سکو گے ورنہ پاؤں پر بھی کھڑے نہیں رہ سکو گے۔

عمران خان کے کہنے کے مطابق ”منی لانڈرنگ ملک کی سب سے بڑی لعنت ہے اور یہ معاشی خسارے کی بڑی وجہ بھی ہے“ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ منی لانڈرنگ یا کرپشن تو قصہ ماضی بن چکا ہے۔ ساری منی لانڈرنگ کے باوجود روپے کی قدر اتنی نہیں گری تھی جتنی اب گری ہوئی ہے، مہنگائی کا وہ عالم نہیں تھا، اشائے ضروریہ آج سے کہیں زیادہ ارزاں تھیں تو جب عبوری دور سے لے کر اب تک سارے چور دروازے بند ہو چکے ہیں، کرپشن روک دی گئی ہے جس کی وجہ سے 12 ارب روزانہ کی بچت ہو رہی ہے اور قرضوں پر قرضے حاصل کیے جارہے ہیں تو پھر عوام پر مہنگائی کے بم کیوں برسائے جارہے ہیں۔ اس کی دوہی وجوہ ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ منی لانڈرنگ اور کرپشن کے الزامات غلط ہیں یا پھر موجودہ حکومت چور دروازوں کو بند کرنے میں نا صرف ناکام و نا مراد ہے بلکہ مزید دروازے بھی جیسے کھول دیے گئے ہیں۔

وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ 10 ارب ڈالر پاکستانیوں کا باہر پڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ رقم تو آپ کے دور سے بہت پہلے کی باہر کے بینکوں میں پڑی ہے لیکن جناب حالات تو آپ کے آنے سے پہلے ایسے خراب نہ تھے۔ یہ شکوہ تو اس وقت بنتا تھا جب آپ کی حکومت آنے کے بعد پیسہ ملک سے باہر گیا ہوتا۔ آپ کا کہنا تھا کہ ہم چوروں کو نہیں چھوڑیں گے اور لوٹی ہوئی دولت ملک میں واپس لے کر آئیں گے۔ لیکن جن کو آپ نے چور کہہ کرپکڑا ہے کیا صرف یہی چور ہیں اور کیا یہ 10 ارب ڈالرز صرف ان ہی کے ہیں؟

، اس پر بھی غور کرنا بہت ضروری ہے۔ وزیر اعظم کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اگر برطانیہ میں کسی پارلیمنٹ کے ممبر کے متعلق یہ معلوم ہوجائے کہ وہ ٹیکس چور ہے تو اسے نہ میڈیا انٹرٹین کرتا ہے اور نہ ہی وہ اسمبلی میں جا سکتا ہے۔ بات بہت غور طلب یوں ہے کہ خود موجودہ حکومت کی پارلیمنٹ اور حکومتی عہدوں پر ایسے بیشمار افراد متمکن ہیں جن کو ہر قسم کے سنگین الزامات کا سامنا ہے تو کیا وزیر اعظم ایسی سچی بات کرنے کی پوزیشن میں ہیں؟

وزیر اعظم جب بھی موجودہ مشکل صورت حال کا ذکر کرتے ہیں وہ اس ابتری کا واحد ذمہ دار اپنے سے پچھلوں ہی کو قرار دیتے ہیں اور ”سارا قصور اسی کا ہے“ کی طرح اپنی حکومت کی کوتاہیوں پر پرداہ ڈال دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں قائم ہوئیں، خواہ وہ فوجی حکومتیں ہی کیوں نہ رہی ہوں، وہ سب اپنے پچھلوں کو ہی ہر بحران کا ذمہ دار قرا دیتی رہیں لیکن اپنے دس دس، گیارہ گیارہ اور بارہ بارہ سالہ دور حکومت میں نہ تو پچھلوں کی کوتاہیوں کا احتساب کر سکیں اور نہ ہی عوام کی مشکلات میں کمی لا سکیں۔ یہ دور بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔ وعدے اور دعوے خواہ کچھ بھی رہے ہوں لیکن قرضوں، مہنگائی، بدحالی، بے چینی، بدامنی اور مشکلات میں اضافہ در اضافہ دینے کے علاوہ اس کے پاس بھی عوام کے لئے کچھ نہیں ہے۔ اس کے پاس بھی سیڑھی پر چڑھے اس مزدور کے لبوں پر سچی اس شکایت کے علاوہ کہ ”سارا قصور اسی کا ہے“ عوام کو دینے کے لئے اور کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا۔