دیپ جلتے رہے (قسط 17 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹرک میں تین چار بوریاں کتابوں کی تھیں۔ نئے مکان میں سارا سامان دو دن میں سیٹ کر دیا گیا۔ ٹی وی کے بارے میں بچوں کو ابھی تک نہیں معلوم تھا کہ دکاندار لے چکا ہے۔ وہ یہ سوچ کر سہم گئے کہ شاید ٹی وی ٹرک سے اتارنا بھول گئے۔ ہم نے انہیں بتا یا کہ ٹی وی میں کچھ خرابی ہو گئی تھی، اس لیے اسے ملیر ہالٹ پر ہی بننے کے لیے دے دیا ہے۔

ہمیشہ کی طرح کتابوں کی دو میزیں اور ان پر کتابوں کی ہی شاندار شلیف بنا دی گئی۔ کتابیں واقعی دوست ہوتی ہیں، آپ ان سے ہر طرح مستفید ہو سکتے ہیں۔ اکثر ہم ان میں پیسے رکھ کر بھول جا تے، اور یاد نہ آتا کہ کس کتاب میں رکھے تھے، اور جب اشد ضرورت کے وقت تمام حسوں کو بروئے کار لا کر ڈھونڈتے ہیں تو یہ کھٹ سے پیسے ہماری آنکھوں کے سامنے وا کر دیتیں۔ ہماری چھوٹی بہنیں ندا اور شازی سب جانتی تھیں لیکن ہمارے حالات چھپانے کی کوشش کو وہ کس طرح ناکام دیکھ سکتی تھیں۔

سو جب کبھی کراچی آتیں اورہمارے گھر آتیں تو ہماری اس عادت سے فائدہ اٹھا کر ان کتابوں میں پیسے رکھ جا تیں۔ ایک بار ہم نے ندا کو کتاب میں پیسے رکھتے دیکھ لیا۔ لیکن اپنی منی بہن کے اس نیک عمل کو اپنی خود داری کی بھینٹ چڑھا کر ہم اسے کسی صورت شرمندہ نہیں کر سکتے تھے۔ اور ہماری شازی کو تو یہ بھی وہم ہوتا تھا کہ پچھلی کتابوں میں پیسے رکھ دیے تو نیکی دریا میں غارت نہ ہو جا ئے اس لیے وہ کتاب میں پیسے رکھ کر پھر اسی کتاب کو پڑھنا شروع کر دیتیں، اور اچانک کہتیں، باجی یہ آپ کے پیسے ہیں کتاب میں۔ اور ہم اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے اس کے ہاتھ سے پیسے لے لیتے۔ کتابیں عزت دیتی ہی نہیں عزت رکھتی بھی ہیں۔

بہت پہلے امی کسی بی بی سے منت والی کتاب پڑھوایا کرتی تھیں۔ اس کہانی میں شہزادی کے جہیز کا لوٹا سامان میں کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ جسے لینے کے لیے ایک غلام کو بھیجا جا تا ہے۔ اور کیوں کہ شہزادی اور اس کے خاندان نے منت کی کہانی سننے سے کبھی انکار کیا تھا، اس لیے ان پر مصائب کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔

ساری بیبیاں ارد گرد بیٹھ کر منت کی کہانی سنا کرتیں اور آخر میں میٹھے پراٹھے کے لڈو خواتین میں تقسیم کیے جاتے۔ کوئی مرد انہیں نہ کھا سکتا تھا۔ کہانی میں منت کی کہانی نہ سننے والوں کے عبرتناک انجام اور جنہوں نے کہانی سنی وہ خوش حال ہو گئے کی بابت رقم تھا۔ اس سب میں اور کیا تھا کیا نہیں، یا د نہیں، لیکن توے سے اترتے ہی گرم پرا ٹھے میں چینی ڈال کے اس کا ملیدہ بنا کر گول گول لڈو کیسے بنتے ہیں ہمیں شاید اس وقت کے لیے نہیں بھولا تھا۔

بہار سے تعلق رکھنے والے ہمارے نئے مالک مکان نے ہمیں ایڈوانس کی صرف چوتھائی رقم ملنے پر بھی ہمیں مکان میں آنے کی اجازت دے دی۔ ہم ان کی دریا دلی اور انسان دوستی سے بے پناہ متاثر تھے۔ جب مکان میں شفٹ ہوئے، تو کچن کا سامان رکھنے کو جگہ نہ ملی۔ شہزادی کا لوٹا سامان میں رہ جا نا اور تھا، پر یہاں تو باروچی خانہ ہی غائب تھا۔ جب کہ ہم نے تو کبھی منت کی اس کہانی سننے کا انکار بھی نہیں کیا تھا۔

ہم نے مالک مکان سے باورچی خانے کی گمشدگی کا ذکر کیا، تو انہوں نے دو کمروں کے بیچ جو ان کی چھوٹی سی ذرا اونچی تخت نما کوئی چیز پڑی تھی، اس پر ہمیں کچن کا سامان اور چولھا رکھنے کا مشورہ دیا۔ کھلی جگہ تھی، چولھے کی آنچ دیگچی کو لگنے کے بجائے چاروں طرف پھیلتی، روٹی بنا نا دوبھر ہو جاتا تھا۔

غسل خانے کے نام پر وہاں ایک نلکا لگا ہوا تھا جس کے نیچے ہم نے ٹب رکھ دیا تھا۔ غسل خانہ ہمیں اضافی لگا۔ ہم نے غسل خانے کو صاف کر کے اس میں چاروں طرف لکڑی کے پٹھے لگائے زمین پر چولھا رکھا۔ لو بھئی باورچی خانہ تیار ہو گیا۔ لیکن اب مسئلہ نہانے کا تھا۔

محاورے میں ترمیم کی اجازت ہوتی تو یہ ہی بنتا کہ، ننگی نہائے گی کیا اور پکائے گی کیا۔

ہمارے ننھے بیٹوں کو بھی اس جوڑ توڑ میں بہت مزا آرہا تھا۔ ان کے تخلیقی ذہن سے فائدہ اٹھا یا گیا۔ اور ٹوائلٹ، باورچی خانے کے رستے میں جو چھوٹی سی پتلی گلی تھی، وہاں نہانے سے پہلے دیوار کی الگنی پرایک چادر ٹانگ دی جاتی، اور داخلی طرف ایک ٹوٹا دروازہ کچھ چیزوں کی مدد سے ٹکا دیا جا تا۔ اور نہانے کے بعد یہ دروازہ اپنے ہاتھ میں اٹھاکر ایک طرف رکھ دیا جاتا۔ یہ ہماراموبائل باتھ روم تھا۔

بیاہ کر جب ہم انچولی آئے تھے تب ہم دو بچوں کو انچولی میں ٹیوشن پڑھانے جا یا کرتے تھے۔ بچے بڑے ذہین تھے۔ زیادہ محنت نہ لگتی تھی۔ البتہ ان کی ماں، ماہ رخ سے ہماری گاڑھی چھننے لگی تھی۔ ہم ان کی نومولود بچی کو سنبھالتے اس دوران وہ باورچی خانے کے سا رے کام ختم کر لیتیں۔ کبھی ہم ان کے ساتھ مل کر سبزی کٹوا لیتے، اکثر تو ان کے بچے سو رہے ہوتے ہم ان کے ساتھ گپیں لگا کر آجاتے۔ اس بار ہم ان سے ملنے گئے تو انہوں ہمیں دوبارہ آفر کی۔

ہمیں اس کی سو فی صد امید بھی تھی، اوپر کی آمدنی کسے اچھی نہیں لگتی۔ اب ا ن کے ہاں دو بچوں کا اضافہ ہو چکا تھا۔ یہ لوگ تھے تو سنی لیکن جعفری ہو نے کی وجہ سے کئی لوگ انہیں شیعہ سمجھتے تھے۔ ایک بیٹا تو تقریباً شیعہ ہی ہو چکا تھا۔ تنہائی کا شکار ان خاتون کو دل کی باتیں کرنے کے لیے کو ئی چاہیے تھا۔ بڑی نفیس، تخلیقی ذہن رکھنے والی خاتون تھیں ان کے میاں ٹرانسپورٹر تھے۔ غصے کے بہت تیز تھے۔ غصے، مذاق اور پیار میں بھی گالیاں ہی جھا ڑاکرتے تھے۔ پرائیویٹ اسکول ٹیچر تھیں لیکن شادی کے فوراً بعد ہی میاں نے یہ کہہ کر نوکری بھی چھڑوا دی تھی کہ ضرورت کیا ہے۔

ادھر ضرورت کی چیزیں گھر کے کونے کونے ہی نہیں کچن کے خالی ڈبوں میں بھی گھسنا چا ہتی تھیں۔ اس لیے ہمارے پاس ”کیا“ کا لفظ اضافی تھا۔ لین دین کی اچھی خاتون تھیں دوسرے روز ہی ایڈوانس تین ہزار دے دیے۔ ٹی وی کے بغیربچوں کا وقت کٹنا مشکل تھا۔ اسکول میں ان کا ایڈمیشن بھی ہو نا تھا۔

کالج کی پرنسپل کا کردار ظالم ڈکٹیٹر کا سا تھا، ان کے رویے کو بڑھا وا دینے والی خوشامد پسند لیکچرر تھیں۔ ان کے موڈ کے خلاف کو ئی بات ہوجاتی تو طالبات کے سامنے ٹیچر کی انسلٹ کر دیا کرتیں۔ ہم سہمے رہا کرتے اور ایسی کسی بھی غلطی سے گریز کرتے۔ پیریڈ اوور ہونے کے بعد ایک کلاس سے دوسری کلاس میں جاتے وقت لگتا ہے۔ لیکن انہیں ہر کام میں پرفیکشن چاہیے تھی۔ اعصابی تناؤ کی وجہ سے ہمارے کندھوں میں کھنچاؤ اور شدید تکلیف رہنے لگی تھی۔ مالک مکان کے ایڈوانس کے پیسے ابھی باقی تھے۔ اور پھر دگر اخراجات، نئی نوکری جانے کب ملتی۔ اس لیے نوکری چھوڑنے کا رسک بھی نہیں لیاجا سکتا تھا۔

یہاں جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ احمد نوید انچولی شفٹ ہو گئے ہیں تو نوحہ لکھوانے والوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بچوں کا ایڈ میشن بھی ہو گیا، لیکن ٹی وی کے بغیر دونوں بچے آپس میں لڑتے رہتے۔

ماہ رخ سے ادھار چھ ہزار لیے۔ اور ٹی وی چھڑا کر لے آئے۔ مالک مکان کے ہاں پی ٹی وی چلتا تھا، کیبل کنیکشن نہیں لگوایا تھا۔ کہ ہم ان سے کنیکشن لے لیتے۔ ان سے کہا کہ وہ کنیکشن لے لیں ہم آدھا آدھا کر لیں گے۔ مالک مکان انڈین فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کو گناہ سمجھتے تھے۔ تنخواہ ملی تو اسی دن نو سو روپے میں کنیکشن لگوا لیا، ہر مہینے ڈیڑ سو روپے طے ہوئے۔ ایک ہفتے بعد ہی مالک مکان نے ہم سے کیبل کا تار دے کر کنیکشن مانگا۔

اب سمجھ آیا کہ ایڈ وانس کی رقم نہ خرچ کرنی پڑے تو انڈین فلمیں اور ڈرامے دیکھنا جائز ہے۔ اس زمانے میں ہریتک روشن کی فلم ”کہو نہ پیار ہے“ آئی ہوئی تھی۔ کیبل والا روزانہ وہ فلم لگا دیتا۔ رشی، رامش کو پتہ نہیں اس فلم میں کیا نظر آتا تھا۔ وہ روزانہ وہ فلم دیکھتے، دونوں بچوں کو اس فلم کے ڈائلاگ ازبر تھے۔ مجھے خوشی تھی کہ بچے اس عمر میں مار دھاڑ والی فلموں کے بجا ئے رومانی فلمیں دیکھتے ہیں۔ رومانس، دل گداز کرتا ہے اور گداز دل ظلم نہیں کیا کرتے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •