ایک عورت، تین بدمعاش، ایک مولوی اور پولیس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”عورت تو پانی کی طرح ہوتی ہے، جب بھی پیاس لگی پی لیا ورنہ بہتی رہے۔ “

اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑی خوداعتمادی سے کہا۔ عام سا نام تھا اس کا، جمیلہ۔ عام سے خاندان کی عام سی لڑکی تھی وہ۔ کراچی کے کسی خاص علاقے سے بھی نہیں آتی تھی لیکن جب بھی آتی عام سی بات نہیں کرتی تھی۔ بہت گہرائی تھی اس کی باتوں میں۔ شاید کانوں کو زخمی کرنے والی سچائی بھی۔

دسویں جماعت تک پڑھی ہوئی عورت اس طرح کی بات کرے، مجھے تعجب بھی ہوا اور ایک طرح کی خفت بھی۔ یہ بات تو کسی فلاسفر نے کہی ہوتی، کسی کتاب میں چھپی ہوتی، کسی ڈرامے کا ڈائیلاگ ہوتا، کسی فلم کی کہانی بنتی اس سے۔ نیشنل جغرافیہ کی کسی ڈوکومینٹری کی ابتدا ہوتی اس سے۔

اس دن یہ بات میں اس سے کہہ بیٹھا تھا۔

”میری زندگی خود ایک ڈراما ہے ڈاکٹر! فلم کی ایک کہانی، ناول ہے پورا ناول۔ جب زندگی خود ایک ڈراما اور کہانی بن جاتی ہے تو اسی قسم کی بات ہوتی ہے۔ “ اس نے بڑے آرام سے کہا۔ ”جس کی شادی تین دفعہ ہوئی ہو، جس کے چھ بچے ہوں اس کی زندگی خود کہانی نہیں ہوگی تو کیا ہوگی۔ اس کی زندگی میں جو ڈراما ہوگا وہ اسٹیج پہ نہیں دکھایا جاسکتا ہے۔ اس کی کہانی پہ لاہور اور بمبئی میں فلم نہیں بن سکتی ہے کیوں کہ اس کہانی میں خوشی کا کوئی لمحہ نہیں ہے۔ مادھوری ڈکشٹ اور ایشوریا رائے کا کوئی ڈانس نہیں ہوسکتا اس میں، نہ ہی سلمان خان اپنا سینہ تان کر اورکولہے مٹکا کر ناچ سکتا ہے اس میں۔ “

یہ میرے لیے نئی خبر تھی۔ تین شادی چھ بچے، یہ تو مجھے نہیں پتا تھا۔ مجھے یہ پتا تھا کہ جمیلہ کے چھ بچے ہیں اور شوہر کسی حادثے کا شکار ہوکر مرگیا ہے۔ مجھے اسے دیکھ کر رحم آتا، یہ سوچ کر کتنی کم عمری میں وہ بیوہ ہوگئی ہوگی، نجانے کیسے پہاڑ جیسی زندگی گزاری ہوگی۔ شوہر مرجائے تو ہمارے ملکوں میں عورت سے سب کچھ چھن جاتا ہے اور جوان بیوہ ت ایسی ہی ہے جیسے سارے شہر کی بیوی۔ اس کی کوئی خاص عمر بھی نہیں تھی، مشکل سے چالیس بیالیس سال کی ہوگی۔

وہ میرے دواخانے میں اپنے کسی نہ کسی بچے کے علاج کے لیے آتی جاتی رہتی تھی۔ مگر کبھی بھی اس نے مجھ سے پیسے نہیں مانگے۔ پوری فیس تو نہیں لیکن کچھ نہ کچھ فیس دے کر ہی جاتی تھی۔ مجھے اس کی غربت کا اندازہ تھا لہٰذا میں خودہی اس سے بہت کم فیس لیا کرتا اور ساتھ میں سیمپل کی دوائیں بھی دے دیا کرتا۔ اسے ہروقت اپنے بچوں کی فکر رہتی تھی۔ مائیں تو اپنے بچوں کے لیے فکر مند ہی رہتی ہیں لیکن غریب اور اتنی فکر مند ماں نے کبھی بھی نہیں دیکھی۔ یکایک مجھے اس کی کہانی میں دلچسپی پیدا ہوگئی تھی۔

”میں سمجھا نہیں، مجھے بتاؤ کیا گزری ہے تمہارے ساتھ۔ “ میں نے بڑے تجسس کے ساتھ پوچھا۔ میرے ذہن میں لاکھوں سوالات یکے بعد دیگرے چلے آئے۔ کیا ہوا ہوگا اس لڑکی کو کہ اسے تین شادیاں کرنی پڑگئیں کس طرح سے مرگئے ہوں گے شوہر، کیسے ہوئی ہوگی شادی؟ مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ یہ عورت اپنے وقت میں بے حد حسین بھی رہی ہوگی۔

اس نے ایک نگاہ کلینک کے چاروں طرف ڈالی۔ سارے مریض جاچکے تھے۔ اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ مجھے لگا تھا کہ وہ کہنا چاہتی ہے، بتانا چاہتی ہے، دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتی ہے۔ یہ سب کچھ اسی وقت ہوتا ہے جب اعتبار بن جاتا ہے، اعتماد ہوجاتا ہے۔ میرے مریض بھی ایسے ہی تھے ہر تھوڑے دنوں کے بعد کوئی نہ کوئی اپنی کہانی سنادیتا تھا۔

”میں فرسٹ ایئر میں پڑھتی تھی اس وقت۔ میرے ابا کی سبزی کی دکان تھی۔ ہم لوگ امیر نہیں تھے مگر خوش تھے، ہم تینوں بہنیں پڑھ رہی تھیں۔ میں دسویں پاس کرکے فرسٹ ایئرکالج میں چلی گئی۔ اپنے اسّی گز کے گھر میں خوشی خوشی رہتے تھے ہم لوگ۔ نہ کسی سے جھگڑا اور نہ ہی کسی سے ایسی کوئی خاص دوستی۔ میرے ابا اور اماں دونوں ہی اکیلے تھے جہاں میں۔ ابا کے باوا اماں بچپن میں ہی مرگئے اور انہیں دادا کے ایک دوست نے پال پوس کر بڑا کیا تھا۔ ان کا بھی کوئی بچہ نہیں تھا۔ انہوں نے میرے ابا کی میری یتیم ماں سے شادی کرادی۔ شادی کرانے کے بعد وہ گھر بیٹھ گئے اور اپنی سبزی کی دکان ابا جی کے حوالے کردی تھی۔ ابا جی شریف اور محنتی آدمی تھے۔ جم کر کام کرنے لگے اور گھر کا حساب کتاب بھی صحیح ہوگیا۔

میں بڑی لڑکی تھی۔ میری پیدائش کے کچھ ہی دنوں کے بعدمیرے دادا دادی کی موت ہوگئی۔ زندگی اتنی ہی سادہ تھی۔ گھرسے سبزی کی دکان اور سبزی کی دکان سے گھر۔ میرے اماں باوا شریف لوگ تھے۔ ہم سب اپنے ابا کے کام میں ان کا ہاتھ بٹاتے۔ میں اسکول میں آگئی تو ابا کا حساب کتاب بھی لکھتی اور ہم بہنیں مل کر اماں کے ساتھ لہسن چھیلتے۔ چھلی ہوئی لہسن کے اچھے پیسے ملتے تھے۔ جتنا زیادہ لہسن ہم چھیلتے اتنے ہی پیسے اباجان سے ہمیں جیب خرچی ملتی تھی۔

میں پڑھنے میں بڑی تیز تھی۔ میرے ابا کہتے کہ مجھے ڈاکٹر بنائیں گے، خوب پڑھائیں گے۔ میں بھی ایسے ہی خواب دیکھتی مگر یہ سارے خواب ایک لمحے میں بکھر کر رہ گئے۔ وہ سب کچھ اتنی ہی جلدی ہوا تھا۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس دن کیا ہوا تھا۔ جمعے کا دن تھا، جمعے کو ابا نماز کے بعد دکان دوبارہ نہیں کھولتے تھے۔ مغرب سے تھوڑا پہلے ہی وہ سات آٹھ آدمی ہمارے گھر میں گھس آئے۔ ان کے ساتھ مسجد کے مولوی صاحب بھی تھے اور ہر ایک کے پاس اسلحہ تھا، پستول اور کلاشنکوف۔ مکمل طور پہ مسلح تھے وہ لوگ۔

میرے ماں باپ سے کہا گیا کہ ابھی وہ میرا نکاح شاہد سے پڑھوادیں تاکہ قانونی شادی کرکے میں رخصت ہوجاؤں۔ اگر نکاح پہ راضی نہیں ہوں گے تو مجھے اغوا کرلیا جائے گا۔ مولوی صاحب نے بھی یہی مشورہ دیا کہ عزت اسی میں رہ جائے گی کیوں کہ اسلحے کے آگے تو کسی کا بھی زور نہیں ہوتا ہے۔ اغوا سے بدنامی بھی ہوگی اورلڑکی اس قابل بھی نہیں رہے گی کہ کوئی اس سے شادی کرے۔ شاہد بندہ اچھا ہے۔ لڑکی کا بہت خیال رکھے گا۔ میرے شریف باپ نے کوئی حجت نہیں کی۔ میری ماں کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔ وہ کلاشنکوف کے سائے میں پتھرائی ہوئی آنکھوں سے سب کچھ دیکھتی رہی۔

پندرہ بیس منٹ کے اندر ہی ساری کارروائی ہوگئی تھی۔ مولوی صاحب نے نکاح پڑھایا۔ وہی لوگ مٹھائی لے کر آئے تھے جو سب کو کھانی پڑی۔ نکاح کو ہوئے کچھ منٹ ہی گزرے تھے کہ ایک ٹویوٹا کی وین بھی آگئی اور مجھے زبردستی رخصت کراکر وہ لوگ شاہد کے گھر لے آئے تھے۔ گھر سے نکلتے ہوئے میرے ابا اماں کو ان لوگوں نے صاف صاف بتادیا کہ اگر پولیس کوبتانے کی کوشش کی تو کسی کے ساتھ بھی اچھا نہیں ہوگا۔ تمہاری بیٹی کے ساتھ نہ تمہارے داماد کے ساتھ۔ اب قرآن و سنت کے مطابق سب کچھ ہوگیا ہے۔ مولوی صاحب نے کام آسان کردیا ہے، آپ لوگ بھی اسے آسان رکھیں۔

شاہد کے گھر میں کوئی نہیں تھا۔ اسی رات میں لڑکی سے عورت بن گئی۔ نہ مجھے کوئی دیکھنے آیا، نہ میرا رشتہ لگا، نہ میرے کپڑے بنے، نہ میری مہندی ہوئی، نہ میں نے چوڑیاں خریدیں، نہ ہی گہنوں کے لیے سنار کے پاس گئی، نہ ہی انگوٹھی پہنی، نہ ہی ابٹن لگا، نہ ڈھولک پیٹے گئے، نہ شادی کے گانے گائے گئے، نہ ہی انڈین فلموں کی دھنوں پہ چھوٹی بہنوں نے ڈانس کیا اور نہ ہی بارات آئی۔ صرف نکاح ہوا میری مرضی کے خلاف، رخصتی میرے ماں باپ کی مرضی کے خلاف اورپھر شاہد میری زندگی میں زبردستی گھس آیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •