’ویڈیو لیک‘ ہونے کے بعد کا منظرنامہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’احتساب کے عمل‘ کو کون متنازع بنا رہا ہے اور کیوں؟ حکومت پی ایم ایل (ن) کی نائب صدرمریم نواز کی جانب سے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی جاری کردہ ویڈیو کی تحقیقات اور فرانزک کرانے کا اعلان کر چکی ہے تو ایسا اُس وقت کیوں نہیں کیا گیا جب نیب چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی ویڈیو ایک ٹی وی چینل نے لیک کی تھی۔ پی ایم ایل (ن) کی اعلیٰ قیادت نے پارٹ ون جاری کرنے سے پہلے تمام مبینہ ویڈیوز کا جائزہ لیا ہو گا اور قانونی راستوں کے ساتھ ساتھ ممکنہ نتائج پر بھی غورکیا ہو گا۔

 جاوید اقبال اور ارشد ملک دونوں نے الزامات سے انکارکیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہی ویڈیو سوشل میڈیا پر دستیاب ہیں حتیٰ کہ پیمرا نے ایک بار پھراُن ٹی وی چینل کو نوٹسز جاری کیے ہیں، جنھوں نے ارشد ملک کی ویڈیو نشر کی۔ جاوید اقبال کے کیس میں ایک چینل کو 10 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا تھا۔ کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت مخالف مہم تیز کر دی ہے اور 25 جولائی کو الیکشن 2018 کو ایک سال مکمل ہونے پر یومِ سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔

 مریم نے نہ صرف اپنی سیاسی قسمت داؤ پر لگادی ہے بلکہ پارٹی کی مرکزی لیڈرشپ کی بھی جس میں پی ایم ایل(ن) کے صدر شہباز شریف بھی شامل ہیں جنھوں نے بظاہر اُن کے خیالات کی توثیق کی ہے۔  ذرائع نے بتایا کہ پریس کانفرنس میں ویڈیو جاری کرنے کا فیصلہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا جبکہ کچھ پارٹی رہنماؤں نے قبل از وقت ویڈیو جاری کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا اور انھیں ممکنہ نتائج کے بارے میں خبرداربھی کیا۔

جاوید اقبال، جنھوں نے متعلقہ کالم نگار کے خلاف کوئی قانونی راستہ اختیار نہیں کیا تھا اور وہ تاحال اپنے انٹرویو پرقائم ہیں، ان کے برعکس جج ارشد ملک نے نہ صرف معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو ایک خط لکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

 تاہم ارشد ملک کے پی ایم ایل (ن) اور سابق وزیراعظم نواز شریف پر اپنے حق میں فیصلہ لینے کے لئے رشوت کی پشکش کرنے اورسنجیدہ نوعیت کی دھمکیاں دینے کے الزامات کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے اوراس سے چند سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔  کچھ قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے ارشد ملک تک رسائی حاصل کی تو انھوں نے اس وقت کیوں ان کے خلاف کارروئی نہیں کی۔ انھوں نے اپنی زندگی کو لاحق خطرات سے متعلق اتھارٹیز کو کیوں نہیں بتایا۔

 مریم نواز اور پی ایم ایل(ن) نے ابھی تک کوئی اعلان نہیں کیا کہ کیا وہ اس ویڈیو کو جمع کرائیں گے یا نہیں لیکن انھوں نے اسے جاری کرنے سے قبل شریف خاندان کے اہم وکیل خواجہ حارث سے قانونی رائے ضرور لی ہو گی۔ لہذا ایک بات یقینی ہے کہ یہ معاملہ جلد ختم نہیں ہو گا۔ یا تو اس کا فیصلہ شریف اور مریم کی اپنی سزاکے خلاف اپیلوں سے قبل ہو گا یا اپیل کے دوران ہی ہو جائے گا۔  ’نواز کی رہائی‘ کے لئے مریم نے اپنی مہم شروع کر دی ہے اور منڈی بہا الدین میں عوامی جلسہ بھی کیا جس میں اعلان کیا کہ جج کی ویڈیو کے بعد نواز کے خلاف ان کا فیصلہ کالعدم قراردیا جانا چاہیے۔

 پی ٹی آئی حکومت اس حوالے سے فیصلہ کر چکی ہے کہ ارشد ملک کو بچانا ہے اور وزیرِ قانون اور وزیرِ اطلاعات دونوں نے مریم نواز اور پی ایم ایل (ن) کی قیادت کوثابت نہ کرنے کی صورت میں نتائج سے خبردارکیا ہے۔  لیکن نیشنل اکاؤنٹیبلیٹی پر وزیراعظم کے ساتھی شاہزیب اکبر نے اپنی میڈیا سے گفتگو میں درمیانی راستہ اختیار کیا ہے۔  جب انھوں نے ویڈیو کے مواد پر شکوک کا اظہار کیا اور تجویز دی کہ مریم کو عوامی راستے کی بجائے عدالتی راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔

 ان کا ماننا ہے کہ جج کو بھی خود کو صاف کرنا چاہیے۔  ایک ٹی وی ٹاک شومیں انھوں نے کہا، ”اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو جب تک میں خود کو صاف نہ کرا لیتا تب تک اپنا کام روک دیتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ چند ہفتوں میں جو کچھ ہوا اس سے احتساب کے عمل پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔  یہ سب چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے ایک معروف کالم نگار کے ساتھ انٹرویوسے شروع ہوا تھا۔ اپنے یکے بعد دیگرے دو کالموں میں انھوں نے نیب سربراہ کے ساتھ اپنی ملاقات سے پردہ اٹھایاتھا جو ان کے مطابق ’آن دی ریکارڈ‘ اور آف دی ریکارڈ ’دونوں ہی تھیں۔

 (بشکریہ جنگ)

 

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •