’انڈین فوجی افسران کو غیر فوجی سوشل میڈیا گروپ چھوڑنے کا حکم‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واٹس ایپ

Getty Images
نئی پالیسی میں انڈین افسران سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اہلخانہ کو بھی ان کے بارے میں معلومات شیئر کرنے سے باز رکھیں

انڈیا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق انڈین فوج نے اپنے افسران کو کسی بھی ایسے سوشل میڈیا گروپ کا حصہ بننے سے روک دیا ہے جس میں حاضر سروس اہلکاروں کے علاوہ کوئی بھی موجود ہو۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق فوج کی جانب سے یہ حکم گذشتہ ماہ جاری کیا گیا جس میں تمام حاضر سروس افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر ایسے گروپوں سے علیحدگی اختیار کر لیں جن کے ارکان میں ایسا کوئی بھی فرد موجود ہے جس کا تعلق فوج سے نہیں یا جس کے بارے میں تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

یہ بھی پڑھیے

فوجیوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے میں کیا قباحت ہے؟

نیوز اور میڈیا میں واٹس ایپ کا بڑھا ہوا رجحان

جاسوسی کے شبہے میں انڈین گروپ کیپٹن گرفتار

جعلی خبروں سے کیسے نمٹا جائے؟

اس حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس حکم کا اطلاق ایسے گروپوں پر بھی ہوتا ہے جن میں ریٹائر فوجی اہلکار شامل ہیں اور حاضر سروس افسران اب ایسے گروپوں کا حصہ بھی نہیں بن سکتے۔

خیال رہے کہ رواں برس جنوری میں پاکستانی فوج نے بھی اپنے اہلکاروں کو اپنے واٹس ایپ گروپس بند کرنے یا ان سے نکل جانے کو کہا تھا۔

اس کے علاوہ فوج کے تمام حاضر سروس افسران کو مبینہ طور پر متنبہ بھی کیا گیا تھا کہ اگر انھوں نے تمام واٹس ایپ گروپس سے قطع تعلق نہ کیا تو ان کے خلاف انضباطی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

پاکستانی فوج کے حکام کی جانب سے اس وقت کہا گیا تھا کہ یہ خیال درست نہیں کہ فوج اپنے ارکان کا سوشل میڈیا استعمال ترک کروانا چاہتی ہے بلکہ فوج کی جانب سے اپنے ارکان کو اس سلسلے میں ادارے کی پالیسی پر عمل کرنے اور سوشل میڈیا پر محتاط رہنے کو کہا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی حکم پر عمل نہ ہونے کی صورت میں انضباطی کارروائی کسی بھی ادارے میں قواعد و ضوابط کا حصہ ہوتی ہے اور اس معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔

انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق انڈین فوجیوں کے لیے حکم نامے میں اس فیصلے کی وجہ سکیورٹی بتائی گئی ہے اور نئی پالیسی میں افسران سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اہلخانہ کو بھی ان کے بارے میں معلومات شیئر کرنے سے باز رکھیں۔

بپن راوت

Getty Images
انڈین فوج کے سربراہ نے پاکستان پر اپنے فوجیوں کو دھوکے سے نشانہ بنانے کا الزام لگایا تھا

انڈین ایکسپریس کے مطابق فوج کی جانب سے یہ قدم غیر ملکی خفیہ اداروں کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مدد سے معلومات جمع کرنے کی کوشش کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

تاہم اس صورتحال کے برعکس انڈین فوج کے ایک افسر نے انڈین اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بظاہر تنقید روکنے کے لیے اٹھایا گیا قدم لگتا ہے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق مذکورہ فوجی افسر کا کہنا تھا کہ ’اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ فوج میں پائی جانے والی بےچینی کو ریٹائرڈ فوجی ہوا دے رہے ہیں کیونکہ ریٹائرڈ افسر اکثر ان گروپوں میں کھل کر بات کرتے ہیں۔‘

اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انڈین فوج کے سابق افسر کرنل دنویر سنگھ کا کہنا تھا کہ ’یہ بات درست ہے کہ ہر ادارے میں چند کالی بھیڑیں ہوتی ہیں جو قانون کو توڑ پر اپنا راستہ نکالتے ہیں لیکن اس کے لیے سب کو ذمہ دار قرار دینا مناسب نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حاضر سروس اہلکاروں کی سوشل میڈیا گروپس میں شمولیت پر پابندی لگانے کے فیصلے پر سابق فوجی اہلکاروں میں کافی تشویش ہے کیونکہ فوج کہیں کی بھی ہو جب آپ حاضر سروس ہیں تو وہ بات نہیں کہہ سکتے جو ریٹائرمنٹ کے بعد کہہ سکتے ہیں۔

’آج کے انفارمیشن کے دور میں آپ کسی بھی ادارے کو تغلی فرمان اور اپنی ذاتی منشا سے نہیں چلا سکتے۔ آپ کو اس کی گہرائی میں جانا پڑے گا اور ایسے فیصلہ کرنے ہوں گے جو سب کو قابل قبول ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے فوجی سربراہ کو ایسا لگتا ہے کہ سابق فوجیوں کی رائے سے ان کے فیصلے متاثر ہو رہے ہیں۔‘

اس سوال پر کہ کیا اس فیصلے کو اظہار رائے کی آزادی پر قدغن قرار دیا جا سکتا ہے، کرنل رنویر سنگھ کا کہنا تھا کہ ’بالکل کہیں نہ کہیں قدغن ضرور ہے، اس سے فوج کو فرق پڑتا ہے۔ اس سے فوج کے مورال پر تو فرق نہیں پڑتا لیکن یہ واضح ہو جاتا ہے کہ فوجی سربراہ اور عام سپاہی میں کہیں نہ کہیں رابطے کا فقدان ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس سے یہ بھی تاثر ملتا ہے کہ فوجی سربراہ کو زمینی حقیقت کا علم نہیں یا ایسے کہا جائے کہ ان کی فوج کی نبض پر مضبوط گرفت نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ رواں برس کے آغاز میں ایک انڈین سپاہی کو مبینہ طور پر فوجی راز فراہم کرنے کے الزام میں حراست میں لیے جانے کے بعد انڈین فوج کے سربراہ بپن راوت نے ایسے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ دھوکہ دہی کے ایسے متعدد واقعات سامنے آ رہے ہیں جس میں انڈین فوج کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور انھوں نے اس کے لیے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔

مذکورہ انڈین فوجی سومبیر سنگھ نے فیس بک پر’انیکا چوپڑا’ کے نامی ایک صارف سے دوستی کر لی تھی جو خود کو انڈین فوج کے میڈیکل شعبے سے وابستہ ظاہر کر رہی تھیں۔

پولیس حکام کے مطابق ان دونوں نے کئی قابل اعتراض پیغامات اور تصاویر کا تبادلہ کیا اور بعد میں سومبیر سنگھ سے رشوت دے کر فوجی راز اگلوانے شروع کر دیے گئے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10747 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp