حکومت کی انتظامی اور اقتصادی پالیسیوں کے ابہام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکمت تدبر، فراست اور زمینی حقائق سے آگہی سے محروم جو ٹولہ حکومت کی تہمت لیے اپنے لیے تو جو کررہا ہے سو کررہا ہے اس کی مشقِ سیاست میں وطنِ عزیز کی عوام کے مسائل میں کمی ابھی تک دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ ابہام اور تذبذب کی جو کیفیت حکومت کے انتظامی اور اقتصادی فیصلوں سے پیدا ہورہی ہے، اس کا ادارک حکومت کو نہیں ہے۔ ملک کی بگٹرتی ہوئی اقتصادی صورتحال پر کسی ایک حکومتی ترجمان اور نمائیندے سے سنجیدہ گفتگو کی بجائے جگتیں اور پھکڑ پن سننے کو ملتا ہے۔ گزشتہ حکومتوں کی لوٹ مارکی مبالغہ آمیز داستانیں اور سیاسی مخالفین پر ذاتی حملے اس حکومت کے نظریاتی بانجھ پن کی مکمل عکاسی کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کے فیصلوں اور ان کے بلند و بانگ دعوں کی فہرست ہی مرتب کی جائے تو ایک ضخیم کتاب بن سکتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل وفاقی حکومت نے کراچی میں جناح اسپتال، قومی ادارہ امرضِ قلب اور این آئی سی ایچ کو حکومت سندھ کے انتظام سے لے کر خود چلانے کا فیصلہ کیا۔ جس پر حکومت سندھ کا کافی سخت ردِ عمل سامنے آیا جس کے جواب میں حسب روایت حکومتی ترجمان بے پر کی گفتگو سے وفاق کے فیصلے کا دفاع کرتے رہے۔ لیکن گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہی وفاقی کا بینہ نے متفقہ طور پر ان اسپتالوں کو فنڈز کی کمی اور سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر ان اسپتالوں کا انتظام چلانے سے معذرت کرلی۔

وفاقی حکومت کے اس فیصلے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دیگر فیصلوں کی طرح یہ فیصلہ بھی جلد بازی اور جامع منصوبہ بندی کے بغیر کیا گیا تھا۔ صحت پر وفاق کی کارکردگی کا یہ حال ہے کہ تین ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے ابھی تک وزیراعظم کے احکامات کے باوجود قیمتوں کے تعین اور برآمدات میں اضافے کے لیے نئی ڈرگ پرائس پالیسی نہیں بنائی جاسکی ہے۔ اس حوالے سے جو تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس کے ارکان میں مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، مشیر تجارت رزاق داؤد اور سابق وفاقی وزیر عامر کیانی شامل ہیں۔ اگر ڈاکٹر عشرت حسین اور رزاق داؤد جیسی تجربہ کار شخصیات یہ کام نہیں کرسکی ہیں تو باقی کا اللہ ہی حافظ ہے۔

بجٹ 2019۔ 20 میں تاجروں کے لیے جنرل سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ پہلی جولائی سے کاروباری افراد کی بڑی تعدا د نے ایف بی آر کے ریجنل ٹیکس آفس کا رخ کیا۔ لیکن وہاں پہنچنے پر یہ بتایا گیا کہ اب جنرل سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کی ذمہ داری ایف بی آر کی بجائے نادرا ادا کرے گا۔ جب نادرا کے دفاتر کا رخ کیا گیا تو نادرا کا تمام عملہ اس فیصلے سے لاعلم تھا۔

اس کے بعد جب دوبارہ ایف بی آر کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تو سننے کو ملا ہے کہ ایک تجویز تو آئی تھی کہ سیلز ٹیکس رجسٹریشن کی ذمہ داری نادرا کرے گا لہذا ایف بی آر نے اس حوالے اپنا کام روک دیا گیا ہے۔ ایف بی آر کی ہیلپ لائن پر کال کی جائے تو سننے کو ملتا ہے کہ انتظار کرے اس حوالے سے نظام بنایا جارہا ہے۔ سبحان اللہ۔ ایک طرف جنرل سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے جس کے بعد فیکٹریاں غیر رجسٹرکو اپنا مال فروخت نہیں کررہی ہیں اور اگر کررہی ہیں تو تین فیصد زیادہ سیلز ٹیکس کے ساتھ جس کے سبب مارکیٹ کی مسابقت میں تین فیصد اضافی قیمت کے ساتھ مہنگا مال بیچنا ناممکن ہے۔ بجائے اس کے کہ ایف بی آر ہر بازار میں سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کے لیے کاؤنٹر قائم کرتی انہوں نے چلتے کام میں بھی رکاوٹ پیدا کردی۔ جس ملک میں تجارتی سرگرمیوں میں کمی پیدا ہوچکی ہے۔

سیمنٹ، اسٹیل، چینی اور ٹیکسٹائل سمیت دیگر ملوں سے وابستہ ڈسٹری بیوٹرزنے یکم جولائی سے مال اٹھانا بند کردیا ہے۔ صرف سیمنٹ کی فروخت میں ایک لاکھ بیس ہزار ٹن کی یومیہ کمی آئی ہے جس سے حکومت کو ایکسائز ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس کی مد میں ملنے والی رقم میں ساڑے چار ہزار ارب روپے کمی آئی ہی ہے۔ کم ترسیل سے ان مصنوعات کے چھوٹے دکانداروں اور مزدوروں کے گھروں کے چولہے بھی بجھ گئے ہیں۔ ہفتے کے روز چئیرمین ایف بی آر نے لاہور میں تاجر تنظیموں سے ملاقات کی اور خریدار ی کے لیے کے شناختی کارڈ کی شرط کو ختم کرنے کا عندیہ دیا۔

جس کے بعد فیکٹریوں سے مال کی ترسیل شروع ہوگئی۔ لیکن فیصل آباد میں ایف بی آر کے چئیرمین نے تاجروں سے ملاقات میں فرمایا کہ خریداری کے لیے شناختی کارڈ کی شرط پر تاجروں کی ہڑتال کا جواب عوام دیں گے۔ یعنی پھر وہی ابہام اور غیر یقینی۔ اسی طرح ٹیکس کے نظام کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ انکم ٹیکس کے وکیل حضرات بھی ابھی تک گومگو کی کیفیت میں ہیں۔

عید کی تعطیلات کے بعد ہی وفاقی وزارت مواصلات کے ایماء پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ایک ایسے قانون کا نفاذ کردیا جس سے ملک میں تجارتی سامان کی ترسیل کی لاگت میں تقریبا تیس سے چالیس فیصد اضافہ ہوگیا ہے اور ظاہر ہے اس اضافے کا براہ راست بوجھ بھی پاکستان کے عوام ہی پر پڑا۔

حکومت نے این ایچ اے کے ذریعے ایکسل لوڈ کے قانون پرسختی سے عمل کروانے کا فیصلہ کیا۔ یعنی قومی شاہراہوں پر جو دس وہیلر ٹرک پہلے 35 ٹن وزن کا سامان اٹھاتا تھا۔ این ایچ اے کے اس فیصلے کے بعد اب وہ ٹرک سترہ ٹن کا وزن اٹھانے کا پابند ہوگا۔ این ایچ اے کے اس فیصلے سے ان تمام کمپنیوں نے جن کے سامان کی ترسیل میں این ایچ اے کے وزن کے کانٹے آتے تھے انہوں نے ٹرانسپورٹروں کے مطالبے پر تقریبا پچاس فیصد کرایوں میں اضافہ کیا تھا۔ اسی طرح جو مزدور تجارتی سامان کو ٹرکوں سے اتارنے کا کام کرتے تھے انہوں نے بھی اپنی مزدوری میں اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

این ایچ اے کے اس فیصلے سے بڑھنے والے اخراجات کی وجہ سے روز مرہ کی اشیاء میں کافی حد تک اضافہ ہوا تھا۔ حکومت نے جب محسوس کیا کہ اس فیصلے پر ردِ عمل کافی سخت ہے اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہورہا ہے تو اس فیصلے کو نوے روز کے لیے مؤخر کردیا گیا۔ لیکن چوں کہ اس فیصلے کے نتیجے میں یک دم ملک میں ٹرانسپورٹ کی قلت پیدا ہوگئی تھی اور ٹرانسپورٹر حضرات کی چاندی ہوگئی تھی کہ ان کو پہلے جو کرایہ پینتیس ٹن کے وزن پر ملتا تھا اب وہ 17 ٹن کے وزن پر ملنا تھا اور اخراجات بھی کم ہوگئے تھے۔ ٹرانسپورٹ کی تنظیموں نے نوے روز کی مؤخری کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کردی، جس پر ہائی کورٹ نے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے دس جولائی سے ایکسل لوڈ کے قانون کا نفاذ کردیا ہے۔ اس حوالے سے ایک بار پھر ابہام کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

انتظامی معاملات ہوں یا معاشی پالیسیاں حکومت کی کوئی واضح اور ٹھوس پالیسی نہیں ہے۔ ملک کی تجارتی اور معاشی سرگرمیاں اس وقت ابہام اور تحفظات کے سبب جمود کا شکار ہیں جس سے ملک کا مزدور طبقہ اور چھوٹے درجے کے تاجر اور دکاندار سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ عذرا وحید صاحبہ کا کیا خوب شعر ہے کہ:

آگہی نے دیے ابہام کے دھوکے کیا کیا
شرح الفاظ جو لکھی تو اشارے لکھے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •