’’ایک نظم کیا کر سکتی ہے؟‘‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مہمان ایک ایک کرکے رخصت ہوگئے تو میزبان کو یاد آیا کہ وہ بات تو بیچ ہی میں رہ گئی جس کے لیے اس نے اس تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ سوموار کی شام عطاء الحق قاسمی صاحب کی کال آئی، کل ایک بجے ”معاصر‘‘ کے دفتر آ جائو، کچھ دوستوں کو لنچ پر بلایا ہے، گپ شپ بھی ہو جائے گی۔ کوئی پچیس، تیس سال پہلے کی بات ہے، انہوں نے معاصر کے نام سے سہ ماہی ادبی جریدے کا آغاز کیا تھا، پاکستان سے باہر بھی ”اردو بستیوں‘‘ میں جسے اپنا مقام بنانے میں دیر نہ لگی۔
ہندوستان میں بھی اردو کے شعری و ادبی حلقوں میں اس کا ذکر ہونے لگا۔ محمد طفیل کے ”نقوش‘‘ کی طرح عطاء الحق قاسمی کے ”معاصر‘‘ کو بھی اردو کے ممتاز شاعروں اور ادیبوں کی ”سرپرستی‘‘ حاصل ہو گئی، شاید ہی کوئی بڑا ادبی نام ہو جس کا شہ پارہ معاصر میں شائع نہ ہوا ہو۔ قدرت اللہ شہاب کے شہاب نامے کا پہلا (غیر مطبوعہ) باب بھی معاصر کو چھاپنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ تب عطاء الحق قاسمی علامہ اقبال ٹائون کے جہانزیب بلاک میں رہتے تھے اور شعروادب کے فروغ کا یہ کارِ خیر بھی وہیں سے شروع ہوا۔
پھر ہماری بھابھی صاحبہ نے شارع فاطمہ جناح کے پہلو میں وارث روڈ پر ایک چھوٹا سا دفتر 8 لاکھ روپے میں قسطوں پر لیکر ”معاصر‘‘ کے لیے گفٹ کر دیا۔ وزیر اعظم عمران خان کے اعلان کردہ گوشواروں کے مطابق بنی گالہ کی 300 کنال کی رہائش ”گفٹڈ‘‘ ہے۔ ایک کالج میں پروفیسری سے ریٹائر ہونے والی خاتون اپنے شریک حیات کو قسطوں پر لیا ہوا آٹھ لاکھ کا دفتر ہی گفٹ کر سکتی تھی۔
یہ شہر میں عطا کا ادبی ڈیرہ بھی تھا۔ اور اس چھوٹے سے دفتر کو بڑے بڑے لوگوں کی آمد کا شرف بھی حاصل ہے۔ عطا نوائے وقت چھوڑ گئے تھے، اس کے باوجود انہوں نے جب بھی دعوت دی، نظامی صاحب مرحوم کشاں کشاں چلے آئے۔ ایک بار میاں نواز شریف بھی آئے۔ یہ ان کے تیسری بار وزیر اعظم بننے سے پہلے کی بات ہے۔ مہمانوں میں جناب ایاز امیر بھی تھے جو ان دنوں مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی بھی تھے، جس طرح گزشتہ روز ایاز امیر صاحب نے خود لکھا کہ انہوں نے جتنی بھی سیاست کی، نون لیگ کے پلیٹ فارم پر کی۔
1997 میں نون لیگ کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اکتوبر 2002 کے الیکشن میں وہ ہزار، بارہ سو ووٹوں سے قومی اسمبلی کا الیکشن ہار گئے فروری 2008 کے الیکشن میں ان کے پاس پھر نون لیگ کا ٹکٹ تھا اور اس بار وہ بڑے زوروشور سے منتخب ہو گئے۔ ”معاصر‘‘ کے دفتر میں لنچ پر، میاں صاحب کا ایاز امیر سے مصافحہ بڑا پُرجوش تھا۔ ان کا کہنا تھا، میں آپ کے کالم بڑے اہتمام سے دیکھتا ہوں۔
یہ نواز شریف کی تیسری وزارتِ عظمیٰ کا آغاز تھا اور عطاء الحق قاسمی ان لوگوں میں سے تھے جن کا خیال تھا کہ جنرل مشرف پر مقدمہ، وزیر اعظم کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے کالموں میں بھی، دو تین بار یہی بات لکھی، پھر ایک دوپہر ایسا ہوا کہ معاصر کے دفتر کا دروازہ کھلا اور وزیر اعظم داخل ہوئے۔ وہ کسی پروٹوکول اور سکیورٹی کے بغیر خود گاڑی ڈرائیو کرکے چلے آئے تھے۔ وہ کافی دیر بیٹھے رہے۔
ادھر اُدھر کی سو باتیں ہوئیں، لیکن مقدمے کی بات سے گریز ہی کیا، خود عطاء نے بھی اسے چھیڑنا مناسب نہ سمجھا۔
منگل کی دوپہر یہاں کوئی ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ مہمان موجود تھے(کہ یہاں اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں) ان میں نوید چودھری، حسین احمد شیرازی اور ہمارے سوا، تقریباً سبھی شاعر تھے۔ شاعر تو ایک آدھ بھی مان نہیں ہوتا اور یہاں تو اتنے سارے تھے، ویسے بھی کھانا آنے میں دیر تھی؛ چنانچہ ظہرانہ، مشاعرہ کی صورت اختیار کر گیا۔ قاسمی صاحب کا کہنا تھا کہ ان کا شعری ذوق خاصا اچھا ہے؛ چنانچہ انہیں اپنے شعر یاد نہیں رہتے۔ انہوں نے اپنی پرانی غزل سنائی جس کے ان دو اشعار کے بغیر ”خادمِ پنجاب‘‘ کی تقریر مکمل نہ ہوتی تھی ؎
خوشبوئوں کا اک نگر آباد ہونا چاہیے
اس نظامِ زر کو اب برباد ہونا چاہیے
ظلم بچے جَن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہیے
دیگر شعرا کے کلام سے انتخاب:
اس لیے بھی کوئی تریاق نہیں ہم نے پیا
ہم کو ہر دم ترا بیمار پکارا جائے
ہم نے مانا کہ کہاں لوٹتی ہے، عمرِ رواں
دل کے بہلانے کو اک بار پکارا جائے
…… وصی شاہ
اپنے بچپن کے بھی اور جوانی کے بھی
کچھ بزرگوں نے ہی کر دیئے فیصلے
جب رہائی ہماری قریب آ گئی
پھر سنائے گئے کچھ نئے فیصلے
…… حسن عباسی
چار دن رہ گئے میلے میں، مگر اب کے بھی
اس نے آنے کے لیے خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے
تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلہ کچھ بھی نہیں
…… ڈاکٹر ا ختر شمار
دھوپ کو دیتے ہیں تشبیہ گھنی چھائوں سے
بات کیا کوئی کرے آج کے دانائوں سے
اپنے ماں باپ کو چھوڑ آئے وہاں کیوں ناصر
ویسے ہر چیز اٹھا لائے ہو تم گائوں سے
…… ناصر بشیر
نشتر لگا رہا ہوں کہ آزاد پھر سکے
دل کی رگوں میں میرا لہو قید ہو گیا
دامانِ تار تار لئے پھر رہے ہیں لوگ
جو شخص جانتا تھا رفو، قید ہو گیا
…… باقی احمد پوری
یہ چہرے اس لیے سہمے ڈرے ڈرے ہوئے ہیں
کہ ان کے سامنے آئینے پڑے ہوئے ہیں
ہوا کی سر پھری باتوں کا تو یقین نہ کر
میاں چراغ ابھی تک مرے جلے ہوئے ہیں
…… کیپٹن عطاء محمد خان
میں نے ہی ڈھیل دی ہے شب و روز کو ذرا
اے گردشِ دوام تیری کیا مجال ہے
…… خالد شریف
سائے کی طرح میں بھی گھر کو لوٹنا چاہوں
مجھ کو تیرے کوچے میں شام ہو گئی جاناں
آسماں پہ اک چہرہ ہو گیا شفق آلود
دیکھ اس دریچے میں شام ہو گئی جاناں
…… عزُیر احمد
ابرار ندیم کی پنجابی غزل سے دو اشعار:
اجے نہ رشتے توڑ توں سارے
اجے گزارا ہو سکدا اے
پھول نہ پچھلے کھاتے سارے
ہور کھلارا ہو سکدا اے
جناب اصغر ندیم سید کی نظم ”ایک نظم کیا کر سکتی ہے‘‘؟ کے آخری چند مصرعے:
اتنے بہت سے جھگڑے اور اتنی بہت سی محبتیں
ایک نظم میں نہیں آ سکتیں
کہ نظم تو پرندے کی اڑان جیسی ہوتی ہے
کہ نظم تو ایک قیدی کی تنہائی جیسی ہوتی ہے
لیکن کبھی کبھی ایک نظم اتنی طاقتور ہو جاتی ہے
کہ ایک ظالم بادشاہ کے سامنے ڈٹ جاتی ہے
خود نہیں مرتی‘اسے مار دیتی ہے
اور وہ ایک بات، جو میزبان مہمانوں کو بتانا بھول گیا تھا، ”معاصر‘‘ کے احیا کی بات تھی، طویل تعطل کے بعد ”معاصر‘‘ پھر آرہا ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •