ویڈیو سکینڈل: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کر دی

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورٹ

Getty Images

اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد اُنھیں ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے وزارتِ قانون کو خط لکھ دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ترجمان کے مطابق جمعے کے روز وزارتِ قانون کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر دو کے جج ارشد ملک کی خدمات فوری طور پر واپس لی جائیں۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے گذشتہ برس سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں سات برس قید کی سزا سنائی تھی۔

ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد احتساب عدالت کے جج متنازعہ ہو گئے تھے تاہم موجودہ وفاقی حکومت مذکورہ جج کے دفاع میں پہلے سامنے آئی اور پھر اُنھوں نے سپریم کورٹ سے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی استدعا کی۔

احتساب عدالت نمبر دو کے جج ارشد ملک نے جمعے کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار سے ملاقات کی اور اُنھیں منظرعام پر آنے والی ویڈیو کے بارے میں اپنے موقف سے آگاہ کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ترجمان کے مطابق ارشد ملک نے اس ضمن میں اُنھیں اپنے موقف پر ایک بیان حلفی دیا جس میں انھوں نے ان ویڈیوز کی تردید کی اور کہا کہ اس طرح کی ویڈیو نہ صرف ایڈیٹ کی گئی ہیں بلکہ ان کی شہرت کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی کے ساتھ سات جولائی کو اس ویڈیو سے متعلق جاری کی گئی اپنی پریس ریلیز کو بھی لف کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ترجمان کے مطابق عدالتِ عالیہ کے رجسٹرار اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے احتساب عدالت کے جج کے بیان کا جائزہ لینے کے بعد وزارتِ قانون کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا جس میں بطور جج احتسا ب کورٹ ارشد ملک کی خدمات فوری طور پر واپس لینے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے علاوہ منی لانڈرنگ کے اہم مقدمات کی سماعت بھی ارشد ملک کی عدالت میں ہو رہی ہے۔

’نواز شریف کو سزا دینے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے‘

پاکستان مسلم لیگ نون کی ترجمان مریم اورنگزیب نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف العزیزیہ سٹیل ملز فیصلے کو بھی کالعدم قرار دیا جائےاور فوری رہا کیا جائے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ آج کا اقدام اس بات کا مظہر ہے کہ وڈیو اصلی ہے۔ جب کے اس ویڈیو میں جج صاحب نے تسلیم کیا ہے کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ دباؤ میں دیا گیا تھا اور اسی لیے اس فیصلے کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔’جج کو ہٹانے کے بعد نواز شریف کے خلاف فیصلہ کی قانونی حیثیت بھی خود بخود ختم ہو گئی ہے۔ جج کو ہٹانے سے ثابت ہو گیا ہے کہ مریم نواز جو حقائق عوام کے سامنے لائیں وہ درست ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10414 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp