روسی میزائل نظام کی خریداری، ترکی امریکہ تعلقات کا امتحان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایس چار سو دفاعی میزائل نظام

Getty Images
روسی میزائل نظام ترکی کے علاوہ ایران اور انڈیا بھی خرید رہا ہے

ترکی نے امریکہ کی طرف سے شدید مخالفت کے باوجود روسی ساخت کے ایس چار سو فضائی دفاع کے میزائل نظام کے کچھ حصہ وصول کر لیے ہیں۔

ترکی کی وزارتِ دفاع کے مطابق روسی میزائلوں کے نظام کے چند حصوں پر مشتمل کھیپ جمعہ کو ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ایک ہوائی اڈے پر وصول کی گئی۔

مزید پڑھیے:

ترکی کی روس کے ساتھ ایس 400 کی ڈیل پر امریکہ پریشان

ترکی نے دو امریکی وزیروں کے اثاثے منجمد کر دیے

امریکی حملہ: برطانیہ اور ترکی کی حمایت، ایران کی مذمت

ترکی کی طرف سے ان میزائلوں کے حصول سے امریکہ اور ترکی کے تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ امریکہ نے ترکی کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے روس سے یہ میزائل نظام حاصل کیا تو وہ ترکی کو ایف 35 طیاروں کی ترسیل روک دے گا۔

ترکی اور امریکہ دونوں شمالی بحیرہ اوقیانوس کے ملکوں کے اتحاد نیٹو کا حصہ ہیں لیکن گزشتہ چند برس سے ترکی روس سے بھی بہتر دفاعی اور معاشی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ترکی نے امریکہ سے ایف35۔ لڑاکا طیارے خریدنے کا معاہدہ کر رکھا ہے اور ان طیاروں کی خریداری میں کافی سرمایہ بھی لگا چکا ہے۔

امریکی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ امریکی ساخت کے ایف 35۔ طیارے اور روسی ساخت کے ایس چار سو میزائلوں کو ایک جگہ رکھا جائے۔ ان کا کہنا ہے اس طرح روسی دفاعی ماہرین کو امریکی طیاروں کی تمام خامیوں اور خوبیوں کا علم ہو جائے گا۔

اس صورت حال سے لگ رہا ہے کہ امریکہ اور نیٹو کے ایک اہم اتحادی ملک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو جائیں گے۔ نیٹو کے اتحاد میں شامل کسی رکن ملک کی طرف سے روسی ساخت کے ہتھیاروں کی خریداری ایک انتہائی غیر معمولی اقدام ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

امریکہ نے پہلے ہی ترکی کو ایف 35۔ لڑاکا طیاروں کی ترسیل روک دی ہے اور اس معاہدے کے تحت امریکہ میں ترک ہوا بازوں کی تربیت کا پروگرام بھی بند کر دیا ہے۔

ترکی کو ایف 35۔ طیاروں کی تیاری اور مرمت کے پروگرام سے مکمل طور پر علیحدہ کرنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ ترکی ایف 35۔ طیاروں کے نو سو سے زیادہ پرزے ترکی میں تیار کر رہا تھا اس کے علاوہ آگے چل کر نیٹو کے رکن ملکوں کے زیر استعمال ایف 35۔ طیاروں کی مرمت کے لیے ترکی ایک بڑا مرکز بننے والا تھا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کو یقین ہے کہ امریکی وزارتِ دفاع کی طرف سے کچھ بھی کہا جاتا رہے صدر ٹرمپ کا رویہ اس معاہدے کی طرف اتنا منفی نہیں ہے۔

امریکہ اور ترکی کے تعلقات کے لیے یہ معاہدہ ایک بڑا امتحان ثابت ہونے والا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10441 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp