کچھ ذکر خاندان تیموریہ کے چراغ آخریں مرزا نظام شاہ لبیب تیموری کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اُردو شاعری کی روایت نئی نہیں۔ دو چار برس ایک طرف یہ ایک صدی کا قصہ بھی نہیں۔ ہزار سال گزر گئے۔ اس ہزاریے میں اس فن نے کتنی کروٹیں بدلیں۔غزل، مثنوی، قصیدہ، رباعی، شہرا ٓشوب، مرثیہ واسوخت سے ہوتے ہوتے پابند نظم، نظم معری، آزادنظم، نثری نظم اور پتا نہیں کتنی شکلوں میں شعرا نے اظہار کا وسیلہ تلاش کیا۔ اس سفر میں کتنے پیچ اور کتنے پڑاؤ آئے اس کا ہمیں انداز نہیں۔ کتنے نام جو اپنے زمانے میں چمکے اور پھر بجھ گئے۔ کتنے ایسے ہیں جن کی چمک آج تک ماند نہیں پڑی۔ قلی قطب شاہ، ولی، میر، غالب، اقبال ایسے نام ہیں جن کو ادا کیے بغیر سولہویں صدی سے لے کر کے بیسویں صدی تک غزل کا سفر بیان میں نہیں آسکتا۔

شاعری کے اس سفر میں راہ کی ایک نشانی مرزا نظام شاہ لبیب تیموری ( 1883ء_1946ء)ہیں۔ لبیب کا تعلق کا خاندان تیموریہ سے تھا۔ اس خانوادنے کے آخری تاج دار بہادر شاہ ظفر آپ کے اجداد میں سے تھے۔جو نصیبا مغل اپنے ساتھ لکھوا کے لائے تھے لبیب کے شعری فن کی روداد اس سے مختلف نہیں۔ ”آتشِ خنداں“ ان کے شعری مجموعے کا نام ہے۔ یہ مجموعہ 1960ء میں کراچی سے صنم کدہ نے شائع کیا۔ اس کتاب میں موجود غزلیں ( اگرچہ اس میں نظمیں، بچوں کے لیے نظمیں، گیت، نغمے ) موجود ہیں ایسی نہ تھیں کہ ان پر دھیان نہ دیا جاتا۔ شاید لوگوں تک پہنچی کم ہوں یا پھر ان پر توجہ کم دی گئی ہو۔ کچھ بھی ہو اایسا تو ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی ہنر کے ساتھ ایک فضلیت جڑی ہوئی ہے کہ خود کو منوا کے رہتا ہے۔ آپ یہ غزل پڑھیں اور محسوس کریں کہ کیسی قوتِ جاذبہ اس شاعر کے حصے میں آئی ہے۔

                        سیربین

آنسو ڈھلکا، ٹپ سے گرا، پھر جیسے وہ تو کچھ بھی نہ تھا

شعلہ بھڑکا، سرد ہوا، پھر جیسے وہ تو کچھ بھی نہ تھا

پھول کھلا انگارا سا اور چشم و چراغ باغ ہوا

کوڑا کرکٹ ہو کے گرا، پھر جیسے وہ تو کچھ بھی نہ تھا

بلبل کی دل دوز نوا سے کانپ اٹھا گلشن صحرا

احساس نے جونہی منہ پھیرا، پھر جیسے وہ تو کچھ بھی نہ تھا

ایک پرندے کا سایہ، جو سطح زمیں پر چلتا تھا

جب تھک کے پرندہ بیٹھ گیا،پھر جیسے وہ تو کچھ بھی نہ تھا

 بجلی چمکی، چھائی گھٹا اور چپے چپے مینہ برسا

دھوپ کھلی، سورج نکلا،پھر جیسے وہ تو کچھ بھی نہ تھا

دائم قائم دنیا ہے یہ چلتے پھرتے میلوں سے

آیا اک اور ایک گیا، پھر جیسے وہ تو کچھ بھی نہ تھا

دولت عزت، حسن جوانی، قوت علم اور عقل ہنر

سب کو چھوڑا چل نکلا، پھر جیسے وہ تو کچھ بھی نہ تھا

شب جو تار چھٹکا تھا، اور شمع بزمِ ناز رہا

وہ صبح سویرے ڈوب گیا، پھر جیسے وہ تو کچھ بھی نہ تھا

لبیب نے غزل کے اس نگارخانے کو رقصِ بے سرودکا نام دیا ہے۔ سیربین اس رقص کا پہلا بھاؤ ہے۔ پہلا خیال ردیف کی ندرت پر جاتا ہے۔ ردیف لمبی ہے۔ لمبی ردیف نبھانا ہاری ساری کا کام نہیں ہوتا۔ جب کوئی شاعر لمبی ردیف رکھتا ہے تو اس کے پاس بات کہنے کا مارجن کم ہوجاتا ہے۔ مصرعے کا آدھا حصہ ردیف کھا جاتی ہے لیکن یہاں ایسا نہیں۔ پھر جیسے وہ تو کچھ بھی نہ تھا، ہماری زندگیاں اس ردیف کی عملی تعبیریں ہیں۔ کچھ بھی ہوجائے، کچھ بھی بیت جائے دوسرے لمحے وہ ماضی بن جاتا ہے۔ اس میں نشاط اور کرب کی تخصیص نہیں۔ اس کے ماضی بننے پر حیرت نہیں، وہ تو فطرت کا اصول ہے۔ غم ا س بات کا ہے کہ ہم امور کے سرانجام دینے میں دوسرے کے احساس کا خیال نہیں رکھتے۔ایک بے حسی ہے جس کو اپنا وطیرا بنایا ہوا ہے۔ ہم آسانی سے دوسرے کے غم کو خوشی میں بدل سکتے ہیں۔ اپنی کسی ادا سے، کسی آواز سے، کسی دھن سے، کسی خیال سے، مگر ہم ایسا نہیں کرتے شاید اس سے ہماری شقی القلبی پر حرف آتا ہے۔

یہ کائنات لمحوں کی آرجار کا نام ہے۔ اس میں خوشی بھی ہے اور غم بھی، بلبل کی نوا بھی ہے اور قوسِ قزح کے رنگ بھی۔ بادل اور بارشیں انسانی باطن کے اندر کیسی کیفیت پید اکرتی ہیں۔ آپ آخری تین شعروں پر دھیان دیں۔ انسان جن چیزوں کو اپنی متاع بے بہاسمجھتا ہے اس کا انجام فنا ہے۔ پھر کیا اترانا، کیسا ناز کرنا۔ یہ اشعار ہمارے دھیان پر دستک دیتے ہیں۔ان میں بیداری پیدا کرتے ہیں ہمیں دھیان کی جوت جگانے کی دعوت دیتے ہیں۔ اور یہ جوت شاعر کے علاوہ اور کوئی جگا نہیں سکتا۔ شاعری سے علاجِ درد انساں کیا جاسکتا ہے اگر کہیں اس درد کا درماں موجود ہے تو وہ بلاشبہ شاعری، رقص، موسیقی، مصوری، فلم میں ہے۔ مگر ہم نے ان جملہ شعبوں سے متعلق لوگوں کو خود قابلِ علاج ٹھیرایا ہوا ہے۔ مجنون، مقہور، جہنمی جانے کیا کیا کہتے رہتے ہیں۔ جیسے خود جنت کے نقشے کے مرتب ہوں۔

لبیب کی شاعری محبت میں سپردگی کی بہترین مثال ہے۔ ان غزلوں کو پڑھ کر ایک ایسے شاعر کا نقشہ ذہن میں آتا ہے جس نے اپنے باطن کو اپنے محبوب کی اطاعت میں دے دیا ہو۔ اب یہ محبوب پر ہے کہ وہ اپنے مطیع کو کیسے سنبھالتا ہے۔

پیشِ نظر ہے عشق تو ہرگز دعا نہ مانگ

                                                قرباں ہو شمع حسن پہ اور خوں بہا نہ مانگ

ترک خودی کہ ترک خدا یا کہ ترکِ ترک

                                                عاشق ہے بے غرض تو کوئی مدعا نہ مانگ

آنکھوں ہی آنکھوں میں لب فریاد پیش کر

                                                کچھ بھی تو آشنا سے بجزآشنا نہ مانگ

عرضِ نیاز عشق میں ہر دم شہید رہ

                                                بندہ ہے تو، تو مرتبہ کبریا نہ مانگ

بے تابیاں ہیں آئینہ جنبشِ حیات

                                                ناسور دل کو چھیڑتا رہ اور شفا نہ مانگ

مصرعہ سازی میں تطبیق ملاحظہ کریں اور تراکیب میں لوچ۔ مصرعہ اولی میں ناز اور مصرعہ ثانی میں نیاز کی صورتیں دیکھیں۔ آپ کو شاعری علاجِ درد انساں بنتی نظر آئے گی۔ شاعردنیا کو حسن کی پناہ میں دینا چاہتا ہے جس کے لیے عرضِ نیاز عشق میں ہر دم شہید رہنا بہترین وظیفہ ہے۔ حسن کی پناہ سے بہتر کوئی پناہ نہیں۔ یہ ساری کائنات حسن کا پرتو ہے۔ حسن بے وجہ نفرت نہیں سکھاتا۔ آتشِ خنداں ایک وجودی انسان کا زندگی نامہ ہے۔ اس میں سمجھوتہ بہت کم نظرآتا ہے۔ لبیب نقشبندی تھے۔ یہ بڑا مختلف سلسلہ ہے۔ خواجہ بندہ نواز گیسو دراز، خواجہ میر درد کے والد، خواجہ میر درد، مرزا مظہر جانِ جاں سب نقشبندی تھے۔ یہ ذکر خفی کرتے ہیں۔ شریعت کے پابند ہوتے ہیں۔ کچھ قوالی سنتے ہیں کچھ نہیں سنتے۔ ایک بے ریائی ان کے حصے میں آئی ہے۔ جو جبوں قبوں اور دستاروں کی محتاج نہیں۔ لبیب اپنی زندگی میں درباروں سے دور رہتے تھے۔ ایک دفعہ نظام دکن تک لبیب کی غزل سرائی کی تعریف پہنچی۔ بلوا بھیجا۔ لبیب نے ہرکارے کو کہا فقیرانہ لباس میں آؤں گا۔ بادشاہ کو شرط منظور نہ ہوئی۔ ہرکارے نے بہتیر ا مائل کیا مگر حضرت نہ مانے۔ قلم نکالا اور یہ شعرلکھ بھیجا :

بادشاہ اپنے دل کا ہوں میں لبیب

خازن گنج کبریا ہوں میں

یہ لکھا اور لباس تبدیل کرنے لگے ہرکارہ سمجھا شاید ساتھ جانے کے لیے آمادہ ہوگئے ہیں مگر آپ اپنے مرشد احمد حسین شاہ بالیمین سے ملنے چلے گئے۔ شاہوں سے ملاقات اگر کوئی تج سکتا ہے تو وہ قلندر ہی تج سکتا ہے ورنہ تو قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ خیر اپنا اپنا نصیب ہے یا اس طرح کی غزلیں بچتی ہیں یا پھر شاہوں کے درباروں میں لُور لُور پھرنا بچتا ہے۔

یوں کیجیے زندگی کہ کسی کو خبر نہ ہو

یوں جان دیجیے کہ کوئی نوحہ گر نہ ہو

پائے نظر سے ہو جئے آوارہ وطن

وہ خاک اڑایئے جو کبھی دربدر نہ ہو

نالہ وہ کیجیے نہ لگے ٹھیس ضبط کو

سر کیجیے وہ آہ کہ جس میں شرر نہ ہو

چمکایئے وہ تیغ ستم جان زار پر

ہوجائے دل کا خون مگر چشم تر نہ ہو

وہ عقدہ کھولئے کہ ہو آزادگی نصیب

وہ نکتہ ڈھونڈیئے کہ محل نظر نہ ہو

رہیے اب اس مکاں میں نہ ہو جس میں کوئی سمت

چلئے اب اس طرف کو جدھر خیر و شر نہ ہو

وسواس گمرہی سے ہے خوف و رجا محیط

ورنہ مرے سفر کی کوئی رہ گزر نہ ہو

مکرِ نگاہ تنگ سے غرق گناہ ہیں

ورنہ کسی فریق کا دامن بھی تر نہ ہو

آوارہِ نظر ہوں وگرنہ تھی کیا مجال

ماتم ہو میرا اور مجھی کو خبر نہ ہو

آیا ہوں اک پہاڑ سا دن کرکے طے لبیب

اس شام رشکِ صبح کی یا رب سحر نہ ہو

زندگی کرنے کا کیسا انمول قرینہ ہے۔ آدمی دور بھی رہے اور پاس بھی ہو۔ ہر وقت کسی کو ڈھونڈتا پھرے اور ملنے پر ایک طرف ہو کے گزر جائے۔ صبر، قناعت، خاموشی کو اپنی زندگی کاحصہ بنالے۔ پھر چاروں طرفیں ایک بن جاتی ہیں۔ حیرت ہی تماشا ہوتی ہے اور حیرت ہی تماشائی۔ دین، دھرم ایک طرف ہوجاتے ہیں اور ہر طرف ایک ہی یاد کا اکتارہ بجتا ہے:

ہوں اس صنم کدے میں بھی میں ایک ہی لبیب

چاروں طرف سے آتی ہے اپنی صدا مجھے

کسے معلوم ہے اس جلوہ گاہِ ناز میں کیا ہے

کہ حیرت ہی تماشائی ہے حیرت ہی تماشا ہے

لبیب اس کافر مسلم نما کو جانتے سب ہیں

مگر وہ اپنی حد ذات میں پھر بھی معما ہے

یہ سوال باقی رہتا ہے کہ اپنے مطالب کو اتنی صفائی سے ادا کرنے اور زبان پر عبور رکھنے کے باوجود لبیب کو یاد کیوں نہیں رکھا گیا۔ ایک وجہ ان اشعار میں تصوف کی ایک زیریں لہر متحرک رہتی ہے۔ چوں کہ اب ان باریکیوں کو سمجھنے والے کم رہ گئے ہیں اس لیے لبیب کے کلام سے حظ اٹھانا مشکل ہو گیا ہے۔

دیکھا جہاں کو تو واں دل کے سوا کچھ نہیں

دل کوجو دیکھا تو ہے سارے جہاں پر سوار

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •