رانا ثنا اللہ کی کہانی اور حکومتوں کا سیاسی انتقام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان نہ سندھ کا وڈیرا ہے، نہ پنجاب کا چودھری یا جنوبی پنجاب کا پیر، پختون خواہ کا ملک یا خان نہ بلوچستان کا سردار پھر بھی مخالفین کو جیلوں میں پھنکوا رہا ہے۔ شریف براردران و دختر مریم نواز، زرداری اینٖڈ سسٹر، سندھ اسمبلی اسپیکر آغا سراج کے بعد اب رانا ثنا اللہ اس کی جال میں نئی مچھلی ہے۔ بلکہ ”قید میں ہے بلبل صیاد مسکرائے“۔ شاید ایسے موقعوں کے لیے ہی فلمی شاعر نے کہا ہو گا۔

لیکن یہ کسی فلم کا سین نہیں حقیقت ہے کہ اس سے قبل بھی رانا ثنا اللہ اپنی زبان سے ادا کیے ہوئے لفظوں کی وجہ سے کئی بار قید و عقوبتوں سے گزارے گئے ہیں۔ اک بار تو مشرف آمریت کے شروع والے دنوں میں انہیں گرفتار کر کے بیس کوڑے بھی مارے گئے تھے۔ یوں کہیے کہ مشرف پرویز کی آمریت میں وہ سیاسی انتقام کے پہلے شکاروں میں سے ایک تھے۔

وہ بھی انہیں ان کی محض آزاد زبان کی وجہ سے مقدمہ فوجداری بغاوت بنا کر گرفتار کر کے پھر بیس کوڑے مارے گئے تھے۔ کیسے؟ ان دنوں رہا ہونے پر مجھے رانا ثنا اللہ نے ہیومن رائٹس واچ کے لیے نیویارک سے میرے ٹیلی فون کرنے پر فیصل آباد سے اپنی کہانی انہی کی زبانی کچھ یوں سنائی تھی: ’’مجھے انتیس نومبر انیس سو نناوے کو ڈی ایس پی طارق کمبوہ کی قیادت میں پولیس کی بھاری جمعیت نے فیصل آباد میں میرے گھر کا محاصرہ کر کے لاہور میں درج مقدمہ بغاوت میں گرفتار کیا۔

اس آپریشن کی نگرانی اس وقت کا ایس پی پولیس فیصل آباد کیپٹن سیف اور ڈپٹی کمشنر فیصل آباد وسیم اجمل کر رہے تھے۔ انہوں نے لاہور لا کر مجھے قلعہ گوجر سنگھ تھانے کے ٹارچر سیل میں بند کردیا۔ ”پھر کیا ہوا؟“ انتیس نومبر کی رات میرے لاک اپ میں دس سے بیس پولیس والوں کے ہمراہ ڈی ایس پی جماعت علی بخاری اور انسپکٹر الیاس داخل ہوئے اور مجھے ایک جیپ میں ڈال کر ائیر پورٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ جپیپ آگے چل کر رک گئی۔

وہ لوگ جیپ سے اترے انہوں نے میری آنکھوں پر پٹی باندھی اور ہاتھوں میں ہتھکڑی لگائی۔ اور پھر ایک اور جیپ میں سوار کیا۔ وہ جیپ دس بارہ میل چل کر رکی اور مجھے جیپ سے اتار دیا گیا۔ یہ لاہور کینٹ کا علاقہ تھا۔ انہوں نے میری ہتھکڑی کے بیچ میں سے ایک رسی باندھی جس سے انہوں کھینچ کر مجھے اوپر لٹکا دیا۔ اس سے میرے پاؤں بمشکل زمین سے لگ رہے تھے۔ ا ایک شخص نے (میں نے جس کی موجودگی اپنے ٓآگے محسوس کی) حکم دیا ”پانچ پانچ۔‘‘ بغیر کسی تامل کے ہوا میں لہرانے کی آواز کرتا ہوا کوڑا آکر میری ہشت پر پژا۔ انہوں نے جب پانچ کوڑوں کو کہا پہلا راؤنڈ مکمل کیا۔ اس کے بعد پانچ یا دس منٹ مکمل خاموشی چھا گئی۔ وہاں پر موجود کسی ڈاکٹر نے میری نبض اور دل کی دھڑکنیں چیک کیں۔ کوڑے مارنے والا شخص پھر شروع ہوا اور اسی طرح اس نے میری پشت پر پانچ پانچ کے چار راؤنڈ مکمل کیے۔ میری پیٹھ لہو لہان ہو رہی تھی۔ مجھے میری شلوار کے اوپر اس طرح کوڑ مارے گئے کہ میری شلوار کا کپڑا اور میرے جسم کی کھال ایک ساتھ ادھڑ رہے تھے۔ انہوں نے گھنٹوں مجھے اوندھے منہ فرش پر لٹائے رکھا۔

اس وقت رات کے سوا تین بج رہے تھے جب وہ مجھے قلعہ گوجر سنگھ تھانے واپس لائے، جہاں میں آٹھ دسمبر انیس سو نناوے تک رہا۔ اب بھی میرے ٹیلی فون ٹیپ ہو رہے ہیں۔ اب بھی سادہ لباس میں لوگ میرے گھر کے باہر میری سخت نگرانی کر رہے ہیں۔‘‘ رانا ثنا اللہ مجھے بتا رہے تھے۔

اس وقت نواز شریف مسلم لیگ کے رکن پنجاب اسمبلی رانا ثنا اللہ کو آتھ نومبر کو لاہور سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا تھا جہاں سے وہ پانچ جنوری کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر رہا ہوئے تھے جب ان کے ساتھیوں نے ان کی حبس بے جا کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ لیکن بغاوت کا مقدمہ ان کے خلادف تب بھی زیر سماعت تھا جس کی آیف آئی آر دلچسپ تھی کہ رانا ثنا اللہ نے پاکستان مسلم لیگ کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں تقریر کی جس میں انہوں نے کہا کہ ’’کیا فوج نے اس ملک کو ساْٰئکل سمجھ رکھا ہے جب مرضی آئی اس پر چڑہ گئے۔ جب مرضی آئی اتر گئے۔‘‘

اس طرح کی باتیں اور ان پر حکومتی عتابوں کی کہانیاں فیصل آباد میں ان کے علاقے میں لوگوں کو ان کی جگتوں کے ساتھ یاد ہیں۔ ان دنوں سے جب وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے ہوا کرتے تھے۔

لیکن مجھے بہت افسوس ہوا جب یہی رانا ثنا اللہ پھر پنجاب میں طاقتور وزیر داخلہ اور وزیر قانون بنے اور اس طرح کا سلوک اپنے سیاسی اور ذاتی مخالفین سے روا رکھا جو مطلق العنان آمر پرویز مشرف نے ان کے اور ان کی پارٹٰی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ روا رکھا تھا۔

کیا افسوسناک اور مضحکہ خیز ہے کہ رانا ثنا اللہ کو بھی انہی الزامات اور طریقہ واردات سے گرفتار کیا گیا ہے جس طریقہ واردات سے نواز شریف حکومت نے اپنے ایک دور میں اخبار فرنٹٰٗیر پوسٹ کے مالک رحمت شاہ آفریدی کو گرفتار کیا تھا۔ کیا محض اس لیے کہ رحمت شاہ کا اخبار نواز شریف حکومت کا سخت ناقد تھا۔ رحمت شاہ آفریدی پھانسی کی کال کوٹھری سے واپس آیا۔ فرنٹیر پوسٹ کے کچھ دوست از راہ تفنن کہا کرتے تھے کہ رحمت شاہ آفریدی کو کارٹونسٹ ظہور کے کارٹونوں نے مروایا!

لوگ اب رانا ثنا اللہ کی گرفتاری اور مقدمے کا موازنہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں چودھری ظہور الاہی کے خلاف قائم کیے جانے والے ”بھینسوں کی چوری“ والے مقدمے سے کرتے ہیں۔

اتنا دور کیوں جاتے ہو عزیزو! یہ تو کئی وڈیروں خانوں کی طرح ہر دور کے حکمرانوں کا شیوہ رہا ہے۔ بینظیر کے پہلے دور حکومت مٰیں اس وقت کے رکن قومی اسمبلی رانا چندر سنگھ کی طرف سے وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کرنے پر ان کے بیٹے ہمیر سنگھ کے خلاف شکار پور میں ”بیلوں کی جوڑی چوری“ کرنے کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔ کہاں عمر کوٹ اور کہاں شکار پور!

عبد اللہ شاہ کی سندھ میں وزارت اعلی کے دوران ان کے مخالف سید کوڑل شاہ کے خلاف چائے کی پتی چوری کرنے کے الزام مقدمہ اور سہیون میں مقامی مخالف قاسم بوزدار کے خلاف شکار پور میں غیر قانونی کلاشنکوف رکھنے کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •