چیئرمین سینیٹ: اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اگرچہ ماضی میں یوسف رضا گیلانی حکومت کا حصہ رہے تھے لیکن چیئرمین سینیٹ کا امیدوار بننے تک ان کے نام اور کام سے زیادہ لوگ واقف نہیں تھے۔  سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے موقع پر جب ان کا نام بطور امیدوار سامنے آیا تو ہم سب ششدر رہ گئے۔  پہلی حیرانی اس بات پر ہوئی کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص کو کیوں چیئرمین سینیٹ بنایا جارہا ہے جو پہلی مرتبہ سینیٹ میں آئے ہیں اور پارلیمانی امور کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے۔

  اس سے بھی بڑی حیرانی اس بات پر ہوئی کہ رضا ربانی جیسے تجربہ کار اور قد آور شخصیت کے مقابلے میں آصف علی زرداری انہیں چیئرمین بنانے پر تل گئے حالانکہ ان کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) سے تھا۔ صرف یہ نہیں بلکہ سوائے آصف علی زرداری کے پوری پیپلز پارٹی رضاربانی کو چیئرمین بنانے کے حق میں تھی بلکہ مسلم لیگ (ن)، اے این پی، جے یو آئی اور حتیٰ کہ جماعت اسلامی بھی رضا ربانی کی حمایت کر رہی تھیں۔  مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز کی تعداد زیادہ تھی لیکن رضا ربانی کے امیدوار بننے کی صورت میں اس کی قیادت نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حمایت کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ خود ان کا نام بھی تجویز کیا۔

میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ سراج الحق صاحب اور اسفند یار ولی خان نے ذاتی طور پر زرداری صاحب سے درخواست کی کہ وہ رضا ربانی کو امیدوار بنائیں لیکن تب زرداری صاحب کسی مجبوری کی وجہ سے یا پھر اپنے وسیع تر مفاد میں صادق سنجرانی کو چیئرمین بنانے پر مصر تھے۔  مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جس دن پیپلز پارٹی کو چیئرمین کے امیدوار کے لئے حتمی فیصلہ کرنا تھا تو قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور ندیم افضل چن اپنی قیادت کو رضا ربانی پر آمادہ کرنے کی خاطر دن بھر زرداری ہاؤس میں رہے جبکہ ہم میڈیا میں چیخ و پکار کر رہے تھے۔

شام تک ان چاروں نے بلاول بھٹو صاحب کو آمادہ کر لیا لیکن زرداری صاحب پھر بھی نہ مانے۔  رات گئے وہ چاروں وہاں سے مایوس ہو کر ہماری طرف آئے تو سب بہت مایوس تھے۔  ندیم افضل چن نے تو اپنا منہ چادر سے چھپا رکھا تھا اور جب میں نے وجہ پوچھی تو ندیم افضل چن نے کہا کہ ہماری قیادت نے ہمیں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ مجھے مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سلیم بھائی اب تو آپ کو میرے پی ٹی آئی جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اب تو پی پی پی اور پی ٹی آئی میں کوئی فرق نہیں رہا۔ میں نے جواب دیا کہ ہاں ندیم بھائی آج کے بعد آپ جانے میں حق بجانب ہوں گے کیونکہ نظریے کے بجائے مفاد کی سیاست کرنا ہے تو پھر پی پی پی اور یا پی ٹی آئی۔

بہرحال زرداری صاحب کی مہربانی سے پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور باپ کے مشترکہ امیدوار کے طور پر صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ اور سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین بن گئے۔  چیئرمین بنتے ہی حیرت انگیز طور پر صادق سنجرانی ناتجربہ کاری کے باوجود ایک کامیاب چیئرمین کے طور پر سامنے آئے۔  سینیٹ کو انہوں نے اس خوش اسلوبی سے چلانا شروع کیا کہ سب حیران رہ گئے۔  جس قدر قومی اسمبلی کی بری حالت رہی اس قدر سینیٹ کی بہتر رہی۔

 قومی اسمبلی میں حکومت کو اکثریت حاصل رہی لیکن یہاں روز غل غپاڑہ ہوتا رہا جبکہ سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت تھی لیکن وہاں غل غپاڑہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ حیرت انگیز طور پر سنجرانی صاحب ایسے عوامی چیئرمین ثابت ہوئے کہ حکومتی اراکین سے زیادہ اپوزیشن کے ارکان ان کے گرویدہ بن گئے۔  جب بھی ان کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں حکومتی اراکین کے علاوہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے اراکین کو ضرور پایا۔ انہوں نے ناراض کسی کو نہیں کیا لیکن اپنا گرویدہ سب کو بنا لیا۔

 ہم جیسے لوگ فاٹا کے معاملے میں ان کے زیر احسان یوں ہیں کہ جب تک چیئرمین شپ پیپلز پارٹی کے پاس رہی تو ہماری التجاؤں کے باوجود قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا فاٹا کے انضمام کا بل سینیٹ میں پیش نہیں کیا جا رہا تھا لیکن جب سنجرانی صاحب چیئرمین بنے تو ہماری التجاؤں کو چند روز میں شنوائی مل گئی لیکن اب جبکہ زرداری صاحب لاڈلا بننے کے جتن کرنے کے باوجود ناکام ہوئے اور دھکے دے دے کر حکمرانوں نے انہیں پہلے اپوزیشن اور پھر گرفتار کر کے حقیقی اپوزیشن کی طرف دھکیل دیا تو انہوں نے اپوزیشن کا آغاز چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے سے کرنا چاہا۔

 صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سینیٹ سیکرٹریٹ میں جمع کر دی گئی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے پاس اتنی واضح اکثریت ہے کہ بظاہر سنجرانی صاحب کا جانا یقینی نظر آتا ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ کام اتنی آسانی سے ہو جائے گا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ایک تو اپوزیشن کے پاس ایسا کرنے کے لئے مضبوط اخلاقی جواز نہیں۔  جس طرح پہلے بلاجواز رضا ربانی کے بجائے زرداری صاحب نے انہیں چیئرمین سینیٹ بنایا تھا، اسی طرح اب ان کے خلاف اس کے سوا کوئی جواز نظر نہیں آتا کہ زرداری صاحب کسی اور جگہ کا غصہ یہاں نکالنا چاہتے ہیں۔

جس طرح سنجرانی صاحب پیپلز پارٹی کی حمایت سے چیئرمین سینیٹ بنے ہیں اسی طرح سلیم مانڈوی والا کے انتخاب میں بھی پی ٹی آئی اور باپ پارٹی کے ووٹ شامل تھے۔  سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد لانے سے قبل ضروری تھا کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مستعفی ہو جاتے لیکن میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو کے مصداق ڈپٹی چیئرمین اپنے عہدے سے چمٹے ہوئے ہیں اور اب حکومتی گروپ ان کے خلاف عدم اعتماد لے آیا ہے۔  اپوزیشن نے مشکل سے متبادل کے طور پر حاصل بزنجو کو چیئرمین کے لئے امیدوار نامزد کردیا ہے لیکن کچھ لوگ اس فیصلے کی بھی یہ توجیہ پیش کرتے ہیں کہ اگر مسلم لیگ(ن) کو کامیابی کا یقین ہوتا تو میاں نواز شریف کبھی بھی یہ منصب کسی غیر مسلم لیگی اور غیر پنجابی کو نہ دیتے۔

اب مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ایک تو عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہو گی۔ دوسرا اگر ڈپٹی چیئرمین کو ہٹا دیا جاتا ہے تو مسلم لیگ(ن) اور جے یو آئی ڈپٹی چیئرمین شپ کا مطالبہ کر سکتی ہیں جو پیپلز پارٹی مشکل سے دے گی۔ تیسرا اپوزیشن جماعتوں کے کئی ارکان چیئرمین سینیٹ کے سنگی بنے ہوئے ہیں اور چوتھا مسئلہ ہے کہ زرداری صاحب جن حلقوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں انہوں نے پیغام وصول کر لیا ہے اور وہ سنجرانی صاحب کو بچانے کے لئے آخری حدوں تک جائیں گے۔  دیکھنا یہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے معاملے کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔  مجھے تو لگتا ہے کہ پکڑ دھکڑ اور خرید و فروخت کے ماضی کے تمام ریکارڈ ٹوٹیں گے۔  اگر واقعی اپوزیشن سنجیدہ ہے تو کیا بہتر نہ ہوتا کہ اسمبلیوں سے استعفے دیے دیے جاتے کیونکہ سینیٹ 2013 جبکہ اسمبلیاں 2018 کے انتخابات کی پیداوار ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •