کیا ہم ٹیکس چور ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فائلر ہونے کے باوجود ہر ماہ 15 ہزارروپے انکم ٹیکس ادا کرتا ہوں، باقی ماندہ تنخواہ اپنے ہی بینک اکاؤنٹ سے ڈیوٹی اداکیے بغیر یکشمت نہیں نکلوائی جا سکتی۔ اب جب اس جائز اور ٹیکس شدہ آمدن سے گاڑی میں پیٹرول ڈلوانا ہو یا بجلی، گیس اورپانی کا بل ادا کرنا ہو تو ایک بار پھر متعدد اقسام کے ظالمانہ ٹیکس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض صورتوں میں ٹیکس اور ڈیوٹی 45 فیصد تک جا پہنچتی ہے۔ جب یہ گاڑی لے کر سڑک پر آتا ہوں تو ٹول ٹیکس اداکرنا پڑتا ہے۔

گاڑی خراب ہو جائے تو اسپیئر پارٹس پر ٹیکس اور یہاں تک کہ ٹائر کو پنکچر لگوانے پر بھی ٹیکس ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ موبائل فون لینا ہو تو اس پر ٹیکس ہے، کارڈ خریدیں تو 100 میں سے 75 (اب 88 ) روپے وصول ہوتے ہیں، باقی 25 روپے پہلے زرداری ٹیکس کہلاتے تھے، پھر نوازشریف کی جیب میں جایا کرتے تھے مگر اب نیک اور صالح حکمرانوں کے دور میں کدھر جاتے ہیں کچھ معلوم نہیں۔ بہر حال موبائل فون میں بیلنس ڈلوانے کے بعدجب کوئی کال یا نیٹ پیکیج حاصل کرنا ہو براہ راست کال کرکے کسی سے بات کرنی ہو تو ایک بار پھر ٹیکس دیناپڑتا ہے۔

چینی، چائے کی پتی، صابن، شیمپو، گھی، مسالا جات سمیت کچن کے لئے کوئی بھی چیز خریدنی ہو تو اس پر الگ سے ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ جس لیپ ٹاپ پر کالم لکھ رہا ہوں، وہ اخبار جس میں آپ کالم پڑھ رہے ہوں، وہ عینک جو آپ نے لگا رکھی ہے، وہ سگریٹ جو آپ کالم پڑھتے ہوئے پی رہے ہیں، ان سب پر سرکار ٹیکس وصول کرتی ہے۔ گھر میں اے سی لگانا تو اب ہر کوئی افورڈ نہیں کرسکتا مگر کیا کریں پنکھے، ایئر کولر اور بلب پر بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے۔

اگر آپ فائلر نہیں، شہر سے کوسوں دور مقیم ہیں تو بھی ٹیکس سے جان نہیں چھوٹ سکتی کیونکہ انکم ٹیکس بچا بھی لیں تو پیسے کھائے نہیں جا سکتے، سہولتیں اور آسائشات خریدنے کے لئے دولت خرچ کرنا پڑے گی اور ان اخراجات پر حکومت نے ٹیکس لگا رکھا ہے۔ گویا ایوان وزیر اعظم سے جب ہیلی کاپٹر اُڑ کر بنی گالہ جاتا ہے یانئے پاکستان کا صدر مملکت سرکاری خرچ پر مشاعرہ کراتا ہے اس کا بل ہر غریب و امیر اُٹھاتا ہے۔ سرکاری مرسیڈیز میں اس غریب مزدور کا بھی خون جلتا ہے جس کے گھر کا چولہا مہنگائی سے بجھتا چلا جاتا ہے۔

جب بھی فیصلے کرنے والوں سے کوئی بھول ہوتی ہے تو معاشی تنگدستی کی صورت میں اس کا خراج عام آدمی کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ جو بھی مسند اقتدار پر آتا ہے مجھے کڑوی گولیاں کھلا کر چلا جاتا ہے۔ مگر پھر بھی اُٹھتے بیٹھتے مجھے بے ایمان، بدنیت اور چور کہا جاتا ہے تو دل درد سے بھرآتا ہے۔ وزیراعظم لعن طعن کرتے ہوئے ایک سے زائد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ صرف ایک فیصد پاکستانی ٹیکس دیتے ہیں۔

حضور! 99 فیصد پاکستانیوں کوکرپٹ قرار دینے سے پہلے ٹرائل کا موقع فراہم کیاہوتا تو ہم بھی صفائی میں کوئی ادھورا بیان دیتے۔ پاکستان کے محکمہ شماریات کے مطابق 68 فیصد پاکستانی جنہیں ”ٹیکس چور“ کہہ کر مطعون کیا جا رہا ہے ان کی عمریں 30 سال سے کم ہیں اور وہ اپنے والدین یا سرپرست کے زیر کفالت ہیں۔ ان میں شیر خوار، طالبعلم اور وہ نوجوان بھی شامل ہیں جو مستقبل بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں اور ان پر انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا۔

ہاں البتہ والدین سے جو جیب خرچ وصول کرتے ہیں اس میں سے ایک معقول حصہ بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں حکومت کو ادا کرتے ہیں۔ باقی 32 فیصد میں سے تقریباً 10 فیصد بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور اپنے بچوں کے زیر کفالت ہیں۔ 1998 ء میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق 2.38 فیصد لوگ جسمانی معذوری کا شکار تھے اب نئی مردم شماری کے مطابق ان افراد کا تناسب ایک فیصد بھی ہو تو اب 21 فیصد لوگ کٹہرے میں باقی رہ جاتے ہیں۔

خیال تھا کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین کا تناسب 56 فیصد ہے مگر حالیہ مردم شماری سے معلوم ہوا کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں کی تعداد کم نہیں ہے چونکہ ہمارے ہاں ملازمت پیشہ اور کاروبار کرنے والی خودمختار خواتین کو پسند نہیں کیا جاتا اس لئے بیشتر خواتین امورِ خانہ داری تک محدود ہو جاتی ہیں۔ اگر خواتین کے ہاں ورکنگ ویمن کی شرح 20 فیصد بھی ہو تو مزید 8 فیصد آبادی ”ٹیکس چوری“ کے الزام سے بری الذمہ ہوتی ہے۔

یوں کم و بیش 13 فیصد لوگ شک کے دائرے میں رہ جاتے ہیں۔ حکومت بتاتی ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح 5.9 فیصد ہے مگرحقیقی اعداد وشمار اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ محتاط تخمینے کے مطابق فرض کرلیتے ہیں کہ 10 فیصد لوگ کما رہے ہیں اور انہیں ٹیکس ریٹرن جمع کروانا چاہیے مگر عملاً صرف ایک فیصد ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں۔ یہ 9 فیصد بھی ٹیکس تو دے رہے ہیں مگر اپنی آمدن اور اخراجات کا گوشوارہ ایف بی آر کو جمع نہیں کرواپاتے کیونکہ مجھ جیسا شخص کسی وکیل یا اکاؤنٹنٹ کی مدد کے بغیر یہ کام نہیں کر سکتا تو واجبی سی تعلیم رکھنے والوں سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ اب اگر وہ حساب کتاب کے لئے کسی کی خدمات حاصل کریں تو بچوں کو کہاں سے کھلائیں؟

ہم صبح شام یہی رونا روتے ہیں کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کم ہے، ہر کوئی ٹیکس چورہے تو ملک کیسے ترقی کرے؟ یہ مفروضہ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ ہمارے ہاں جی ڈی پی کے اعتبار سے ٹیکس کی شرح 2013 ء میں 9 فیصد تھی جو 2018 ء میں 11 فیصد ہوئی اور الحمدللہ اب پھر سے 9.9 فیصد پہ آگئی ہے۔ ہمارے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 8.7 فیصد جبکہ بھارت میں 11.18 فیصد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ٹیکس وصول کی شرح کے اعتبار سے ہم ابھی بنگلہ دیش سے کچھ آگے اور بھارت سے تھوڑا پیچھے ہیں۔

حتیٰ کہ ترقی پذیر ممالک جہاں ٹیکس دینے کا رجحان موجود ہے وہاں بھی جی ڈی پی سے موازنہ کیا جائے تو محاصلات کی شرح بہت کم ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق سوئٹرزلینڈ میں یہ شرح 10.5، جاپان میں 11.6، جرمنی میں 11.4 اور امریکہ میں 11.9 فیصد ہے۔ ملائشیا جسے ہم رول ماڈل سمجھتے ہیں وہاں یہ شرح 13.1 فیصد ہے۔ مگر ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کم ہونے کے باوجود یہ ممالک ترقی کر رہے ہیں۔ آپ بنگلہ دیش کی مثال لے لیں۔ وہاں معاشی شرح نمو حکومتی دعوؤں کے مطابق 8.13 ہوچکی ہے لیکن ورلڈ بینک کے اعداد وشمار پر بھی انحصار کریں تو 7.3 فیصد شرح نمو پاکستان کی 3.3 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ بنگالی کرنسی جس کا مذاق اُڑاتے ہوئے ہم کہا کرتے تھے کہ فلاں شخص تو ٹکے کا نہیں ہے یا فلاں شے تو ٹکے ٹوکری ہوگئی ہے، پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ایک بنگلہ دیشی ٹکہ 1.87 روپے کا ہے۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر ان کے آگے نکلنے اور ہمارے پیچھے رہ جانے کی کیا وجہ ہے؟ وجہ صاف ظاہر ہے، انہوں نے معیشت کا حجم بڑھانے، جی ڈی پی میں اضافہ کرنے کی کوشش کی کیونکہ جب معاشی سرگرمی ہوتی ہے، لوگوں کی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے تو محاصلات خودبخود بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر آپ اپنے شہریوں کو ٹیکس چور کہیں گے، ویلنے (گنے سے رس نکالنے والی مشین) میں ڈال کر ان کے جسم سے آخری قطرہ تک نچوڑنے کی کوشش کریں گے تو یہی ہوگا جو ہو رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد بلال غوری

بشکریہ روز نامہ جنگ

muhammad-bilal-ghauri has 136 posts and counting.See all posts by muhammad-bilal-ghauri