ماضی کے کھنڈرات پر ماتم سے کیا ہو گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل وزیر اعظم عمران خان کا دورہ امریکہ زیر بحث ہے۔ دورے کے اثرات و نتائج پر گفتگو ہو رہی ہے۔ پاکستان کی ایک سابق وزیر خارجہ کے الفاظ میں امریکہ والوں کو ایک بار پھر پاکستان کی شدید ضرورت آن پڑی ہے۔ یہ ضرورت ان کو ایک بار پہلے تب پڑی تھی، جب وہ افغانستان میں آئے تھے۔ اور یہ ضرورت ان کو اب پڑی ہے جب وہ افغانستان سے جا رہے ہیں۔ لہٰذا صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کی ملاقات کا ایجنڈا افغانستان ہو گا۔ دونوں کی گفتگو کا مرکز و محور افغانستان ہی رہے گا۔ نقطۂ ماسکہ امریکی انخلا کے دوران اور بعد ازاں افغانستان میں پاکستان کا کردار ہو گا۔
مگر ریپبلکن پارٹی کے ایک رہنما‘ جنہیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر صدر ٹرمپ کے قریبی لوگوں تک رسائی کا دعویٰ ہے، کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کی ملاقات میں مسئلہ کشمیر بھی زیر بحث آ سکتا ہے۔ اور صدر ٹرمپ ثالثی کی پیشکش کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ثالثی کی یہ پیشکش صدر ٹرمپ نے منتخب ہونے کے فوراً بعد کی تھی، مگر کسی نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ ثالثی کا خیال اچھا ہے۔ مگر عالمی تنازعات میں اس قسم کی ثالثی تب ہی کارآمد ہوتی ہے جب فریقین اپنے روایتی موقف میں تبدیلی کے لیے تیار ہوں۔
لچک دکھانے کا اشارہ دے چکے ہوں۔ مگر پاکستان اور انڈیا کے باب میں صورت حال مختلف ہے ۔ اس وقت دونوں اپنے دیرینہ موقف پر بضد ہیں۔ وقتاً فوقتاً اپنا موقف دہراتے رہتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر اپنے موقف کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی حل کیا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف بھارتی وزیر مملکت برائے خارجہ امور مرلی دھرن نے بھارتی راجیہ سبھا میں کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت شملہ معاہدے اور اعلان لاہور کی روشنی میں ہو سکتی ہے۔ یہ پاکستان اور بھارت کے دو الگ الگ سرکاری موقف ہیں۔ کچھ لوگوں کو ان میں تضاد دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں ہوں یا شملہ معاہدہ دونوں کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے پُر امن راستہ اختیار کیا جائے۔ اور ایک دوسرے کو ڈرانے دھمکانے کے بجائے پُر امن بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت گفت و شنید کا راستہ اختیار کیا جائے۔
ایک اہم فرق بہرحال یہ ہے کہ شملہ میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کشمیر کا مسئلہ حل طلب ہے۔ اور اس مسئلے کا واحد حل مذاکرات اور گفت و شنید کو قرار دیا گیا۔ مگر اس طرف کوئی اشارہ نہیں کیا گیا کہ یہ حل کن خطوط پر نکالا جائے گا۔ یہ حل کن بنیادوں پر ہو گا۔ اور اس کا روڈ میپ کیا ہو گا۔
اس کے بر عکس اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ایک باقاعدہ روڈ میپ دیا گیا ہے، جس کے تحت کشمیر سے غیر ملکی افواج کا انخلا اور امن و امان کی بحالی کے بعد کشمیری عوام کی خواہشات کا تعین کیا جائے گا۔ اور اس کی روشنی میں مسئلے کا حل نکالا جائے گا۔ چنانچہ معاہدہ ٔ شملہ ہو یا اقوام متحدہ کی قراردادیں، ان میں دونوں ممالک کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ مانتے ہیں‘ ایک حل طلب مسئلہ سمجھتے ہیں۔ اب سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ اس کا حل کیا ہے۔ اور اس حل کے لیے کون سا طریقہ کار ہے جس پر دونوں کا اتفاق ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بارے میں تو سب جانتے ہی ہیں، رہا شملہ معاہدہ تو عرض یہ ہے کہ یہ محض ایک امن معاہدہ نہیں تھا۔ اگر اسے اس کے درست تاریخی تناظر میں رکھ کر دیکھا جائے تو یہ انیس سو اکہتر کی جنگ کے پیش منظر اور تباہ کن نتائج سے نبرد آزما ہونے کی ایک کوشش تھی۔ طویل گفت و شنید کے بعد دو جولائی انیس سو بہتر کو شملہ میں ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی نے جس دستاویز پر دستخط کیے یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات کے لیے ایک اچھا روڈ میپ تھا۔
معاہدے میں دونوں ممالک نے تسلیم کیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلق اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کی روشنی میں ہو گا۔ دونوں ممالک کے درمیان تمام تنازعات کو پُر امن ذرائع سے حل کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔
کشمیر کے حوالے سے اس امر پر رضا مندی ظاہر کی گئی کہ دونوں ملکوں کی فوجیں انٹرنیشنل بارڈرز پر اپنی اپنی جگہ چلی جائیں گی۔ جموں و کشمیر میں سترہ دسمبر انیس سو اکہتر کی سیز فائر کے نتیجے میں جو لائن آف کنٹرول معرض وجود میں آئی ہے دونوں ممالک اس کا احترام کریں گے۔ مختلف قانونی تشریح اور اختلاف رائے کے باوجود کوئی فریق بھی اس لائن میں یک طرفہ طور پر کسی قسم کے رد و بدل کی کوشش نہیں کرے گا۔ اور مسئلہ کشمیر کا حتمی حل باہمی بات چیت سے نکالا جائے گا۔
بات یہ ہے کہ شملہ معاہدہ اور اقوام متحدہ کی قراردادیں مسئلہ کشمیر حل کرنے کے دو الگ الگ راستے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ اصل بات راستہ نہیں‘ حل ہے ۔ اور اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت تنازعے کے کس حل پر اتفاق کر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں یہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ دونوں ممالک اپنے تنازعات باہمی گفت و شنید سے نہیں حل کر سکتے۔ اور نہ ہی شملہ معاہدے میں کہیں یہ لکھا ہے کہ دونوں ممالک اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت مسئلے کا حل نہیں ڈھونڈ سکتے یا وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے دست بردار ہو رہے ہیں۔ اور نہ ہی یہ لکھا ہے کہ دونوں کسی تنازعے کے حل کے لیے اقوام متحدہ یا عالمی برادری سے رجوع نہیں کر سکتے۔
اصل مسئلہ راستہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کا کشمیر پر جو موقف ہے وہ ایک مخصوص تاریخی تناظر کی پیداوار ہے۔ یہ مؤقف گفت و شنید یا دوستانہ مذاکرات نہیں بلکہ جنگ اور خون خرابے کی پیداوار ہے۔ اس کے پس منظر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی خونیں جنگ اور تقسیم بر صغیر کے درد ناک واقعات کی نفسیاتی کیفیت ہے۔ اس کیفیت میں ایک فریق نے دوسرے کی پروا کیے بغیر ایک سخت گیر اور حتمی موقف اپنانا تھا۔
ان حالات میں دونوں نے یہ طے کر لیا تھا کہ کشمیر ہر حالت میں لینا ہے، خواہ جنگ لڑنی پڑے یا عالمی برادری کے پاس جانا پڑے۔ ان حالات کو ستر برس بیت چکے ۔ اگرچہ یہ المناک واقعات مکمل طور پر لوگوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئے۔ فضا اب بھی زہر آلودہ ہے۔ مگر حالات اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں بیسویں صدی کی چوتھی اور پانچویں دہائی سے قطعی طور پر مختلف ہیں۔ حالات کے اس واضح فرق کو سمجھنا اور اس فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا لازم ہے۔
ماضی کے کھنڈرات پر ماتم سے کیا ہو گا؟ ہم اپنی نسلوں کو تاریخ کے کسی ایک دور یا لمحے میں پھنسا کر نہیں رکھ سکتے۔ ہم ماضی میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ ہمیں آگے دیکھنا ہو گا۔ نئے حالات میں نئے حل ڈھونڈنے ہوں گے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے ۔ ماضی میں اٹل بہاری واجپائی اور جنرل مشرف نے وقت کی اس ضرورت کو محسوس کیا تھا۔ اختلاف رائے اپنی جگہ مگر کسی نے ان کی حب الوطنی پر انگلی نہیں اٹھائی تھی۔
یہ اس بات کی دلیل تھی کہ مسئلے کا ”آئوٹ آف باکس‘‘ حل نکالا جا سکتا ہے۔ روایتی پوزیشن سے ہٹ کر بھی کسی نئے آپشن پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی حب الوطنی یا غداری کا سوال نہیں ہے۔ یہ بر صغیر کے کروڑوں لوگوں کو اس خوفناک دلدل سے نکالنے کا سوال ہے، جس میں وہ دن بدن دھنستے جا رہے ہیں… اور اس سوال کا جواب جتنا جلدی ڈھونڈ لیا جائے اتنا بہتر ہے۔ تاریخی طور پر ثالثی کی کئی کوششیں ہو چکی ہیں۔
امریکی پچاس کی دہائی میں یہ کوشش کر چکے ہیں، جب مسئلہ کشمیر اپنے عروج پر تھا، اور دنیا میں طاقت کا توازن مختلف تھا۔ میرے ذاتی خیال میں موجودہ دور میں کسی ایسی کوشش سے بہتر ہو گا کہ دونوں پڑوسی ملک ایک سے زائد ممکنہ حل پر بات چیت کر کے کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کریں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •