’ہماری سیاست کا محور اب پشاور بھی ہوگا’، قبائلی اضلاع میں صوبائی انتخابات سے کئی امیدیں وابستہ

سحر بلوچ - بی بی سی اردو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سابق قبائلی علاقہ جات کے عوام

Getty Images
ضم شدہ اضلاع میں انتخابات کے انعقاد کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں

پاکستان میں کچھ عرضہ قبل ہی صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کیے گئے قبائلی اضلاع میں آج صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ قبائلی اضلاع کے لوگ صوبائی اسمبلی کی 16 نشستوں پر لڑنے والے امیدواروں کو منتخب کرسکیں گے۔

ان 16 نشستوں میں سے پانچ مخصوص نشستیں ہیں، جن میں سے چار نشستیں خواتین کے لیے جبکہ ایک اقلیتی نمائندوں کے لیے مختص کی گئی ہیں۔

انتخابی دوڑ میں اس وقت 297 امیدوار شامل ہیں جن میں اکثریت آزاد امیدواروں کی ہے۔ ان امیدواروں میں کُرّم اور خیبر سے تعلق رکھنے والی دو خواتین بھی شامل ہیں جو جمیعت علمائے اسلام (ف) اور عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق اس وقت قبائلی اضلاع میں 28 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’اب نوجوان نمائندگی کریں گے‘

’فیصلے جرگوں اور حجروں میں ہونے کا دور گزر چکا‘

’قبائلیوں کو بھی سہولت گھر کی دہلیز پر ملنی چاہیے‘

ان انتخابات کی اہمیت کیا ہے؟

فاٹا میں پہلے بھی قومی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات ہوتے رہے ہیں لیکن یہ نمائندے نہ تو قانون سازی میں کامیاب ہوسکے اور نہ ہی فاٹا کو وہ سہولیات فراہم کرسکے جن کی وہاں اشد ضرورت تھی اور آج بھی ہے۔

اس پس منظر میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات سے کئی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔ یہ امیدیں انتخابات کے ذریعے قبائلی اضلاع میں آئینی و قانونی حقوق، سیاسی و شہری حقوق اور پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں تک رسائی کے حوالے سے ہیں۔

رواں سال مئی میں پچیسویں آئینی ترمیم کے تحت فاٹا کے قبائلی اضلاع کو قومی دھارے میں شامل کیا گیا۔ فاٹا کے اضلاع خیبر پختونخواہ میں ضم کیے گئے ہیں اور ایجنسیوں کو ضلعوں کی حیثیت دی گئی ہے جس کے تحت تمام قانونی اور انتظامی قوانین عمل میں لائے جائیں گے۔ ایک امیدوار کے بقول “آج کے بعد ہماری سیاست کا محور اسلام آباد کے ساتھ ساتھ پشاور بھی ہوگا۔”

ناہید آفریدی

BBC
قبائلی اضلاع سے خاتون امیدوار ناہید آفریدی کہتی ہیں وہ صرف جیتنے کے لیے انتخابات میں حصہ نہیں لے رہیں بلکہ وہ چاہتی ہیں کہ عورتوں میں سیاسی شعور پیدا ہو

قومی دھارے میں شامل ہونے سے پہلے قبائلی اضلاع کو برطانوی دور کے قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کے تحت چلایا جارہا تھا۔ اس قانون کے مطابق قبائلی اضلاع کے لوگ مقامی انتظامیہ اور جرگے کے ذریعے کیے گئے فیصلوں کو پاکستان کی کسی عدالت میں چیلنج نہیں کرسکتے تھے۔

ایف سی آر کے تحت سابق فاٹا میں انتظامیہ سے جڑے سیاسی اور اسسٹنٹ ایجنٹ کو عدالتی اختیار حاصل تھا۔ حالانکہ مئی 2018 میں یہ قانون فاٹا انٹیرم گورننس ریگولیشن 2018 کے تحت منسوخ کردیا گیا تھا لیکن انتظامیہ سے منسلک افسران عدالتی اختیارات کا استعمال کرتے رہے۔

قبائلی اضلاع کے انتخابات میں لڑنے والے امیدواروں کے مطابق سابق فاٹا سے امیدوار منتخب تو ہوتے رہے ہیں لیکن ان علاقوں کے لیے کچھ خاص نہیں کرسکے۔

اس بار انتخابات میں حصہ لینے والی بڑی سیاسی جماعتوں میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نواز، جمیعت علما اسلام (ف) اور عوامی نیشنل پارٹی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فاٹا انتخابی مہم ‘انضمام’ کا پہلو نمایاں کیوں؟

فاٹا اصلاحات کی کہانی

قبائلی علاقوں میں انتخابات:’اب ہر قبائلی کو آزادی حاصل‘

امن و امان کی صورتحال اور قبائلی اضلاع

لیکن الیکشن کمیشن کے قبائلی اضلاع میں فوج تعینات کرنے کے فیصلے پر کڑی تنقید ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا اعتراض بھی سامنے آیا ہے۔

حزبِ اختلاف کے اس مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ فوج کو صرف پولنگ سٹیشن کے باہر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے تعینات کیا جائے گا۔ تاہم ‘حساس’ تصور کیے جانے والے پولنگ سٹیشن پر انتظامیہ فوج کو پولنگ سٹیشن کے اندر بھی تعینات کرے گی۔

الیکشن

EPA
قبائلی اضلاع میں فوج تعینات کرنے کے فیصلے پر کڑی تنقید ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا اعتراض بھی سامنے آیا ہے

اس بارے میں خیبر پختونخواہ کے گورنر شاہ فرمان نے بی بی سی کو بتایا کہ “فوج کا کام انتظامی سے زیادہ انتخابات کی شفافیت کو ممکن بنانے کے حوالے سے ہوگا۔”

قبائلی اضلاع میں انتخابات 18 روز کی تاخیر کے بعد 20 جولائی کو ہوں گے۔ یاد رہے کہ یہ تاخیر حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے کہنے پر اور وزیرستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو جواز بنا کر کی گئی تھی۔

سیاسی جماعتوں کی سابق فاٹا میں تاریخ

جولائی 2018 کے انتخابات میں یہ شاید پہلی بار ہوا تھا کہ فاٹا کی 12 نشستیں سیاسی جماعتوں کے حصے میں آئیں۔

باجوڑ، کُرّم، اورکزئی اور خیبر سے پاکستان تحریکِ انصاف جیت کر سامنے آئی تھی جبکہ باقی نشستیں پشتون تحفظ موومنٹ کے دو، جمیعت علما اسلام کے تین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک امیدوار نے جیتیں۔

2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں چھے نشستیں قبائلی اضلاع کے ملِکوں کے حصے میں آئیں جبکہ تین نشستوں پر مسلم لیگ نواز، ایک پر پاکستان تحریکِ انصاف اور ایک پر جمعیت علما اسلام (ف) کے امیدوار منتخب ہوئے۔

ماہرین کے مطابق 2011 میں پاکستان پیپلز پارٹی نے پولیٹیکل پارٹی ایکٹ کو فروغ دیا جس کے نتیجے میں سیاسی جماعتیں باضابطہ طور پر انتخابات میں حصہ لے سکیں اور فاٹا میں ان کی ساکھ مضبوط ہوئی۔

اس سے پہلے سابق فاٹا میں آزاد امیدوار انتخابات جیتنے کے بعد اپنی من پسند سیاسی جماعت کا انتخاب کرکے اس میں شامل ہوجاتے تھے۔ لیکن 2011 میں پولیٹیکل پارٹی ایکٹ کے تحت سیاسی جماعتیں مضبوط ہوئیں جس کے نتیجے میں آزاد امیدواروں کے لیے میدان تھوڑا تنگ ہوگیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10806 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp