امریکہ، ایران کشیدگی: امریکہ کا سعودی عرب میں فوج تعینات کرنے کا اعلان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ

AFP
امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل کینتھ میکنزی نے جمعرات کو سعودی عرب کا دورہ کیا

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ خطے میں امریکی مفادات کو ’درپیش قابلِ یقین خطرات’ کے پیشِ نظر امریکی افواج کو سعودی عرب میں تعینات کیا جا رہا ہے۔

یہ اقدام خلیج میں ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے دوران بحری راستوں کی حفاظت کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ شاہ سلمان نے علاقائی سکیورٹی اور استحکام کو مضبوط کرنے کے لیے امریکی افواج کی تعیناتی کی اجازت دے دی ہے۔

یاد رہے کہ سنہ 2003 میں عراق جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی افواج کی سعودی عرب سے روانگی کے بعد اب یہ پہلا موقع ہو گا کہ سعودی عرب امریکی افواج کی میزبانی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے

’ایران کا اقدام ناقابل یقین بدنیتی پر مبنی ہے‘

امریکہ، ایران اور خلیج: آگے کیا ہو سکتا ہے؟

ایران کے لوگ امریکہ کے ساتھ تنازع پر کیا رائے رکھتے ہیں؟

سعودی عرب میں امریکہ کی موجودگی سنہ 1991 میں آپریشن ڈیزرٹ سٹارم کے تحت اس وقت شروع ہوئی تھی جب عراق نے کویت پر حملہ کر دیا تھا۔

شمالی امریکہ میں بی بی سی کے نامہ نگار پیٹر بویس نے کہا کہ ایسا سمجھا جا رہا ہے کہ امریکہ 500 فوجیوں کی نگرانی میں سعودی عرب کے شہزادہ سلطان کے فوجی اڈے پر فضائی دفاع کے لیے پیٹریٹ میزائل تعینات کرے گا۔

اس کے علاوہ امریکہ کے منصوبے میں ایف-22 فائٹر طیارے شامل ہیں جو کہ ریڈار کی زد میں آئے بغیر اپنے کام کر سکتے ہیں۔

امریکہ کی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘فوج کی تعیناتی کا مقصد حفاظتی انتظامات کو مزید بہتر کرنا ہے تاکہ خطے میں سامنے آنے والے نئے معتبر خطرات سے ہمارے فوجیوں اور ہمارے مفادات کا دفاع یقینی بنایا جا سکے۔’

پس منظر

ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے تھے جب گذشتہ سال واشنگٹن نے یکطرفہ طور پر سنہ 2015 کے جوہری معاہدے سے خود کو علیحدہ کر لیا۔ اس کے بعد سے امریکہ نے ایران کے تیل کے شعبے پر از سر نو پابندیاں عائد کر دیں۔

گذشتہ ماہ ایران نے امریکہ کے ایک نگرانی کرنے والے ڈرون کو آبنائے ہرمز میں یہ کہتے ہوئے مار گرایا تھا کہ اس نے ایران کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔ جبکہ امریکہ نے زور دے کر کہا کہ ان کا ڈرون بین الاقوامی فضائی حدود میں تھا۔ امریکہ نے ایران پر اشتعال انگیز حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔

امریکہ نے ایران سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاناما کے تیل بردار بحری ٹینکر اور اس پر سوار عملے کے 12 اراکین کو چھوڑ دے۔ اس ٹینکر کو اتوار کے روز بحری گشت کے دوران پاسداران انقلاب نے پکڑ لیا تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ بحری ٹینکر تیل کی سمگلنگ کر رہا تھا۔

اس کے بعد جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایک امریکی جنگی جہاز نے ایران کے ایک ڈرون کو تباہ کر دیا ہے جو کہ ان کے تیل بردار جہاز کے بہت زیادہ قریب آ گیا تھا جبکہ ایران نے اپنے کسی ڈرون کے مار گرائے جانے سے انکار کیا ہے۔

جمعے کو کشیدگی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب ایران نے برطانیہ کے تیل بردار جہاز ‘سٹینا امپیرو’ کو یہ کہتے ہوئے خلیج میں پکڑ لیا کہ اس نے ضابطے کی خلاف ورزی کی ہے۔

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ جیرمی ہنٹ نے ٹینکر کو چھوڑے جانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ایران اس کو روکے رکھتا ہے تو اس کے ‘سنگین نتائج’ ہوں گے۔

اس کے علاوہ امریکہ نے خلیج عمان میں مئی اور جون کے مہینوں میں ایران پر دو دوسرے ٹینکروں پر حملے کا الزام لگایا ہے جسے تہران نے مسترد کر دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12783 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp