قوم کو عظیم حکمران بناتے ہیں یا عوام؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا پاکستان ایک عظیم ملک بنے گا؟ اس سوال کا جواب میرے لیے ایسے ہی ہے جیسے ایک عام مسلمان میں جنت اور دوزخ کا ہے۔ کام تو جنت کے حقداروں والے ہیں نہیں لیکن جنت کی خواہش اتنی جتنی کہ ایک نہ پڑھنے والے طالب علم کو کامیابی کی ہوتی ہے۔ ہماری پاکستانی قوم ایک عظیم قوم بننا تو چاہتی ہے لیکن کسی دوسرے ملک میں جاکر۔ ہمیشہ ہم کسی دوسرے ملک میں جاکر ایک مہذب شہری بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو پاکستان میں رہ کر ہمارے دماغ میں کبھی آتا ہی نہیں۔

جب ہم مثالیں دیتے ہیں تو ہماری مثال میں پہلا ملک انگلستان آتا ہے۔ وہاں پر دیکھو حکومت اپنے شہریوں کا خیال کیسے رکھتی ہے۔ وہاں پر لوگ کیسے اپنے کام میں مگن ہوتے ہیں۔ اور کسی کو دھوکا دینے کا تو تصور بھی نہیں پایا جاتا۔ کوئی ایسی سہولت نہیں جو وہاں انسان کو میسر نہ ہو۔ وہاں پر تو صفائی کا بھی بہت خیال رکھا جاتا ہے جیسے اُن میں بھی صفائی نصف ایمان ہو! سڑکیں اور مارکیٹس شیشے کی طرح صاف لگتی ہیں۔ لیکن کیا ہم پاکستان میں اُن باتوں کا خیال رکھتے ہیں جو انگلستان کہ شہری انگلستان میں رکھتے ہیں؟ پاکستان میں تو ٹیکس دینا ایک گناہ سمجھا جاتا ہے۔ شاید یہی کام پوری دنیا کہ مہذب ممالک میں ثواب سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں لوگوں کو ٹیکس دینے کی ترغیب دینا ایسے ہی ہے جیسے بھینس کے آگے بین بجانا۔

تاریخ میں جس طرح سے عِمرانی مہنگائی، نواز کی فنکاری اور زرداری کی عیاری کو یاد رکھا جائے گا اسی طرح سے پاکستانی قوم کو بھی یاد رکھا جائے گا۔ جس نے پاکستان کو آگے نہ بڑھنے دینے میں ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہمیشہ ایک بات کی جاتی ہے کہ اگر پاکستان کو کوئی اچھا حکمران ملتا تو پاکستان اب تک ایک کامیاب اور عظیم ملک بن گیا ہوتا۔ یہاں سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ دوسرے ممالک کے حکمران آسمان سے اُترتے ہیں؟ یا پھر اُن کو انہی لوگوں میں سے چُنا جاتا ہے۔ جیسے لوگ ویسے ہی اُن کے حکمران، یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ ہم خود تو ہر کسی کو چونا لگانا چاہتے ہیں لیکن خود اس سے بچنا چاہتے ہیں۔ وہاں ہم یہ بات بھول جاتے ہیں دنیا تو مکافاتِ عمل کا نام ہے جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔

پاکستان میں ایک بات کی جاتی ہے کہ پاکستان کو ایک امیر طبقے نے بہت نقصان پہنچایا۔ اس بات سے میں بھی اتفاق کرتا ہوں لیکن متوسط اور غریب طبقے نے بھی کسی نہ کسی حد تک اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اگر ہم کسی مزدور کی بات کرتے ہیں تو کیا وہ اُس حساب سے کام کرتا ہے جس حساب سے وہ اپنی دیہاڑی کے پیسے وصول کرتاہے؟ ایک دکاندار اتنا ہی منافع لیتا ہے جتنا اُسے لینا چاہیے؟ دکاندار اپنا مال بیچنے میں عدل کرتا ہے؟ کیا وہ مال میں ملاوٹ نہیں کرتا؟

کیا چوکیدار پوری رات جاگ کر اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے؟ کیا نوکر سامان لاتے ہوئے پیسے نہیں مارتا؟ کیا نوکرانی آپ کے بچے کا خیال ایسے ہی رکھتی ہے جیسے اُسے رکھنا چاہیے؟ یقین مانیں ہم میں اخلاق نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔ اگر ہم اپنے اہم اور معتبر ادارے کا ذکر کریں جس کو ریاست کا ایک اہم ستون بھی کہا جاتا ہے، عدلیہ۔ کیا کوئی ملک انصاف کے بغیر قائم رہ سکتا ہے؟ جس ملک میں انصاف نہیں ملتا اُس کا تو پھر کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا۔

کیا پاکستان میں کسی غریب کو انصاف ملتا ہے؟ کبھی جج امیر لوگ خرید لیتے ہیں اور کبھی سیاست دان اور جرنیل دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کے فیصلے کروا لیتے ہیں۔ ہمارے وکلا کی تو بات ہی نہ کریں۔ جن لوگوں نے انصاف کو مشکل بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ان کو تو بس پیسے چاہیئں۔ کیس کولٹکانے کا فن ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ اچھا وکیل غریب سے بہت دور رہتا ہے۔ اگر پولیس کی بات کی جائے تو کبھی ان لوگوں نے بڑے چور کو پکڑا؟

کبھی کسی غریب کی داد رسی کی؟ کبھی کسی سفارش کہ بغیر کسی غریب کا پرچہ کاٹا؟ اگر بات بیوروکریٹس کی ہو تو یہ پاکستان کا پڑھا لکھا طبقہ ہے جو حکومت اور عوام کہ درمیان تعلق کا کام کرتا ہے۔ حکومتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں لیکن ان لوگوں کی عادتیں کبھی بھی ٹھیک نہیں ہوتی۔ یہ لوگ ہمیشہ اپنے ماحول میں مگن رہتے ہیں جس دن ان لوگوں نے اپنی ذات سے ہٹ کر ملک کے لیے کام کرنا شروع کر دیا بہت سے معاملات حل ہو جائیں گے۔

پاکستان فوج جو پاکستان کہ دفاع میں ریڑھ کی ہڈی کا مقام رکھتی ہے اور بہت اہم ادارہ ہے۔ ان میں بھی ایسے لوگ آئے جن لوگوں نے آئین کو توڑ کر ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اسی لئے تو کہا جاتا ہے جمہوریت جتنی بھی بری ہو آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔ اب اگر بات کی جائے صحافیوں کی جو پیسے لے کر سچی خبر کو جھوٹا اور جھوٹی خبر کو سچا دکھانے کا فن ایسے جانتے ہیں جیسے ایک آم کے ٹھیلے والا اچھی وضع کے آموں میں خراب آم ڈالنے کا فن جانتا ہے۔

اب بات مقدس لوگوں کی مطلب سیاستدانوں کی جو باتیں تو ایسے کرتے ہیں جیسے ان سے زیادہ ملک کا خیر خواہ کوئی بھی نہیں لیکن جتنا برباد ان سیاستدانوں نے ملک کو کیا شاید ہی کسی اور نے کیا ہوگا۔ ان کہ بچے باہر، ان کی جائیدادیں باہر، ان کا بزنس باہر، پاکستان میں صرف ان کی حکومت ہوتی ہے۔ جعلی ڈگریاں ان کی ہوتی ہیں۔ دوسرے ملکوں کی شہریت حاصل کرنے میں یہ لوگ سب سے آگے ہوتے ہیں۔ جو لوگ ایم این اے اور ایم پی اے کے ٹکٹ لینے کے لئے کروڑوں روپے دیتے ہیں کیا وہ لوگ اپنے پیسے واپس نہیں نکالیں گے وہ بھی دگنے کر کے؟ یہ کسی غریب کی وفات پر فاتحہ پڑھنے نہیں جاتے بلکہ ووٹر کو پکا کرنے آتے ہیں کہ اب ووٹ کا اصل حقدار صرف میں ہوں۔

یہ سب باتیں تو تھیں مجموعی طور پر اور اب بات کرتے ہیں انفرادی طور پر کہ کیا ہم خود ٹھیک ہیں؟ جب ہم کسی اور کے پیسے پر کھانا کھا رہے ہوتے ہیں تو اتنا ہی کھاتے ہیں جتنا ہم اپنے پیسوں سے خرید کر کھاتے ہیں؟ کیا ہم دوسرے کی گاڑی بھی اسی طرح سے چلاتے ہیں جس طرح سے اپنی گاڑی کو چلاتے ہیں؟ کیا ہم خود بھی دوسروں کی طرح قطار میں کھڑے ہوتے ہیں؟ کیا ہم اشارے پر رُکتے ہیں؟ کیا ہم خود بھی لوگوں کی اتنی مدد کرتے ہیں جتنی توقع ہم دوسروں سے مدد کی رکھتے ہیں؟

یا پھر یہ سب باتیں صرف کہنے کی حد تک ہیں؟ کیا ہم جب دوسرے ملک میں جاتے ہیں تو وہاں پر صفائی کا خیال رکھتے ہیں؟ اگر رکھتے ہیں تو اسی طرح سے اپنے ملک میں بھی صفائی کا خیال رکھتے ہیں؟ کیا ہم تب ہی کوئی برا کام یا چوری کرنے سے خود کو روکتے ہیں جب سامنے لکھا ہوا نظر آتا ہے کہ آپ کو کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے؟ ہم کہنے کو تو اسلامی ملک کے شہری ہیں لیکن حقیقتاً ہمارا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان میں بچوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات اس بات کی ترجمانی کرتے ہیں کہ ہم اسلام سے کتنا دور ہو تے جا رہے ہیں۔

یہ وحشت کی صرف ایک مثال تھی اور بہت سی دی جا سکتی ہیں۔ ہم مغربی ممالک پر تنقید تو بہت کرتے ہیں لیکن اپنی طرف نہیں دیکھتے۔ اگر میں کہوں کہ پاکستان میں اس وقت اخلاقیات کا فقدان ہے تو یہ بات غلط نہیں ہوگی۔ ہمیں ٹیکس دینا ہوگا۔ قانون کی پاسداری کرنا ہوگی۔ اپنا محاسبہ کرنا ہو گا۔ فرشتے آسمان سے اُتر کر یہ ملک ٹھیک نہیں کریں گے۔ پاکستان کو ایک عظیم ملک بنانے کے لئے سب سے پہلے ہمیں ایک عظیم قوم بننا ہوگا۔ ہمیں خود کو بدلنا ہوگا اپنے ملک کی خاطر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد شمریز کی دیگر تحریریں
محمد شمریز کی دیگر تحریریں