شاہد لطیف اینڈ کو: تجزیہ کار بھی، ٹھیکے دار بھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں اس وقت ٹوئٹر پر شاہد لطیف صفِ اوّل کے ٹرینڈز میں شامل ہیں۔ اس ٹرینڈ کی وجہ پاکستان میں ہوابازی کے نگران ادارے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے مسافروں کے سامان کو پلاسٹک میں لپیٹنے کے لیے ایک کمپنی کو دیا گیا ٹھیکہ ہے جس کے سربراہ فضائیہ کے سابق سینیئر اہلکار ایئر وائس مارشل شاہد لطیف ہیں۔

جہاں لوگ اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں وہیں ایئر مارشل شاہد لطیف کی کمپنی کو یہ ٹھیکہ دینے پر بھی شدید اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔ ایئر مارشل شاہد لطیف ریٹائرمنٹ کے بعد اب ایک دفاعی تجزیہ کار ہیں جو مختلف ٹاک شوز میں دکھائی دیتے ہیں۔

سامان کی پلاسٹک ریپنگ یا اسے پلاسٹک میں لپیٹنے کے حوالے سے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 17 جون 2019 کو ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں یہ لکھا کہ ’مسافروں کے سامان میں قیمتی اشیا کے تحفظ کے لیے سامان کو پلاسٹک میں لپیٹنے کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔‘

اس پریس ریلیز کے دو دن بعد اخبارات میں اس ٹھیکے کے لیے اشتہار دے دیا اور اس سے متعلق کمپنیوں کو ٹینڈر کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ سول ایویشن اتھارٹی کے ایک سینئیر اہلکار نے بی بی سی کو اس نوٹیفیکشن کا سکرین شاٹ دکھایا جس کے تحت شاہد لطیف کی کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا تھا۔

اس ٹینڈر کے نتیجے میں جب شاہد لطیف کے تجزیوں کی طرح جب ان کی کمپنی ٹھیکہ لینے میں کامیاب ہوئی تو پھر سوشل میڈیا پر جاری بحث شدت اختیار کر گئی۔

سینیئر صحافی طلعت حسین نے لکھا ’شاہد لطیف جو پاکستان کے تحفظ کے لیے روزانہ رات کو تجزیے کرتے دکھائے دیتے ہیں بہت سارا پیسہ بنائیں گے۔ اور آپ یقیناً انھیں ادائیگی کریں گے کیونکہ آپ کو اپنے سامان کو پلاسٹک میں لپیٹنے کے لیے مجبور کیا جائے گا۔ یہ لازمی ہو گا اگرچہ دنیا کے جانے مانے ہوائی اڈوں پر یہ سہولت آپ کی مرضی پر منحصر ہوتی ہے۔‘

https://twitter.com/TalatHussain12/status/1152560641158385664

ٹوئٹر پر بہت سے صارف ایئر وائس مارشل کی جانب سے اپنے تجزیوں میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی حمایت کو اس ٹھیکے کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔

اسد ذوالفقار خان نے لکھا ’شاہد لطیف کی کمپنی ایئر کائرو کو ایئرپورٹس پر سامان لپیٹنے کا ٹھیکہ ملا۔ اس حکومت نے سامان کو پلاسٹک سے لپیٹنے کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ اگر یہ بدعنوانی نہیں ہے تو پھر یہاں دیکھنے کو کچھ نہیں۔‘

ثاقب راجہ نے لکھا ’ہر روز ٹاک شوز میں سیاستدانوں کو برا بھلا کہنے کا معاوضہ وصول؟ اب ہر مسافر کو اس معاوضہ میں حصہ ڈالنا ہو گا۔‘

https://twitter.com/SaqibRaja__/status/1152591382986612736

سول ایوی ایشن کے لیے پلاسٹک میں سامان لپیٹنے کا معاملہ اتنا اہم ہے کہ 12 جولائی کو وفاقی وزیر برائے ہوا بازی نے بھی اس بارے میں بیان جاری کیا اور کہا کہ یہ سہولت ہر ہوائی اڈے پر ہونی چاہیے۔

پھر 16 جون کو سیکرٹری ایوی ایشن جو سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل بھی ہیں نے بیان جاری کیا کہ رپینگ کا ریٹ تمام قسم کے سامان کے لیے 50 روپے ہو گا۔ جو کہ 200 سے لے کر 400 روپے تک تھا۔

جہاں لوگ اس زبردستی پر تنقید کر رہے ہیں وہیں پلاسٹک کے استعمال پر بھی تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ سول ایوی ایشن ان دنوں صاف اور سرسبز پاکستان مہم بھی چلا رہی ہے۔

https://twitter.com/RezaAli1980/status/1152472501492076545

اتنے سارے پلاسٹک کے استعمال پر ہارون بلوچ نے ٹویٹ کی ’اس حکم کے اطلاق پر میرا شدید احتجاج۔ یہ مسافروں کے صوابدیدی حقوق کے منافی ہے۔‘

رضا علی نے لکھا ’یہ بالکل غیر منصفانہ اور بے وجہ ہے۔ پلاسٹک کا استعمال بڑھانا جب پوری دنیا اس کا استعمال کم کر رہی ہے۔ یہ کمرشل کام ہے اور کچھ نہیں۔ یہ فیصلہ واپس لیا جانا چاہیے۔‘

یاد رہے کہ 17 جولائی کو ہی وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ کیا تھا۔

شاہد لطیف کمپنی کتنا کمائے گی؟

اس حساب سے اگر جائزہ لیا جائے تو ایک بوئنگ 777 طیارے میں اوسطاً 350 مسافر بیٹھتے ہیں اور ہم 300 کے حساب سے فی مسافر دو دو بیگ لگائیں تو ایک پرواز سے ایئر وائس مارشل شاہد لطیف کی کمپنی 30 ہزار روپے کمائے گی۔

اور روزانہ پاکستان کے صرف پانچ بڑے ہوائی اڈوں سے اگر دس پروازوں کے اوسط 200 مسافر ہوں تو یہ کمپنی ایک دن میں پانچ لاکھ کی دیہاڑی لگائے گی۔

مگر کاروبار منافع کے لیے ہوتا ہے اور ایسا کاروبار جس کے لیے سب کو آرڈر جاری کیا جائے کہ خریداری کرنی ہے اس کی کامیابی تو یقینی ہے۔

شاہد لطیف کا موقف

شاہد لطیف نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی کمپنی ان کے چھوٹے بھائی نے بنائی تھی اور دستاویزات میں انھیں نگران ظاہر کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق یہ کمپنی کئی سال سے کام کررہی ہے جس نے دو سال قبل سول ایویشن سے ایک پانچ سال کا کنٹریکٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’بھائی کے انتقال کے بعد یہ کمپنی میں ہی چلا رہا ہوں جس سے ان کے بچوں کی دیکھ بھال کرتا ہوں۔‘

شاہد لطیف کا موقف ہے کہ ان کی کمپنی کو سول ایویشن نے پانچ سال کے لیے منتـخب کیا ہوا ہے اور جو ٹھیکے بھی اس کمپنی کو ملتے ہیں یہ وہ کام کرتی ہے۔ ’ابھی میری اس کمپنی کا سول ایویشن کے ساتھ مزید تین سال کا کنٹریکٹ ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10388 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp