ہماری زندگی کا سب سے اہم کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری زندگیوں میں ایک کام ایسا ہے جو دنیا کے باقی تمام کاموں سے زیادہ اہم ہے، زمانہ قدیم سے اس کام کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ہماری زندگی کا ہر لمحہ، ہمارا حال، ہمارا مستقبل اس کام سے جڑا ہے، یہ کام جتنا اہم ہے اتنا ہی مشکل بھی ہے۔ ہم سب اس کی اہمیت اور مشکل سے آگاہ ہیں مگر اس کے باوجود زیادہ تر لوگ اس کام میں دلچسپی نہیں لیتے، اپنی زندگی کا جتنا وقت ہم دیگر کاموں میں صرف کرتے ہیں اس کا عشر عشیر بھی اس اہم ترین کام میں نہیں لگاتے اور سمجھتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ کام کسی خود کار نظام کے تحت ہوتا چلا جاتا ہے اور یہی ہماری زندگی کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔

یہ کام ہے بچوں کی تربیت۔ یہ درست ہے کہ ہم اپنے بچوں سے بہت پیار کرتے ہیں، ان کی خاطر دن رات کام کرتے ہیں، اپنی بساط سے بڑھ کر انہیں مہنگے اور اعلیٰ اسکولوں میں پڑھاتے ہیں، ہماری زندگی کی مصروفیات کا کوئی نہ کوئی حصہ بچوں سے جڑا ہوتا ہے، ماؤں کی زندگیاں تو اپنے بچوں کے گرد ہی گھومتی رہتی ہیں خاص طور پر اگر وہ چھوٹے ہوں، بچے اگر بیمار ہو جائیں تو ہماری جان نکل جاتی ہے، بچوں کے امتحان ہو رہے ہوں تو ہم دیوانے ہو جاتے ہیں، ان کے نمبر اچھے آجائیں تو ہم خوشی سے پاگل ہو جاتے ہیں، نمبر برے آ جائیں تو ماتم کرنے لگتے ہیں۔

یہ تمام کام کرتے ہوئے ہم یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم بچوں کی تربیت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں جبکہ درحقیقت ان باتوں کا مطلب یہ ہے کہ ہم بچوں کی صرف پرورش کر رہے ہیں، تربیت نہیں۔  بچے کو دودھ پلانا، اس کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا، اس کو پڑھانا لکھانا، کپڑے پہنانا، یہ سب اس کی پرورش کا تقاضہ ہے، اس کی ضروریات ہیں، جیسے جانور اپنے بچوں کو خوراک کھلاتے ہیں یا انہیں باقی جانوروں سے محفوظ رکھتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کی پرورش کر رہے ہوتے ہیں، تربیت کا کام اس سے مختلف ہے۔

بچوں کی تربیت کے لئے ضروری ہے کہ والدین کی تربیت ٹھیک ہوئی ہو اور اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ والدین کو علم ہو کہ بچوں کی تربیت کیسے کی جائے۔  کیسی عجیب بات ہے کہ ہم سردرد کی گولی کھانے سے پہلے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرتے ہیں مگر بچوں کی تربیت کے لئے کسی سے مشورہ ضروری نہیں سمجھتے، ڈرائیونگ لائسنس کے لئے ضروری ہے کہ ہم نے گاڑی چلانے کی تربیت حاصل کی ہو مگر بچوں کی تربیت کے لئے ہمیں کسی تربیتی کورس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

بچوں کی تربیت جیسا اہم ترین کام ہم یونہی تیر تکے پر کرتے ہیں اور تحت الشعور میں سمجھتے ہیں کہ بطور والدین یہ کام ہم قدرتی طور پر انجام دے رہے ہیں۔  ایسا نہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے میں بالکل ہی لاپروا ہیں، کم ازکم ہماری خواہش ضرور ہے کہ ہمارا بچہ ایک اعلیٰ انسان بنے، زندگی میں کامیاب ہو، ساری دنیا کا علم گھول کر پی جائے، ذہنی اور جسمانی طور پر چاق و چوبند ہو، بلند کردار ہو، نظم وضبط سے زندگی گزارے، صبح چھ بجے اٹھ کر ورزش کرے، آٹھ بجے تک تمام اخبارات پڑھ ڈالے، نو بجے تک اس میں بجلی بھر چکی ہو، شام کو گھر واپس آئے تو تب بھی اس کے جسم سے شعائیں نکل رہی ہوں، رات سونے سے پہلے کسی کتاب کا باب ختم کر ڈالے، والدین کا تابع فرمان ہو، چھوٹوں سے پیار کرے بڑوں کا ادب کرے، سگریٹ کو ہاتھ نہ لگائے، پانی کو آب زم زم سمجھ کر پئے، رات کا کھانا چھ بجے کھا لے، شام کو چہل قدمی کے دوران ہلکی موسیقی سے دل بہلا لیا کرے اور مہینے میں ایک آدھ بار سنیما بھی چلا جائے تو کوئی حرج نہیں۔  گویا ہم اس میں آئیڈیل اولاد کی وہ تمام خوبیاں دیکھنا چاہتے ہیں جن میں سے نوّے فیصد خود ہم میں کبھی موجود نہیں تھیں یا یوں کہیے کہ اپنی تمام نا آسودہ خواہشات کی تکمیل ہم بچوں کے ذریعے پوری کرنا چاہتے ہیں۔

دراصل بچوں کی تربیت کے معاملے میں والدین سے عموماً پانچ قسم کی لغزشیں ہوتی ہیں۔  پہلی، والدین اپنا وقت بھول جاتے ہیں، آپ میں سے جو لوگ چالیس یا پچاس کے پیٹے میں ہیں اور ان کے بچے اس وقت میٹرک ایف اے میں ہیں ذرا سوچیں کہ ان کی عمر میں آپ کتنے خود سر تھے، کیا کیا حرکتیں کرتے تھے، اب ہمیں اپنے بچوں میں وہ خود سری قبول نہیں۔  مجھے یاد ہے کہ امتحانات کے بعد میں کئی کئی ہفتے سوتا رہتا تھا مگر آج مجھے اپنے بچے کا دن چڑھے تک سونا اچھا نہیں لگتا، کئی کئی گھنٹے میں ویڈیو گیم کھیلتا تھا، مگر آج میں اپنے بچے کو فورٹ نائٹ کھیلتا دیکھتا ہوں تو اسے ویڈیو گیم کے نقصانات گنوانے بیٹھ جاتا ہوں اور وہ غریب میری شکل تکتا رہتا ہے۔

تربیت میں دوسری کوتاہی ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ زندگی میں جو نقصانات ہم نے اٹھائے وہی غلطیاں دہرا کر ہمارے بچے بھی نقصان اٹھائیں۔  یہ ممکن نہیں جس طرح اپنے والدین کے سمجھانے کے باوجود ہم نے وہ تمام (یا کچھ) کام کیے جن سے ہمیں منع کیا گیا تھا اسی طرح بچے بھی ان میں سے کچھ کام کریں گے اور اگر آپ بہت زیادہ سختی کریں گے تو پھر وہ اس موقع پر کریں گے جب انہیں نقصان سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اسے اپنے نفع نقصان، بھلے برا کا اچھی طرح سمجھا دیں اور پھر اس کی سمجھ بوجھ پر یہ سوچ کے اعتماد کریں کہ آپ نے اپنی عمر میں کیا کارنامہ انجام دیا تھا۔

تیسری، بچوں کو ہر وقت کٹہرے میں کھڑا نہ کریں، تم نے صبح برش کیوں نہیں کیا، آج کتاب کیوں نہیں پڑھی، تمہارا حساب کیوں کمزور ہے، یہ سب باتیں ہر وقت کرنی ضروری نہیں، بچے کو یہ نہیں لگنا چاہیے کہ جب بھی وہ آپ کے قریب آئے گا آپ اس سے باز پرس کریں گے۔  قطع نظر اس بات سے کہ آپ بچوں کے مفاد میں ہی یہ سوال کرتے ہیں مگر ہر وقت کا حساب کتاب آپ کو بچے سے دور کر دے گا، بچے سے یہ دوری کبھی پیدا نہیں ہونی چاہیے، دوری سے بچے کا آپ پر اعتماد کم ہوتا چلا جاتا ہے۔

چوتھی بات، اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچے کوئی اچھی عادت اپنائیں یا کوئی ہنر سیکھیں تو یہ کام محض ہمارے حکم جاری کرنے سے نہیں ہوگا، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بیٹی روزانہ صبح ورزش کرے تو حکم دینے کے بجائے خود صبح اٹھیں اور ورزش کے لئے اسے ساتھ لے جائیں، اگر آپ کا بیٹا وائلن بجانا سیکھ رہا تھا اور اب یکایک اس نے محض اپنی سستی کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے تو وائلن اٹھائیں اور اس کے سامنے الٹا سیدھا بجانا شروع کر دیں، یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ آپ کے ہاتھ سے لے کر خود بجا کر نہ دکھائے۔

آخری بات، ہم بچوں میں اعلیٰ کردار کی خصوصیات تو دیکھنا چاہتے ہیں مگر خود ان کا عملی مظاہرہ نہیں کر پاتے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے وعدے کی پاسداری کریں، سچ بولیں، دیانت دار بنیں، دوسروں کی رائے کا احترام کریں، دلیل سے بات کریں تو ہمیں ان تمام باتوں پر خود عمل کرنا ہوگا، ایک خاص عمر کے بعد بچوں کو صرف دلیل کے بل پر ہی سمجھایا جا سکتا ہے، حکم کے زور پر نہیں۔  بچے وہ نہیں بنتے جو آپ انہیں بنانا چاہتے ہیں، بچے وہ کرتے ہیں جو وہ آپ کو عملاً کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 351 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada