سعودی عرب: خودکشی یا خوشحالی کی راہ پر؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب کوئی قوم یا فرد خودکشی کرنے پر تل جائے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ آل سعود اپنے سینے میں خود ہی خنجر پیوست کرنے پر تلے ہو ئے ہیں کون ان کو روکے گا؟ شہزادہ محمد بن سلمان مشرقی وسطی کو نیا یورپ بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں ”اگلے پانچ سال میں سعودی عرب سمیت پورا مشرق وسطی بدل جائے“ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے عرب دنیا کے رہنماؤں کی بیٹھک میں تالیوں کی گونج میں یہ اعلان کیا تو دوسرا اعلان ان کے والد شاہ سلمان نے کرکے معاملہ اور بھی صاف کردیا کہ مشرقی وسطی میں امریکی فوج کی میزبانی سعودی عرب کرے گا تاکہ خطے میں امن وسلامتی کو یقینی بنایاجاسکے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ سعودی شاہ سلمان کی امریکی فوج کی میزبانی کی خبر درست ہے۔ اس کا مطلب بھی امریکی محکمہ خارجہ نے یوں سمجھایا کہ امریکہ سعودی عرب میں اپنے فوجی دستے تعینات کرے گا اور اپنے وسائل (یعنی دیگر فوجی سازوسامان) مہیا کرے گا تاکہ سامنے آنے والے ٹھوس اور ہنگامی نوعیت کے خطرات میں اضافی حفاظتی صلاحیت دستیاب رہے۔

قبل ازیں ایک تقریب سے خطاب میں شہزادہ محمد بن سلمان جو سعودی عرب کے حقیقی حکمران ہیں، انہوں نے غالبا پہلی مرتبہ اتنا کھل کر اپنا مافی الضمیر بیان کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب تو پانچ سال میں مکمل تبدیل ہونے جارہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بحرین، کویت بھی مکمل تبدیل ہونے جارہے ہیں ’حتی کہ قطر بھی۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے اختلافات کے باوجود قطر بھی اگلے پانچ سال میں مختلف ہوگا، اس کی معیشت مضبوط ہے۔ پھر بات جاری رکھتے ہوئے اپنی سوچ کو واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات (یواے ای) اومان، لبنان، اردن، مصر، عراق بھی اس تبدیلی کے عمل سے مکمل بدل کررہ جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال میں عالمی نشاۃ ثانیہ مشرق وسطی میں وقوع پزیر ہوگی۔ یہ سعودی عرب کی جنگ ہے۔ یہ میری جنگ ہے۔ میں مشرق وسطی کو دنیا میں سب سے آگے دیکھے بنا مرنا نہیں چاہتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہدف سوفیصد ہم حاصل کرلیں گے۔

ایک طرف سعودی عرب اور پورے مشرق وسطی میں تبدیلی کی خبر ہے تو دوسری جانب امریکی فوج کی سعودی عرب میں موجودگی سے ایک واضح اشارہ یہ ملتا ہے کہ ایک بڑے منصوبے پر عمل کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔

یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ امریکی بحری بیڑے اور دیگر افواج کی خلیج، اس خطے میں آمد بلاوجہ نہیں، یقینا یہ ایک بڑے منصوبے پر عمل کا آغاز ہے۔ ہورمز کے اہم ترین عالمی آبی گزرگاہ یا تجارتی بحری شاہراہ پر ہونے والی یہ صف آرائی گریٹ گیم کا ابتدائیہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

سعودی سرکاری خبررساں ادارے نے سعودی وزارت دفاع کے حوالے سے جاری کردہ تفصیل میں اشارہ دیا کہ سعودی عرب میں امریکی فوجی کی میزبانی کے فیصلے سے علاقائی سلامتی اور امن کے فروغ کے لئے مشترکہ تعاون میں اضافہ ہوگا۔

دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق تقریبا پانچ سو امریکی فوجی سعودی عرب میں تعینات کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ پینٹاگون نے مشرق وسطی میں امریکی فوجی دستوں میں اضافے کا اعلان کیا تھا، اب سعودی عرب میں امریکی فوج کے آنے سے اس تعداد میں اضافہ ہوجائے گا۔ جون میں پینٹاگون نے کہاتھا کہ مشرق وسطی میں ایک ہزار فوجی تعینات کیے جائیں گے لیکن اس وقت مقام کا نہیں بتایا گیا تھا کہ یہ فوجی کہاں بھیجے جارہے ہیں۔

ان بتدریج ہوتے اقدامات سے یہ سمجھنے میں اب دقت نہیں رہنی چاہیے کہ صدر ٹرمپ نے آخر کیوں ایران کے ساتھ ہونے والے عالمی جوہری معاہدے سے یک طرفہ طورپر نکلنے کا اقدام اٹھایاتھا۔ یہ اقدام مستقبل میں ہونے والے دیگر بہت سارے اقدامات کے سلسلے کی پہلی کڑی تھی، وقت کے ساتھ ساتھ اس کی جزئیات اور تفصیلات آشکارہ ہوتی جارہی ہیں اور آنے والے مہیب خطرات کا بھی اشارہ دے رہی ہیں۔ ٹرمپ مشرق وسطی میں سعودی عرب کو اہم شراکت دار بلاوجہ نہیں کہتے۔

شہزادہ محمد دو محاذوں پر بیک وقت کام کررہے ہیں۔ ایک طرف انہوں نے سعودی عرب میں معاشرتی وسماجی واقتصادی تبدیلی کے ایک بڑے پروگرام کا آغاز کردیا ہے۔ اسے 2030 ءکے لئے ان کی سوچ یا بصیرت کا نام دیا گیا ہے۔ شہزادہ محمد کے اس خواب کے لئے 96 اہداف مقرر کیے گئے ہیں جو 2030ء تک پورے کیے جائیں گے۔ اس خواب کی تکمیل کے لئے 13 پروگراموں کا اجراء کیا گیا ہے۔ ان میں معیاری زندگی، مالیاتی شعبے کی ترقی، مکانات کی تعمیر، مالیاتی توازن کے پروگرام شامل ہیں۔ وہ قومی زندگی میں مکمل تبدیلی کا پروگرام الگ سے شروع کرچکے ہیں۔ نجکاری، حج اور عمرے سے لے کر ثقافت تک ہر پہلو کی تبدیلی کا جامع سفر ہے جس کی انہوں نے ابتدا کی ہے۔ اس سارے کے نتیجے میں موجودہ سعودی عرب یہ نہیں رہے گا جو ہے۔ سوال یہ ہے کہ سعودی عرب میں کیا تبدیل کیا جا رہا ہے؟

اول سوال تو یہ ہے کہ سعودی عرب کی شناخت کیا ہے؟ اس کا معاشرہ کیا ہے؟ تبدیلی اگرآئے گی تو وہ کس نوعیت کی ہوگی؟ اس کے اثرات سعودی عرب میں مرتب ہوں گے تو اس کا ردعمل کیا ہوگا؟

سعودی عرب کی بنیادی حیثیت مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ جیسے پاکیزہ اور اسلامی دنیا کے لئے نہایت مقدس ومحترم مقامات کی وجہ سے ہے ناکہ کسی عرب ملک ہونے کی بنا پر۔ ان دونوں مقامات کی بنا پر سعودی معاشرے کو اسلامی دنیا میں ایک مثال کے طور پر غالب مسلمان آبادی لیتی ہے۔ اگر اس پہلو کو منہا کردیا جائے تو سعودی عرب کی حیثیت تیل پیدا کرنے والے ایک بڑے ملک سے زیادہ نہیں رہتی۔ اسلامی دنیا میں سعودی عرب میں ہونے والی تبدیلیوں کا براہ راست اثر مرتب ہوتا ہے۔ سعودی معاشرے میں اب جو تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں، دیگر اسلامی ممالک میں ان کے ماضی میں اثرات کے برعکس اب بالکل مختلف ہیں۔

ماضی میں سعودی عرب سے آنے والے اکثرعازمین یا عمرہ زائرین بیان کرتے تھے کہ وہ وہاں نماز، شعائر اسلامی کی بڑی پابندی ہے۔ وہ ایک مذہبی اور اسلامی معاشرہ ہے، گوکہ بعض کے اس ضمن میں مختلف خیالات اور تجربات بھی بیان ہوتے آئے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب سے سعودی عرب میں ثقافت کے نام پر موسیقی کے بڑے بڑے اجتماعات، لہوولعب کے دیگر ٹھکانوں کی بھرمار کی خبریں آنا شروع ہوئی ہیں، قدامت پسند معاشرے اور اس کے اثرات کے حامل اسلامی ممالک کے دیگر عوام اس پر ناک بھوں چڑھا رہے ہیں۔

کیا معاشرہ یورپی طرز زندگی کا یہ اثر قبول کرلے گا؟ اسی سعودی عرب میں اب خواتین آزادانہ سینما گھروں اور میوزیکل کانسرٹس میں شریک ہو رہی ہیں جہاں انہیں ڈرائیونگ کی اجازت نہیں تھی۔ روسی ”سُرخ کافروں“ کے خلاف ”جہاد“ میں سعودی عرب نے جتنے مدارس تعمیر کرائے، ان کے لئے ’مالی اعانت‘ کا منظم نظام استوار ہوا، دنیا بھر سے شوق شہادت اور جذبہ جہاد سے معمور دلوں کے ساتھ جہادیوں کو جمع کرنے کا پورا انتظام وانصرام کس کے سپرد تھا؟ آج یہ بھیانک خواب دکھائی دے رہا ہے۔ کہاں ایسے جہادیوں کی آوبھگت اور ان کی مہمان نوازی، ماتھوں پر بوسوں کی برسات اور حرمین شریفین کی زیارات کے پرکیف اہتمام اور کہاں آج یورپ کو پچھاڑنے کی باتیں۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ حجاز مقدس اس ’یورپی تبدیلی‘ ، ریشم میں اس ٹاٹ کے ساتھ کیسا دکھائی دے گا؟ آگ اور پانی کی آمیزش، بارود اور آگ کے ملاپ سے کون سا نیا تجربہ ہونے جارہا ہے؟ معاشی ترقی اور معاشرتی آزادیوں کے نام پر دو متصادم، متحارب اور مختلف خیالات، نظریات اور تہذیبوں کی آمیزش ممکن ہے؟ کیا پہیہ پھر سے ایجاد کرنا مقصود ہے؟

مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد حیات ہوتے تو شاید بہتر بیان فرماتے۔ آج تو وہ سکالر بھی کہیں ڈھونڈے نہیں مل رہے جو اس پر کوئی بات کرسکیں۔ شاید اس وقت مسواک کے مسائل بیان کرنا زیادہ اہم ہے۔ ’ویل للعرب‘ کا فقرہ جس جلالی انداز میں حدیث مبارک ﷺ بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر اسرار ادا کرتے تھے، یہ خبریں پڑھتے ہوئے آسمانی بجلی کی مانند ذہن میں کوندا۔

جس سرزمین سے یورپ کے اندھیرے دور ہوئے تھے کیا وقت آیا کہ یورپ کی اندھیر نگری سے عرب نے روشنی لینے کی ٹھانی ہے۔ وہ سرزمین جہاں مقدس ترین اور اللہ کے پیارے آخری پیمغبر ﷺ پوری دنیا کی ہدایت بن کر تشریف لائے، عربی زبان میں آخری آسمان کتاب نازل ہوئی، جہاں سے نور کا وہ ہالہ پھوٹا کہ دنیا کے کونے کونے تک اس کی روشنی پھیل گئی، جہاں کے معاشی نظام، عدل وانصاف نے جھاڑیوں پر لڑنے اور خوراک کی تلاش میں مارے مارے پھرنے والے بدوں کو اس قابل بنایا کہ زکوۃ کا مستحق ڈھونڈے نہیں ملتا تھا، قیصر وکسری کے درباروں میں جن کا مذاق اڑایاجاتا تھا، وہی ان عالمی طاقتوں کو پچھاڑ کر عالمی طاقت بنے تھے، آج اسی سرزمین پر یہ تبدیلی آرہی ہے۔ حدیث مبارک، مفسرین اور اہل نظر تو اسے تباہی قرار دے رہے ہیں۔ اہل بصیرت کے نزدیک تبدیلی تو کردار اور قلب سے تعلق رکھتی ہے، جیب سے نہیں۔ مغرب کے انگاروں سے گھر ہی خاکستر ہوئے ہیں، روشنی تو کسی کو نہیں ملی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •