پاک امریکہ تعلقات کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ سطور سوموار کی سہ پہر قلمبند کی جا رہی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان امریکہ کے پہلے دورے پر ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال اگست میں وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھایا تھا۔ ایک ماہ بعد یو این جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس تھا۔ پاکستان میں فوجی (یا نیم فوجی) ادوار میں صدرِ مملکت اور سیاسی حکومتوں میں وزیر اعظم اس اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔ عمران خان صاحب سے اس میں شرکت کا پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا، یہ محض ایک رسم ہے، جو ہر سال ادا کی جاتی ہے ، میں نہیں سمجھتا کہ اس میں میرا جانا ضروری ہے، پاکستان کی نمائندگی کے لیے شاہ محمود قریشی چلے جائیں گے۔
یہاں انہوں نے ہنستے ہوئے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ خاصے Unpredictable ہیں‘ ان سے کوئی بھی حرکت غیر متوقع نہیں ہوتی۔ جواب میں مجھ سے بھی نہ رہا گیا، تو بات بڑھ جائے گی (اسی سے ملتی جلتی بات شیخ رشید نے بھی گزشتہ دنوں کہی) اس سے پہلے دونوں میں ٹویٹس کا تبادلہ بھی کچھ ایسا خوشگوار نہیں رہا تھا، نومنتخب وزیر اعظم کے نام ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے مبارکباد کے ساتھ یہ ”یاد دہانی‘‘ بھی ضروری سمجھی کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو اربوں ڈالر دیئے، لیکن نتیجہ توقعات کے مطابق نہیں نکلا۔
وزیر اعظم عمران خان نے جوابی ٹویٹ میں شکریئے کے ساتھ، وہ جانی و مالی قربانیاں گنوا دیں، جو پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی تھیں۔ سرد مہری کی برف دسمبر میں وزیر اعظم پاکستان کے نام صدر ٹرمپ کے خط سے پگھلی، جس میں انہوں نے افغانستان میں امن عمل کے لیے پاکستان سے خصوصی تعاون کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور پھر گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ کی طرف سے دورۂ امریکہ کی باقاعدہ دعوت بھی موصول ہو گئی۔ اس کے ساتھ ایک دلچسپ صورت حال بھی پیدا ہو گئی۔ اس دورے سے اظہار لاعلمی کرتے ہوئے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان
کا کہنا تھا کہ اس بارے میں وائٹ ہائوس ہی کچھ کہنے کی پوزیشن میں ہے۔ ان غیر ملکی دوروں کی کئی اقسام ہوتی ہیں، سٹیٹ وزٹ، آفیشل وزٹ، بزنس وزٹ، پرائیویٹ وزٹ وغیرہ۔ وائٹ ہائوس کی دعوت پر وزیر اعظم عمران خان کا دورہ آفیشل ورکنگ وزٹ قرار پایا۔ یہ کئی لحاظ سے مختلف اور منفرد تھا۔ وزیر اعظم اور ان کے وفد نے قطر ایئرویز کی کمرشل فلائٹ سے سفر کیا۔ واشنگٹن میں ہوٹل کی بجائے ڈپلومیٹک انکلیو میں سفیر پاکستان کی رہائش گاہ میں سکونت کا فیصلہ کیا۔
تعداد کے لحاظ سے یہ مختصر وفد تھا، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی شرکت نے جسے بھاری بھرکم بنا دیا تھا۔ کہا جاتا ہے، وائٹ ہائوس کی ملاقات میں وزیر اعظم کے ساتھ اعلیٰ عسکری قیادت کی شرکت کا یہ پہلا موقع ہو گا۔ اس حوالے سے مریم نواز کے طنزیہ ریمارکس پر، فردوس عاشق اعوان صاحبہ کا جواب تھا کہ آپ کے والد محترم کے دورۂ سعودی عرب میں جنرل راحیل بھی تو ساتھ تھے۔
ماہرین امور خارجہ کا کہنا ہے کہ وائٹ ہائوس کی ملاقات میں افغانستان میں امن عمل اور امریکی فوجوں کا انخلا اہم ترین نکتہ ہو گا، چنانچہ یہاں پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت کی موجودگی اہم اور مفید ہو گی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بقول، اس سے دنیا کو سول اور عسکری قیادت کے ایک ہی صفحے پر ہونے کا میسج بھی جائے گا۔
یہاں ہمیں کارگل بحران کے خاتمے کے لیے وزیر اعظم نواز شریف کا دورۂ واشنگٹن یاد آیا۔ ایٹمی صلاحیت کے حامل دو پڑوسی ملکوں کے درمیان ”آل آئوٹ وار‘‘ کے خدشات بڑھتے جا رہے تھے۔ جنرل شاہد عزیز کے بقول ”ادھرکارگل کے سنگلاخ پہاڑوں پر ہماری پوسٹیں لگاتار گر رہی تھیں، جنرل مشرف اور جنرل محمود واضح طور پر خاصے پریشان دکھائی دیتے تھے اور کارگل سے با عزت انخلا کا سوچا جا رہا تھا (”یہ خاموشی کب تک‘‘؟)
جنوبی ایشیا میں ایٹمی خطرات کے سائے صدر کلنٹن کے لیے بھی تشویش کا باعث تھے۔ امریکی صدر اور وزیر اعظم پاکستان کے مابین کئی بار فون پر رابطہ ہو چکا تھا۔ وزیر اعظم نواز شریف ہفتہ وار چھٹی پر لاہور میں تھے اور جم خانہ میں کرکٹ کھیل رہے تھے کہ اچانک گورنر ہائوس روانہ ہو گئے۔ واشنگٹن سے صدر کلنٹن کی کال تھی۔ اسی شام وہ واشنگٹن روانہ ہو گئے۔ واشنگٹن روانگی سے قبل بڑے میاں صاحب (مرحوم) کا مشورہ تھا کہ نواز شریف جنرل مشرف کو بھی ساتھ لیتے جائیں۔
سعادت مند بیٹے کے لیے دور اندیش اور معاملہ فہم والد کا مشورہ حکم کا درجہ رکھتا تھا لیکن یہاں ان کا موقف تھا کہ جنرل مشرف کی موجودگی میں سول حکومت کا امیج متاثر ہو گا۔ امریکہ میں یوم آزادی کی تعطیل کے باوجود صدر کلنٹن ”دستیاب‘‘ تھے۔ بلیئر ہائوس میں تین گھنٹے مذاکرات ہوئے، اگلے روز کارگل سے واپسی کی تفصیلات طے پا گئیں، وائٹ ہائوس میں فوٹو سیشن ہوا اور وزیر اعظم نے وطن واپسی کی راہ لی۔ سابق امریکی سفیر رابرٹ اوکلے کے بقول، وزیر اعظم پاکستان نے جرأت مندانہ طور پر وا ضح کیا کہ بنیادی تنازعہ کارگل نہیں، کشمیر ہے، مستقل امن کے لیے جس کا حل ہونا ضروری ہے۔
پاکستانی وقت کے مطابق، آج (سوموار اور منگل کی درمیانی شب) پاکستان میں 9 بجے ہوں گے جب وزیر اعظم وائٹ ہائوس پہنچیں گے۔ ایک مختصر وفد کے ساتھ ملاقات اوول آفس میں ہو گی جس کے بعد کیبنٹ روم میں، وسیع تر وفد کے ساتھ مفصل میٹنگ ہو گی۔ اوول آفس کے حوالے سے سابق سیکرٹری خارجہ جناب شمشاد احمد خاں ایک دلچسپ کہانی سناتے ہیں۔ اوول آفس کی تاریخ کا منفرد واقعہ۔ 1998 کے ایٹمی دھماکوں کے بعد صدر کلنٹن کی دعوت پر وزیر اعظم نوازشریف واشنگٹن پہنچے۔
اوول آفس میں جگہ محدود ہونے کے باعث، آمنے سامنے پانچ، پانچ کرسیوں کی گنجائش ہے۔ وزیر اعظم کے ساتھ سیکرٹری خارجہ اور سفیر پاکستان کو بھی موجود ہونا تھا، جس کے بعد صرف دو کرسیاں بچتی تھیں، وزیر اعظم بعض وزراء کو بھی شامل کرنا چاہتے تھے، چنانچہ سفیر پاکستان ریاض کھوکھر کی خصوصی ”کاوش‘‘ سے پاکستانی وفد کیلئے تین مزید کرسیوں کی گنجائش نکالی گئی۔
شمشاد صاحب یہاں ایک دلچسپ بات بھی بتاتے ہیں، مذاکرات کے دوران، دونوں سربراہوں کے پہلو میں ان کے خصوصی معاون موجود ہوتے ہیں، ان کے پاس ٹاکنگ پوائنٹس کے کارڈز ہوتے ہیں، ایک پوائنٹ مکمل ہوتا ہے تو معاون خصوصی، اگلا کارڈ سامنے کر دیتا ہے۔ اس ملاقات میں صدر کلنٹن کو تو میڈلین البرائٹ کی معاونت حاصل تھی جبکہ، وزیر اعظم پاکستان اس سے محروم تھے کہ ان کے دائیں بائیں وزرا تھے اور سیکرٹری خارجہ اور سفیر پاکستان کی کرسیاں بہت دور تھیں۔
لاہور کے نوجوان میڈیا پرسنز کے ایک گروپ ”یونیفائیڈ میڈیا کلب‘‘ نے وزیر اعظم کے دورۂ امریکہ کے حوالے سے مولانا ظفر علی خاں ٹرسٹ کے تعاون سے خصوصی نشست کا اہتمام کیا، جناب شمشاد احمد خان نے اپنے خطاب میں پاک امریکہ تعلقات کی 72 سالہ تاریخ پر روشنی ڈالی، نشیب و فراز پر مبنی دلچسپ تاریخ۔ اس میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے دورۂ امریکہ کا ذکر بھی تھا، جب ان کے استقبال کے لیے، خود صدر ٹرومین ایئرپورٹ پر موجود تھے۔
تین ہفتے کے اس دورے میں نوزائید مملکت کے پہلے وزیر اعظم کو ہر جگہ وہی پروٹوکول دیا گیا جو اس سے قبل، وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو ملا تھا۔ پھر ایوب خان کا دورہ، جب صدر کینیڈی خاتونِ اوّل سمیت خیر مقدم کے لیے آئے تھے۔ اور پھر یوں بھی ہوا کہ صدر کلنٹن مارچ 2000 میں بھارت کے دورے سے واپسی پر اسلام آباد میں صرف 6 گھنٹے کے سٹاپ اوور پر اس شرط کے ساتھ آمادہ ہوئے کہ جنرل مشرف کسی تصویر میں ان کے ساتھ نظر نہیں آئیں گے (تب جناب رفیق تارڑ ابھی ایوانِ صدر میں موجود تھے) ستمبر2000 میں جنرل مشرف جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے لیے گئے، تو شمشاد خان صاحب پر زور دیا کہ وہ صدر کلنٹن کے ساتھ کم از کم ان کے ہاتھ ملانے ہی کا اہتمام کر دیں۔
اس موقع پر امریکی صدر کھانے پر، دنیا بھر سے آنے والے وفود کے سربراہوں کے ساتھ ”ملاقات‘‘ کا اہتمام کرتے ہیں، یہ رسمی سی علیک سلیک ہوتی ہے، جو مشرف کے ساتھ بھی ہو گئی، لیکن امریکی پروٹوکول نے اس کی تصویر نہ بننے دی۔ شمشاد خان صاحب نے ہنستے ہوئے کہا، یہ رسمی سا ”ہتھ پنجا‘‘ تو میں نے اسرائیلی صدر کے ساتھ بھی کرا دیا تھا۔ پاکستان کے ممتاز سفارت کار کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی میں بنیادی چیز قوموں کے بنیادی مفادات ہوتے ہیں۔ اپنی گفتگو کا اختتام انہوں نے امریکہ کے بانی صدر جارج واشنگٹن کے کانگریس سے الوداعی خطاب (1796) کے الفاظ سے کیا:
جو قومیں خود کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں، اپنی خود مختاری کھو بیٹھتی ہیں۔ جو قومیں ناواجب مراعات چاہتی ہیں، فیصلے اور عمل کی اپنی آزادی کو دوسروں کا یرغمال بنا دیتی ہیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •