وہ راتوں رات سٹار بننا چاہتی تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشف جب سلمان ظہور کے دفتر میں داخل ہوئی تو وہ اپنے دل کو سینے میں دھڑکتے ہوئے واضح طور پر محسوس کر رہی تھی۔ کتنی مشکلوں کے بعد یہ گھڑی آئی تھی کہ ملک کے نامور فلم ڈائریکٹر کے پاس آڈیشن کے لیے آنے کا موقع ملا تھا۔ سلمان ظہور اسے دیکھتے ہی مسکرا اٹھا۔ اس کی عمر پچاس برس کے لگ بھگ تھی۔ جسم قدرے بھاری تھا۔ سر کے بال اڑ چکے تھے۔ چہرے پر نمایاں ترین چیز اس کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں جو آدھی سفید ہو چکی تھیں۔

”بیٹھو! کیا لو گی چائے یا ٹھنڈا؟ “ سلمان ظہور نے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خوشگوار لہجے میں کہا۔

”شکریہ، ابھی کسی چیز کی طلب نہیں ہے“ کشف نے اپنا پرس میز پر رکھا اور صوفے پر بیٹھ گئی۔ سلمان اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی عمر بمشکل بیس برس ہو گی۔ انتہائی متناسب جسم کی مالک تھی۔ سفید رنگت، کالے بال اور بھرے بھرے گلابی ہونٹ اس کی دلکشی میں اضافہ کرتے تھے۔ اس نے بلیک جینز پر سرخ رنگ کا ٹاپ پہنا ہوا تھا۔ یقیناً اگر اس میں ایکٹنگ کی صلاحیت ہو تو کسی فلم کی ہیروئن بننے کے قابل تھی۔

”ذرا ایزی ہو کر بیٹھ جاؤ اور بتاؤ کہ تم کیا چاہتی ہو؟ “
”سر! میں نے آپ کو بتایا تھا ناں کہ میں فلم سٹار بننا چاہتی ہوں، میں نے ایک اکیڈمی سے اداکاری کی ٹریننگ بھی لی ہے“ کشف بولی۔
”وہ تو خیر ابھی پتا چل جائے گا کہ تم میں اداکاری کی صلاحیت کتنی ہے مگر تم نے ٹی وی ڈراموں میں ٹرائی نہیں کی؟ “

”میری فیلڈ فلم ہے، میں ٹی ڈراموں میں کام نہیں کرنا چاہتی۔ سر! میں تو سوچ رہی تھی یہاں کیمرے ہوں گے، آرٹسٹ ہوں گے مگر یہاں تو کچھ بھی نہیں ہے، باہر ایک دو ورکر تھے۔ آڈیشن کیسے ہو گا۔ “ جو بات کشف کے دل میں کلبلا رہی تھی بالآخر زبان پر آ گئی۔ اس کی بات سن کر سلمان دھیمی آواز میں ہنسا پھر بولا۔

”یہ میرا پرائیویٹ آفس ہے، یہاں میں مختلف آئیڈیاز پر سوچتا ہوں، سوچنے کے لیے تنہائی بہت ضروری ہے اور ہاں تمہارا آڈیشن آن کیمرہ نہیں ہو گا۔ مجھے کسی کی رائے کی ضرورت نہیں ہے۔ فیصلہ میں نے کرنا ہے کہ میری اگلی فلم کی ہیروئن کون ہو گی۔ اگر تم میری توقعات پر پوری اتری تو وہ تم بھی ہو سکتی ہو“۔

”سر تو پھر بتائیں مجھے کیا کرنا ہو گا؟ “

”ہاں ابھی بتاتا ہوں“ سلمان ظہور نے اٹھتے ہوئے کہا۔ یہ کمرہ خاصا بڑا تھا، اس میں ایک طرف آفس ٹیبل اور ریوالنگ چئیر تھی تو دوسرا حصہ کسی ڈرائنگ روم کا منظر پیش کرتا تھا۔ اس نے آفس ٹیبل سے ایک ورق اٹھایا اور کشف کی طرف بڑھا۔ کشف بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔ ”یہ لو اس میں مکالمے لکھے ہیں۔ منظر یہ ہے کہ ایک لڑکی فلم انڈسٹری میں جانا چاہتی ہے باپ اسے روک رہا ہے مگر وہ نہیں رکتی اور تیز لہجے میں کہتی ہے، “ ابا جان! یہ میرا جسم ہے اور اس پر مرضی بھی میری چلے گی، اس گھر کی دیواریں مجھے نہیں روک سکتیں، میں جا رہی ہوں اور ایک دن سٹار بن کر لوٹوں گی ”۔

کشف کاغذ پکڑ کر پڑھنے لگی، وہ سوچ رہی تھی کہ یہ مکالمہ ایسے ادا کرے کہ سلمان متاثر ہو جائے۔ سلمان نے اشارہ کیا تو وہ بولی۔ اپنی طرف سے اس نے اچھا بولا تھا مگر سلمان چند لمحے خاموش رہا، تحسین کا کوئی لفظ نہ بولا۔

”ہوں۔ تمہارے لہجے میں جان نہیں ہے، ذرا شدت سے بولو، جذبات لفظوں سے ٹپکنے چاہیں اور ہاں زور سے بولو، فکر نہ کرو یہ آفس ساؤنڈ پروف ہے“۔

کشف نے اس بار تقریباً چیختے ہوئے مکالمہ ادا کیا۔ اس بار سلمان نے سر ہلا دیا۔
”اچھا تمہیں ڈانس آتا ہے؟ “

”جی ہاں! میں نے باقاعدہ سیکھا ہے“۔
”اؤ کے میں میوزک لگاتا ہوں، تم ذرا ڈانس کر کے دکھاؤ“۔

سلمان ظہور نے ایک ہیجان خیز ٹریک لگایا۔ کشف قالین پر تھرکنے لگی۔ ایک دو منٹ بعد سلمان نے میوزک بند کر دیا۔
”چلو بیٹھ جاؤ اور ریلیکس کرو۔ “ سلمان نے اس کے سینے کے زیر و بم پر نگاہ ڈالتے ہوئے کہا۔ کشف نے دو تین گہری سانسیں لے کر خود کو نارمل کیا۔

”اچھا فرض کرو کوئی رومینٹک سین ہے تو اسے تم کس طرح پرفارم کرو گی؟ “
”سر! یہ تو ڈائریکٹر کی ہدایات کے مطابق ہی ہو گا“۔

”اچھا ادھر میرے پاس آ کر بیٹھو، میں تمہیں ایک سچوئیشن دیتا ہوں“۔ سلمان نے کہا۔ کشف اس کی آنکھوں میں مخصوص چمک دیکھ کر دل ہی دل میں کچھ سوچ رہی تھی۔ اسے ایسا لگ رہا تھا کہ یہاں آ کر اس نے بہت بڑی بے وقوفی کی ہے مگر وہ کیا کرتی۔ سٹار بننے کی خواہش نے اسے دیوانہ بنا رکھا تھا اتنے دھکے کھانے کے بعد اتنے بڑے ڈائریکٹر نے اسے بلایا تھا وہ کیسے نہ آتی اور پھر سلمان ظہور کا فلم انڈسٹری میں بڑا نام تھا۔ اس کی تقریباً ہر فلم سپر ہٹ ہوتی تھی۔ اداکارائیں اس کی فلم میں کام کرنے کے لیے مرتی تھیں۔ سلمان ظہور فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔ اس نے بڑی نیک نامی کمائی تھی۔ اگر اس کے مقابلے میں کوئی تھا تو وہ خالد منصور تھا۔ خالد منصور تھوڑا کام کرتا تھا، ہر سال صرف ایک فلم لیکن اس کی وہی فلم سارے ایوارڈز جیت لیتی تھی۔
کشف کی پہلی چوائس وہی تھا مگر خالد منصور تک رسائی ہی نہیں ہو پائی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •