وہ راتوں رات سٹار بننا چاہتی تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”سنو! سین یہ ہے کہ ہیروئین کے خیال میں ہیرو مر چکا ہے مگر وہ اچانک اس کے سامنے آ جاتا ہے ہیروئین جذبات کی شدت سے مغلوب ہو کر اس سے لپٹ جاتی ہے اور کہتی ہے، ’کہاں تھے تم بولو ناں کہاں تھے؟ ‘ میں وہ ہیرو ہوں تم ادھر سے مجھے دیکھتی ہو۔ سلمان ظہور نے سمجھایا۔

کشف کے پاس اس کی بات ماننے کے سوا کیا چارہ تھا۔ جب وہ سلمان سے آ کر لپٹی تو سلمان نے اپنے ساتھ بھینچ لیا۔ کشف کے لیے سانس لینا بھی دشوار ہو گیا۔
”ٹھیک ہے تم میں صلاحیت ہے۔ میں سمجھتا ہو تمہیں چانس ملنا چاہیے“۔

کشف اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئی۔ اس کے چہرے پر خوشی کے تاثرات ابھر آئے وہ سمجھی شاید اسے کام مل گیا ہے مگر سلمان اپنی بات کہنے کے لیے تمہید باندھ رہا تھا۔

” دیکھو فلم میں ہر طرح کے سین کرنے پڑتے ہیں، اس میں بے باک لڑکیاں کامیاب ہو سکتی ہیں۔ ایسا کرو اپنا ٹاپ اتار دو“
”جی؟ “ کشف چونک اٹھی۔ اب وہ سوچ رہی تھی کہ لڑکیاں ٹھیک ہی کہتی ہیں فلم انڈسٹری میں آگے بڑھنے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ مسئلہ یہ تھا کہ وہ اب پیچھے نہیں ہٹنا چاہتی تھی۔ اس نے چپ چاپ ٹاپ اتار کر سائیڈ پر رکھ دیا۔

”یہاں آ جاؤ“ سلمان نے کہا۔ وہ ایک کٹھ پتلی کی طرح اس کے احکامات پر عمل کر رہی تھی۔ سلمان ظہور پہلے تو مختلف زاویوں سے اس کا جائزہ لیتا رہا پھر اسے چھونے لگا۔ ”پلیز ایسا مت کریں“ کشف بول اٹھی۔

”بڑی نادان ہو، اگر یہی کہنا تھا تو پھر آئی کیوں تھی، فکر نہ کرو میں تمہیں راتوں رات سٹار بنا دوں گا“۔ سلمان ظہور کے چہرے سے نقاب اتر چکا تھا۔ اب اس کا مکروہ چہرہ کشف کے سامنے تھا۔ کشف کچھ دیر تک اس کی حرکتیں برداشت کرتی رہی اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے پھر اس نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے علیحدہ کیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

”یہ کیا کر رہی ہو، تم اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہی ہو۔ جانتی ہو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ “ سلمان کافی غصے میں تھا۔
”نتیجہ کچھ بھی نکلے لیکن میں تمہاری حسرت پوری نہیں ہونے دوں گی، میں سٹار ضرور بننا چاہتی ہوں مگر عزت کے بدلے میں نہیں“۔ کشف نے ٹاپ پہنتے ہوئے کہا۔

سلمان ظہور زور زور سے ہنسنے لگا۔ ”عزت؟ کس عزت کی بات کرتی ہو، سنو میں نے اس کمرے میں خفیہ کیمرے لگائے ہوئے ہیں۔ اب تک جو کچھ ہوا ہے سب ریکارڈ ہو چکا ہے۔ اب بھی وقت ہے سمجھوتہ کر لو، میری خوشی میں تمہاری خوشی ہے وگرنہ کل تمہاری نیوڈ پکچرز ہر طرف جلوے بکھیر رہی ہوں گی۔ تمہارا کیرئیر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا اور دوسری صورت میں تم میری آئندہ فلم کی ہیروئین بنو گی، فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے“۔

”سٹار تو میں بن کے رہوں گی مگر تمہاری مرضی کے مطابق نہیں“۔ کشف نے ہونٹ چباتے ہوئے کہا پھر اپنا پرس اٹھایا اور پاؤں پٹختے ہوئے چلی گئی۔ سلمان ظہور ہاتھ آئی ہوئی مچھلی کے یوں پھسل جانے پر ہاتھ ملتا رہ گیا۔ تھوڑی دیر بعد کشف کو اپنے موبائل پر سلمان کا میسج ملا۔ وہ بلیک میلنگ پر اتر آیا تھا۔ کشف مسکرا اٹھی۔

اگلے روز گیارہ بجے کشف ایک پریس کانفرس کر رہی تھی۔ ملک کے تمام بڑے صافی موجود تھے۔ وہ بڑی شخصیت نہیں تھی لیکن اس نے جب بتایا کہ ملک کے سب سے بڑے ڈائریکٹر کا سکینڈل ہے تو سب پہنچ گئے۔ کشف نے بڑے جذباتی انداز میں آنسو بہاتے ہوئے سلمان ظہور کی طرف سے جنسی ہراسانی کا قصہ سنایا۔ شکر ہے کہ میں نے اپنے پرس میں خفیہ کیمرہ لگایا ہوا تھا کیوں کہ مجھے اس پر پہلے سے ہی شک تھا۔ میرے پاس تمام ثبوت ہیں جو میں وقت آنے پر پیش کروں گی لیکن ایک دو ابھی ملاحظہ کیجیے۔ اس نے کچھ حصے پیش کر دیے۔

اسی وقت ہر چینل پر بریکنگ نیوز چل پڑی۔ سوشل میڈیا پر طوفان آ گیا۔ کشف کی تصویریں بھی ساتھ دکھائی جا رہی تھیں۔ سلمان ظہور جیسے بڑے نام کا ایسا سکینڈل بہت بڑی خبر تھا۔ کشف کو ایک ہی دن میں انٹر نیٹ پر سرچ کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی تھی۔ اس واقعے کو صرف ایک رات گزری تھی کہ اگلے دن ایک اجنبی نمبر سے کشف کو ایک کال موصول ہوئی۔ نام سن کر وہ اچھل پڑی۔ کال خالد منصور کی تھی۔

”مجھے بے حد شرمندگی ہے کہ ہماری فلم انڈسٹری میں سلمان ظہور جیسے گھٹیا لوگ موجود ہیں، آپ نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ آپ فلمی ہیروئن بننے گھر سے نکلی تھیں۔ میں نے آپ کی وہ پریس کانفرنس دیکھی ہے۔ آپ کو میں اپنی فلم آفر کرتا ہوں اور یہ بھی یقین رکھیے کہ میری فلم کے سیٹ پر کوئی آپ کو ہراساں نہیں کرے گا“
کشف کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ اس نے شکریہ کہہ کر رسیور رکھ دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •