دِل پھر طوافِ کوئے ملامت کو جائے ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کے پہلے سرکاری دورے سے واپسی پر اپنے پُر جوش اور رنگا رنگ استقبال پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا: یوں لگتا ہے جیسے میں ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں۔ قطر ایئرویز کے طیارے نے شب ڈیڑھ بجے اسلام آباد ایئرپورٹ پر لینڈ کیا، جہاں جشن کی کیفیت تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں تبدیلی کے دیوانے چھوٹی بڑی ریلیوں میں وہاں پہنچے تھے۔ اسلام آباد میں 15 جولائی سے دفعہ 144 نافذ ہے۔

ایک اخبار نویس نے اس طرف توجہ دلائی تو وفاقی وزیر، اعظم سواتی کا جواب تھا: وہ تو کسی ”شر‘‘ کو روکنے کے لیے ہوتی ہے۔ اسی ”شر‘‘ کے سدباب کے لیے اس اتوار کو مریم نواز کی فیصل آباد ریلی کو جگہ جگہ رکاوٹوں کا سامنا تھا۔ یہ سطور جمعرات کی سہ پہر قلمبند کی جا رہی ہیں۔ اپوزیشن نے ملک گیر یوم سیاہ کے سلسلے میں لاہور کے چیئرنگ کراس پر جلسے کا اعلان کر رکھا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے اسے تحریری اطلاع تو دی تھی لیکن مال روڈ پر دفعہ 144 کے باعث اس کی اجازت نہیں دی گئی۔

اپوزیشن نے جلسے کے لیے شام 5 بجے کا اعلان کیا ہے۔ ظاہر ہے یہ مغرب کے بعد 8 بجے سے پہلے کیا شروع ہو گا؟ اصل سوال یہ ہے کہ اس ”شر‘‘ کے سدباب کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے کس حد تک جائیں گے۔

ایک مسئلہ بطورِ خاص مریم نواز کا بھی ہے۔ لاہور میں میاں شہبازشریف سے ملاقات میں، مولانا فضل الرحمن کی تجویز تھی کہ 25 جولائی کو مریم لاہور میں اور شہباز صاحب پشاور کے جلسہ عام میں شریک ہوں۔ انہوں نے کمر درد کے باعث لمبے سفر سے معذوری کا اظہار کیا‘ جس پر شہباز صاحب کے لاہور میں اور مریم کے کوئٹہ میں خطاب کا فیصلہ ہوا۔ حکومت کا موقف ہے کہ مریم ایک سزا یافتہ خاتون ہیں اور کسی سزا یافتہ کو یوں سرعام سیاسی سرگرمیوں (اور میڈیا پر اس کی کوریج) کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟

 بات کسی اور طرف نکل گئی۔ ہم جناب وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے واپسی کا ذکر کر رہے تھے۔ تجزیہ کاروں اور تبصرہ نگاروں نے اس دورے کو اپنے اپنے انداز میں موضوع بحث بنایا۔ ہمیں اپنی ”فعال صحافت‘‘ کے دنوں میں بطور رپورٹر، محترمہ بے نظیر بھٹو اور جناب نواز شریف کے ساتھ کچھ غیر ملکی دوروں میں شرکت کا موقع ملا‘ لیکن پروٹوکول کی مختلف اقسام اور اس حوالے سے رسوم و آداب سے آگاہی اب پہلی بار ہوئی جب بعض احباب نے وزیر اعظم عمران خان کے دورے میں پروٹوکول کے معاملات کو بھی موضوع بحث بنایا۔

امریکہ میں غیر ملکی سربراہانِ ریاست و حکومت کے دوروں کے پانچ درجے ہوتے ہیں۔ سٹیٹ وزٹ پہلے، آفیشل وزٹ دوسرے،آفیشل ورکنگ وزٹ تیسرے، ورکنگ وزٹ چوتھے اور پرائیویٹ وزٹ پانچویں درجے میں آتا ہے۔ ہر ایک کے اپنے اپنے ”آداب‘‘ اور ”رسوم‘‘ ہوتی ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم کا یہ ”آفیشل ورکنگ وزٹ‘‘ تھا جس میں توپوں کی سلامی ہوتی ہے، نہ دیگر خیر مقدمی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

تحائف کا تبادلہ بھی نہیں ہوتا، عشائیہ بھی لازم نہیں؛ البتہ ظہرانے کا اہتمام ضرور کیا جاتا ہے۔ وائٹ ہائوس کے قریب ہی سٹیٹ گیسٹ ہائوس (بلیئر ہائوس) میں مہمانوں کا قیام بھی، یہاں کمروں کی ”دستیابی‘‘ پر ہوتا ہے، بصورت دیگر معزز مہمان ہوٹل میں ٹھہر تے ہیں، (ہمارے وزیر اعظم سفیر پاکستان کی رہائش گاہ پر قیام پذیر ہوئے) سٹیٹ وزٹ، سربراہانِ ریاست (صدر یا بادشاہ) کو ملتا ہے۔ پاکستانی سربراہوں میں یہ رتبۂ بلند صرف جنرل ایوب خان اور جنرل ضیاء الحق کو ملا۔

جنرل مشرف کو صدر بُش جونیئر اپنا یارِ خاص اور پاکستان کو ”نان نیٹو اتحادی‘‘ قرار دیتے۔ مشرف کو پاکستانی سربراہوں میں سب سے زیادہ (گیارہ مرتبہ) امریکی صدور سے ملاقات کا ”اعزاز‘‘ حاصل ہوا، لیکن وہ بھی سٹیٹ یا آفیشل وزٹ سے محروم رہے۔ بھٹو صاحب اور محترمہ بے نظیر کو، ایک ایک بار آفیشل وزٹ کا موقع ملا، (محترمہ کا ایک وزٹ ”آفیشل ورکنگ‘‘ بھی تھا) سویلین حکمرانوں میں سب سے زیادہ (6 بار) امریکی صدور سے ملاقاتوں کا ”اعزاز‘‘ نواز شریف کو حاصل ہوا۔ ان میں ایک ورکنگ وزٹ اور باقی آفیشل ورکنگ وزٹ تھے۔ چار، پانچ جولائی 1999 کو (کارگل بحران کے موقع پر) صدر کلنٹن سے ملاقات، پرائیویٹ وزٹ قرار پائی۔

پروٹوکول کے حوالے سے حساس اور جذباتی احباب کے لیے یہ بات باعث تسکین ہونی چاہیے کہ ہمارے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو پینٹاگون میں نہ صرف 21 توپوں کی سلامی دی گئی بلکہ ان کا خیر مقدم بھی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کفایت شعاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے خصوصی طیارے کی بجائے، قطر ایئرویز کو وسیلۂ سفر بنایا، لیکن بال کی کھال اتارنے والے ہمارے دوستوں کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے 13 غیر ملکی دوروں (سعودی عرب، ترکی، ایران، قطر، متحدہ عرب امارات، کرغیزستان، چین اور ملائیشیا) کے دوران اپنا خصوصی طیارہ استعمال کرتے ہوئے انہیں کفایت شعاری کا خیال کیوں نہ آیا؟

ایک اور اعتراض یہ کیا گیا کہ کمرشل فلائٹ ہی سے جانا تھا تو اپنی قومی ایئر لائن استعمال کر لیتے، اس کے لیے قطر ایئرویز کو پیسے دینے کی کیا ضرورت تھی؟ لیکن پاکستان سے امریکہ کے لیے پی آئی اے کی کوئی ڈائریکٹ فلائٹ نہیں! تو یار لوگوں کے پاس اس کا جواب بھی موجود تھا: پاکستان سے ٹورانٹو (کینیڈا) کے لیے جو ڈائریکٹ فلائٹ ہے، واشنگٹن میں اُس کے اترنے کی خصوصی اجازت لے لیتے، یہ آپ کو اتار کر ٹورانٹو چلی جاتی اور واپسی پر بھی آپ کو واشنگٹن سے لے لیتی۔

وزیر اعظم کے اس دورے کا بنیادی ایجنڈا، افغانستان میں امن اور امریکی فوجوںکے با عزت انخلا کے لیے سہولت کاری تھا، لیکن وائٹ ہائوس میں ون آن ون ملاقات کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران، میزبان صدر سے ایک پاکستانی اخبار نویس کے سوال پر، کشمیر ایک بار پھر عالمی سطح پر اجاگر ہو گیا۔ اس سوال پر کہ کیا آپ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی یا مصالحت کاری (Mediation) کا کردار ادا کریں گے؟ صدر ٹرمپ کا جواب تھا: وزیر اعظم مودی نے بھی دو ہفتے قبل اوساکا (جاپان) میں ہونے والی ملاقات میں، مجھ سے اسی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ مجھے خوشی ہو گی، اگر میں یہ کردار ادا کر سکوں۔

اس پر بھارت میں ہاہاکار مچ گئی۔ مودی سرکار نے تردید کر دی، لیکن اپوزیشن کو اپنے سیاسی حریف کو رگیدنے کا موقع مل گیا تھا تو وہ اسے ہاتھ سے کیوں جانے دیتی۔ عالمی سطح پر کشمیر کے ہائی لائٹ ہونے پر اہل پاکستان اور اپنی آزادی کے لیے برسر پیکار کشمیری عوام میں مسرت اور اطمینان کی کیفیت فطری تھی۔

بزرگ مجاہد راہنما جناب سید علی گیلانی نے بھی اس پر اظہار تشکر کیا، لیکن ان سے منسوب یہ الفاظ ہمارے لیے حیرت کا باعث تھے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں پہلا پاکستانی لیڈر دیکھا ہے جس نے مظلوم کشمیری عوام کی حمایت میں عالمی سطح پر آواز اٹھائی۔ پاکستان کے اکثروبیشتر حکمران یو این جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں کشمیر کا مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں۔ اس حوالے سے نواز شریف کا کردار بطور خاص قابلِ ذکر ہے جنہوں نے نہ صرف اپنی ہر تقریر میں کشمیر کی بات کی، بلکہ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بھی بطور خاص ذکر کیا۔

جناب ٹرمپ کی شہرت ایک ”منہ پھٹ‘‘ اور ”بڑبولے‘‘ لیڈر کی ہے۔ (لیکن ہم اب ان کے لیے ”صاف گو‘‘ کے الفاظ استعمال کریں گے) پاکستان کے بارے میں اپنے بدلے ہوئے (خوشگوار) رویے کا سبب بھی بیان کر دیا۔ ان کا کہنا تھا، ہم پاکستان کو ہر سال ایک عشاریہ تین بلین ڈالر کی امداد دیتے رہے، لیکن اس نے ہمارے لیے کچھ نہ کیا۔ امریکہ کو احترام بھی نہ دیا۔ (گزشتہ حکومت کے لیے انہوں نے Subversive کا لفظ بھی استعمال کیا) آخر تنگ آ کر انہوں نے ڈیڑھ سال قبل پاکستان کے لیے یہ امداد بند کر دی۔ ان کا کہنا تھا: میں ایمانداری سے کہوں گا کہ اس وقت پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اُس دور سے بہتر ہیں، جب ہم اسے امداد دیا کرتے تھے۔

یاد آیا، جناب شاہ محمود قریشی نے گزشتہ سال (اگست میں) وزارتِ خارجہ کا حلف اٹھانے کے بعد فرمایا تھا، ہم خارجہ پالیسی کا قبلہ درست کریں گے۔ اس کے جواب میں امریکی رویہ بھی درست ہو رہا ہے تو پریشان ہونے کی کیا بات؟ چین، ترکی، ایران اور رُوس پر مشتمل خطے میں ابھرتی ہوئی نئی طاقت کی رفاقت بعد میں دیکھ لیں گے۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •