پاکستان اور امریکہ ایک بار پھر 1979 میں جا کھڑے ہوئے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاک امریکہ تعلقات ایک بار پھر وہیں جا پہنچے، جہاں 1979 ء میں تھے۔

خان صاحب کے دورہ امریکہ کا حاصل یہی ایک جملہ ہے۔ رہے بغلیں بجانے اور ڈھول پیٹنے کے مظاہرے تو یہ شور صرف زیبِ داستاں کے لیے ہے۔ یہ جملہ اپنے دامن میں بہت سے خطرناک مضمرات کو سمیٹے ہوئے ہے۔ نئی نسل، جس نے ہیجان اور رومان کے زیرِ سایہ، واد ئی سیاست میں قدم رکھا ہے، نہیں جانتی کہ 1979 ء میں یہ تعلقات کس نہج پر استوار ہوئے اور پاکستان کو اس کی کیا قیمت ادا کرنا پڑی تھی۔ اس نسل کی تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہجر و وصال کا یہ قصہ دہرایا جائے اور ان کے لیے بھی جن کی یادداشت کمزور ہے۔

1979 ء وہ سال ہے جب سوویت یونین کی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں۔ پاکستان اور امریکہ نے مل کر مزاحمت کا فیصلہ کیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں، یہ فیصلہ پاکستان کا تھا اور امریکہ نے اس کی مدد کی۔ ایک رائے یہ ہے کہ فیصلہ امریکہ کا تھا اور پاکستان اس کا مددگار بنا۔ وجہ جو بھی رہی ہو، نتیجہ ایک ہی نکلا۔ دونوں نے مل کر یہ جنگ لڑی اور اس طرح کہ تمام عالمِ اسلام اور سارا مغرب ان کی پشت پر کھڑا ہو گیا۔

پاکستان نے اپنی سرزمین کو میدانِ جنگ بنا دیا۔ پاکستانی حکمرانوں نے ریاست ہی نہیں، معاشرے کو بھی جنگ کے شعلوں میں دھکیل دیا۔ مذہبی جماعتوں نے بھی اس کارِ خیر میں پوری معاونت کی۔ امریکہ اور پاکستان اُن دنوں یک جان دو قالب تھے۔ دھن پاکستان پر اس طرح برس رہا تھا کہ سب ہی اس سے حسبِ توفیق دامن بھر رہے تھے۔ میں نے بھی راولپنڈی صدر کے فٹ پاتھ پر بکتی سبز رنگ کی ایک جیکٹ خریدی۔ ان دنوں ہر دوسرے نوجوان نے یہی جیکٹ پہنی ہوتی تھی۔ یہ امریکی جیکٹ مجاہدین کا مخصوص پہناوا تھا۔ میری توفیق بس اتنی ہی تھی۔

امریکہ کے لیے یہ جنگ اتنی اہم تھی کہ اس نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے ساتھ مجاہدین کے تصورِ جہاد کو بھی قبول کر لیا۔ نہ صرف اس تصور کو قبول کیا بلکہ اس کا عالم گیر علم بردار بن گیا۔ پاکستان اور امریکہ کا یہ رومان 1989 ء تک قائم رہا۔ یہ وہ سال ہے جب سوویت یونین ٹکڑوں میں اس طرح بکھرا کہ دنیا کے نقشے ہی سے غائب ہو گیا۔ امریکہ کی منزل یہی تھی۔ اس نے رختِ سفر سمیٹا اور گھر کو روانہ ہوا۔

پاکستان کے پالیسی سازوں کو اس کامیابی میں مستقبل کے کچھ امکانات دکھائی دیے، جن کا تعلق صرف پاکستان کے مفادات سے تھا۔ جیسے کشمیر کی آزادی۔ امریکہ کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ یہاں سے ہمارے راستے جدا ہونے لگے۔ اخوت کے زمزمے دھیمے ہونے لگے۔ محبت نفرت میں بدل گئی۔ پھر ایک دن معلوم ہوا کہ جنرل ضیا الحق کا جہاز فضا ہی میں آگ کے ایک گولے میں بدل گیا۔

قادرِ مطلق اللہ ہی ہے۔ امریکہ کو یہ بات یاد نہیں رہی۔ وہ افغانستان سے لا تعلق ہوا تو ان بموں کو بھول گیا جو اس نے اس سرزمین پر برسائے تھے۔ تباہی پھیلانے کے بعد بھی، یہ پوری طرح بجھے نہیں تھے۔ ان میں نظریاتی بم بھی شامل تھے۔ خیال کیا گیا کہ برسات کے موسم میں وہ بم خود بخود ناکارہ ہو جائیں گے، جو کبھی امریکی طیاروں نے گرائے تھے۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ایسے بم سلگتے رہے اور دوبار برسنے لگے۔ اب ان کا رخ ماسکو نہیں، نیویارک کی طرف تھا۔ ایسے ہی ایک بم پر القاعدہ لکھا تھا۔ اس کو بجھانے کے لیے، امریکہ کو دوبارہ پاکستان کی ضرورت پیش آئی۔

ایسا ہی ایک بم وہ تھا جسے بعد میں، طالبان، کا نام دیا گیا۔ ابتدا میں اسے امریکہ نے قبول کیا کہ اس کا رخ واشنگٹن کی طرف نہیں تھا۔ 9 / 11 کے بعد امریکہ نے طالبان اور القاعدہ کو ایک آنکھ سے دیکھنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان سمیت سب سے یہی مطالبہ کیا۔ پاکستان اس کے لیے آمادہ نہیں تھا۔ طالبان کو پاکستان نے اپنا اثاثہ جانا اور یہ خیال کیا کہ پاکستان کے جس خواب کو افغان مجاہدین کے تصادم اور وہاں کی خانہ جنگی نے برباد کر دیا تھا، طالبان کے ہاتھوں اس کی تعبیر مل سکتی ہے۔

امریکہ کو یہ بات قبول نہیں تھی۔ یوں 1979 ء میں مفادات کے ہم آہنگی کا جو نیا سفر شروع ہوا تھا، وہ مفادات کے تصادم میں بدل گیا۔ مشرف عہد میں پاکستان القاعدہ کے خلاف تو تعاون پر آمادہ تھا، لیکن طالبان کے بارے میں اس کے خیالات امریکہ سے ہم آہنگ نہیں ہو سکے۔ یہ تعلقات کے نئے دور کا آغاز تھا۔ مشرف دور کی حکمت عملی کو دنیا نے شک کی نظر سے دیکھا۔ مشرف صاحب کی کتاب پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شک کچھ ایسا بے بنیاد بھی نہ تھا۔ خارجہ تعلقات میں دو رخی پالیسی کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ نے پاکستان پر بے وفائی کا الزام لگایا۔ زبانِ حال سے پاکستان کا جواب تھا: ہم وفا دار نہیں، تو بھی تو دلدار نہیں۔

2008 ء میں، پاکستان میں جب جمہوری حکومت آئی تو اس کا موقف اس باب میں سابقہ پالیسی سے ہم آہنگ نہیں تھا۔ اس کے خیال میں طالبان اور غیر ریاستی عناصر پاکستان کے لیے اثاثہ نہیں، ایک عذاب تھے۔ بد قسمتی سے طاقت کے مراکز میں اس حوالے سے ہم آہنگی پیدا نہ ہو سکی۔ کیری لوگر بل اور میمو گیٹ دراصل اسی عدم اتفاق کے شاخسانے تھے۔ نواز شریف دور میں یہ اختلاف اپنے عروج پر پہنچ گیا اور یوں پاکستان خوفناک داخلی عدم استحکام کی راہ پر چل نکلا۔

اس دوران میں ٹرمپ صاحب تشریف لے آئے۔ انہوں نے اپنے مزاج کے مطابق پاکستان کے بارے میں اس رائے کا برملا اظہار کر دیا، جسے امریکی سفارتی آداب کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ اس ضمن میں ان کے ایک سے زیادہ ٹویٹ موجود ہیں۔ ان کا واضح اور دوٹوک موقف یہ ہے کہ پاکستان نے ہم سے پیسے بٹورے لیکن اس کے بدلے میں ہمارے لیے کچھ نہیں کیا۔ اب پاکستان کو امریکی خواہشات کے مطابق افغانستان میں پالیسی اپنانا ہو گی۔ اس کے سوا پاکستان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس خطے کے بارے میں، ایک سال پہلے جس پالیسی کا اعلان کیا تھا، اس میں یہ بات لگی لپٹی رکھے بغیر واضح کر دی گئی تھی۔

اس دوران میں پاکستان کے پالیسی ساز حلقوں میں سابقہ موقف پر نظر ثانی کا ایک عمل شروع ہوا۔ قصہ کوتاہ کہ پاکستان نے بظاہر اپنی پالیسی کو امریکہ سے ہم آہنگ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ یوں ہم ایک بار پھر 1979 ء میں جا کھڑے ہوئے جب پاکستان اور امریکہ یک جان دو قالب تھے۔

امریکہ نے اپنے موقف میں کوئی لچک پیدا نہیں کی۔ جس دن وائٹ ہاؤس میں عمران ٹرمپ ملاقات ہوئی، اسی دن وائٹ ہاؤس نے ایک بیان جاری کیا۔ اس میں دہرایا گیا کہ کس طرح امریکہ پاکستان کو پیسے دیتا رہا۔ اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے، پاکستان سے کہا گیا کہ وہ مزید کارکردگی دکھائے۔ وائٹ ہاؤس اس باب میں اتنا دوٹوک ہے کہ اس نے بیان میں، ڈو مور، کے الفاظ استعمال کیے۔ کہا گیا:

“Pakistan has made efforts to facilitate the Afghanistan peace talks and we are going to ask them to do more”

مجھے حیرت ہے کہ اتنی دوٹوک بات کے باوجود، پاکستان کا دفتر خارجہ یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان سے اب، ڈو مور ”کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا۔ ٹرمپ عمران ملاقات میں بھی صدر امریکہ نے اس موقف کو دو اور دو چار کی طرح دہرایا کہ پاکستان پیسے لیتا رہا اور اس نے جواباً کچھ نہیں کیا۔ اب ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کچھ کرے گا اور یوں اس کو پیسے ملیں گے۔ عمران خان نے ان کی اس بات کی تائید کی۔

پاکستان میں طاقت کے مراکز آج پاک امریکہ تعلقات کے باب میں ایک پیج پر ہیں۔ اس پالیسی میں پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم کا بس اتنا ہی حصہ ہے جتنا ماضی کے وزرائے اعظم کا ہوتا تھا۔ صدر ٹرمپ کی خوشی بتا رہی ہے کہ یہ تعلقات دوبارہ 1979 ء کی سطح پر پہنچ گئے۔ اس کے مضمرات کیا ہوں گے، یہ کہانی پھر سہی!
بشکریہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •