عمران خان ضیاء دور ہی سے اسٹیبلشمنٹ کی اولین ترجیح رہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان ضیاء دور ہی سے اسٹیبلشمنٹ کی اولین ترجیح رہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کی طرف 80 کی دھائی میں اس وقت دیکھا جب کرکٹ کیریئر کے عروج پر تھے۔ عمران خان کو اس وقت کے صدر جنرل ضیا الحق نے اپنے پاس بلایا اور انہیں وزرات کی پیشکش کی۔ عمران خان نے شائستگی کے ساتھ یہ کہہ کر پیشکش ٹھکرا دی کہ وہ اپنے کرکٹ کیریئر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ لیکن عمران خان اس کے بعد بھی مختلف وجوہات کی بنا پر اسٹیبلشمنٹ کے راڈار پر رہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت کا ڈکٹیٹر ایک ایسی غیرسیاسی اور ٹیکنوکریٹس پرمشتمل ٹیم بنانے کی کوشش میں تھا جو نظریاتی سیایست کو کاؤنٹر کرسکے۔ جو بھٹو اور اینٹی بھٹو نظریات پر چل رہی تھی۔ ضیا نے عمران خان سے مایوس ہو کر بے نظیر بھٹو اور پیپلزپارٹی جو اس وقت بھٹو کی پھانسی کے بعد بھی پنجاب میں مضبوط تھی کو کاؤنٹر کرنے کیلئے شریف برادران کوتلاش کیا۔

عمران خان کے انکار کے بعد ضیاالحق نے میاں شریف کو قائل کیا اورمیاں شریف نے خود کو پیپلزپارٹی کی قومیانے کی پالیسی کا متاثرہ سمجھا اور دیگر بزنس مینوں کی طرح 1977 کے انتخابات میں بھٹو مخالف پی این اے تحریک کو سپورٹ کیا۔ 1985 کے غیرجماعتی انتخابات کے بعد جنرل ضیاءالحق نے ایک غیرمعروف سندھی سیاستدان محمد خان جونیجو کو وزیراعظم بنایا جس سے ضیاء نے بھٹوکی پھانسی کے بعد سندھ میں پائے جانے والے احساس محرومی کوختم کرنے کی کوشش کی، لیکن 3 سال بعد ہی جونیجو کو گھر واپس بھیج دیا کیونکہ جونیجوحکومت نے بے نظیربھٹوکو جلاوطنی ختم کر کے وطن واپسی کا عندیہ دیا اور اسٹیبشلمنٹ کی خواہش کے برعکس پریس کو آزادی دی، سیاسی مفاہمت کے ساتھ جنیوا معاہدہ سائن کیا۔

ضیاء نے 28 مئی 1988 کو جونیجو حکومت ختم کی اور نئے الیکشن کا وعدہ کیا۔ ضیا کی ٹیم نے دوبارہ عمران خان تک رسائی کی لیکن عمران خان اپنے قریبی دوست کو بتایا کہ وہ سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اسی دوران شریف فیملی نے پنجاب میں جونیجو حکومت کے خلاف پی ایم ایل کے کیمپ میں طاقت جمع کرنا شروع کر دی، جس کے بعد پی ایم ایل (جونیجو) اور پی ایم ایل (نواز) دو پارٹیاں بن گئیں۔ تاہم ضیاءنے 1985 کے بعد الیکشن نہ کرائے اور 17 اگست 1988 کو سینئرجرنیلوں اور امریکی سفیر سمیت طیارہ کریش ہونے انتقال کرگئے۔

طیارہ کریش ہونے کے بعد ایک لمبا بحران پیدا ہو گیا اوراس وقت کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے دوبارہ مارشل لاء نہ لگانے کا فیصلہ کیا اور صدرغلام اسحاق کو الیکشن کرانے کا کہا۔ یہ بے نظیر کیلئے ایک خواب کی طرح تھا۔ بے نظیر 1986 میں اپنی واپسی سے مہم شروع کر چکی تھیں لیکن ان کی کوششیں ناکام بنائی گئیں۔ سابق آئی ایس آئی چیف جنرل حمید گل کی رہنمائی میں بے نظیر کی مقبولیت روکنے کیلئے آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) کی تشکیل کی گئی۔ لیکن 1988 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری اور نوازشریف اپوزیشن لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔

بھٹو کی پھانسی کے تقریباً 17 سال بعد 1996 میں عمران خان نے سیاست کا آغاز کیا۔ لیکن عمران خان کی نئی پارٹی پاکستان تحریک انصاف 1997 کے انتخابات میں کوئی بھی نشست نہ جیت سکی۔ جبکہ پی ٹی آئی نے 2002 کے انتخابات میں صرف ایک سیٹ حاصل کی۔

پاکستان تحریک انصاف نے 2013 کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور 25 جولائی کو یوم تشکر جبکہ اپوزیشن نے عمران خان کو سلیکٹڈ سمجھتے ہوئے انتخابات کو غیرشفاف قرار دیا اور یوم سیاہ منایا۔ 2013 کے انتخابات کے بعد عمران خان نے بھی اسی طرح کے الزامات لگاتے ہوئے کہا تھا کہ شریف برادران پہلے سے کیسے نتیجہ جانتے تھے۔ لیکن عمران خان نے کبھی بھی لفظ سلیکٹڈ استعمال نہیں کیا جبکہ یہ لفظ ان کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔

عمران خان کی حکومت کا پہلا سال کامیابیوں اورناکامیوں پر مشتمل ہے، فارن پالیسی میں ایک کامیاب کہانی بیان کرتی ہے جبکہ معاشی پالیسیاں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتیں، ملک میں اختلافی آوازوں کو دبانا حکومت کی ناکامیاں سمجھے جا سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کو اس وقت اپوزیشن کے سخت چیلنج کاسامنا ہے جو اپوزیشن کا متحدہ بیانیہ دینے کی کوشش میں ہے۔ جبکہ یہ بات دلچسپ ہوگی کہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان ان کے پسندیدہ کیسے بنتے ہیں جن کے ملک کے ساتھ معاملات ہیں، اور کس طرح روایتی سیاست کا بدل بنتے ہیں۔ لیکن عمران خان خود احتساب کے عمل کو اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ کیونکہ انہیں یقین ہے کہ احتساب کے عمل نے نوازشریف اور زرداری جیسے سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی کی راہ ہموار کی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •