ہم واقعی ہی خوش ہوتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کو دنیا کا ایک با اثر اور طاقتور ملک قبول کیا جاتا ہے اور یہ ملک فوج، ٹیکنالوجی اور معیشت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا تاج بھی اپنے سر سجائے ہوئے ہے۔ اسی وجہ سے دنیا کہ تمام ممالک کے سربراہان یعنی صدر، وزیراعظم کے ساتھ ساتھ لوگ بھی وہاں جانے کا شوق اور زندگی میں ایک بار ضرور کھلی آنکھوں سے خواب دیکھتے ہوئے اس کو پورا کرنے کے خواہشمند رہتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی اس ملک کے قوانین بھی سخت ہیں جس کی مثال دنیا کے اکثریت مسلم ممالک میں امریکہ سے تعصب رکھنے کے باوجود بھی دی جاتی ہیں۔ جیسے ہی کوئی معروف شخصیت اور اس کے علاوہ عام انسان بھی امریکہ کا ویزہ حاصل کرنے کے بعد جب امریکہ کے لئے روانہ ہوتا ہے تو جیسے ہی کسی بھی امریکی ریاست کے ائرپورٹ پر اترتا ہے تو عام طور پر اس کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے اور اس کا ریکارڈ بھی امریکہ میں کافی حد تک محفوظ کر لیا جاتا ہے۔

مزید اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف کہ ایک واقعہ جو مارچ 2018 میں ایک سے زائد سال قبل اس وقت پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی صاحب کے امریکہ کے نجی دورے پر جان ایف کینیڈی ائرپورٹ پر اترنے کے بعد پیش آیا جب ان کی تلاشی لیتے ہوئے کپڑے تک اتروائے یعنی کوٹ شرٹ اتار کر تلاشی دینے کا کہا، اور کسی نے فوری طور پر یہ معاملہ دیکھتے ہوئے وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر بھیج دی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک سیاسی ہلچل کے ساتھ ساتھ ملک کے لئے بھی ایک عجیب بدنامی کا داغ اس وقت ثابت ہونا شروع ہوا۔

جب لوگوں نے صرف اس بنیاد پر وڈیو کو شیئر کرنا شروع کیا صرف سیاسی جماعت ن لیگ کی نفرت میں، بالخصوص تحریک انصاف کے حامی کارکنان نے اس کو دل و جان سے اور سیاسی جماعت کی نفرت میں اس معاملہ کو طول دیا جو صرف ان کی کچھ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر کے اپنا سیاسی فائدہ حاصل کرنا تھا۔ ہونا ایسا چاہیے تھا کہ پاکستان عوام حکومت سے اور حکومت خود بھی اس پر امریکی حکام سے احتجاج کرتی ہم نے الٹا ہی خوشیاں منانی شروع کردی کہ ہمارے حکمرانوں کی کہیں عزت نہیں وغیرہ وغیرہ۔

اس واقعے کا اثر آپ دیکھو کہ ہمسایہ ملک بھارت، افغانستان اور غالباً ایران کے میڈیا نے بھی اس کا انتہائی مذاق اڑایا، سوال پیدا ہوتا ہے یہاں کے کیا ان ممالک ان کے عوام اور ان کے میڈیا چینلز سب تحریک انصاف کی جماعت کے حامی تھے، جواب واضح طور پر نہیں ہوگا۔

ہم نے صرف اس ایک معاملہ سے کیا حاصل کیا، کچھ نہیں سوائے اپنے ملک پاکستان کی انتہائی بدنامی اور اپنے وزیراعظم کی بے عزتی۔

سوشل میڈیا کا دور ہے اگر الیکٹرانک میڈیا پر آپ کی رسائی نہیں تو کیا ہوا سوشل میڈیا اس وقت ایک اہم ستون ہے الیکٹرانک میڈیا کا تو لوگوں نے اسی وجہ کو استعمال کرتے ہوئے اتنا گرایا پاکستان کا معیار اتنا کہ دوسرے ممالک کو بھی سر فہرست خبروں میں اس تلاشی لینے والی وڈیو کو کئی بار چلانا پڑا اور یہاں تک کہ امریکہ اور یورپ کے ممالک میں جو پاکستان رہتے ہیں وہ بھی پاکستانی میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر اس رحجان کو کچھ ن لیگ کی ناکامی اور کچھ پاکستان کی بد نامی قرار دیتے رہے۔

بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی، اب آتے ہیں دوسرے واقعے کی جانب، 21 جولائی 2019، موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب بھی امریکہ کے صدر سے ملاقات کے لئے روانہ ہوئے اور جیسے ہی وہ امریکہ پہنچے تو ان کو ائرپورٹ پر اترنے کے بعد کچھ دیر ٹرین کا سفر کرنا پڑا اور وہاں ان کا استقبال پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کیا اور اس بات پر اب ن لیگ کے سخت حامی کارکنان اس پر خوش ہیں۔ اس کو انتقام کی آگ کا میں نام نہیں دوں گا بلکہ اپنے لوگوں کی ذہنی کیفیت اور سیاسی بصیرت کے شدید فقدان کا نام دوں گا کہ یہ لوگ آج صرف اس لئے کہ حکمران سیاسی جماعت تحریک انصاف کا معیار کسی دشمن کی طرح شکست خوردہ ہو۔ اور اب سوشل میڈیا پر ایک سینکڑوں پوسٹس اور کچھ محدود وڈیوز کا رجحان جاری ہے جو صرف اپنے ملک کی بد نامی کے سوا کچھ نہیں۔

آخر، ہم کسیی قوم ہیں کبھی کسی حکمران کے آنے پر خوش کبھی جانے پر خوش، اور کبھی کسی کی تھوڑی سی کمی بیشی پر خوش، اور کبھی کسی کی تلاشی لینے پر خوش تو کبھی اس کو انتہائی حد تک بدنام کرنے تک خوش، کبھی ہم کسی کے ٹرین پر سفر کرنے پر خوش۔ ہم واقعی ہی خوش ہوتے ہیں صرف اور صرف اپنے ملک کو بد نام کر کے اور اپنے وزیراعظموں کو بد نام کر کے۔

کیا ہم لوگوں نے کبھی اپنے من پسند کی جماعت کے لوگوں سے سوال کیا کہ 5 سال کہاں تھے سوائے ان کے حق میں نعرے لگانے کے؟

کیا ہم صرف یہی سیاسی شعور رکھتے ہیں ذاتی طور پر اور جماعتی طور پر، اور یہی وجہ ہے کہ ہم واقعی ہی خوش ہوتے ہیں، صرف خود کو ذمہ دار اور قابل سمجھ کر۔ اور دوسرا چاہے عام انسان ہو یا ملک کا حکمران ہم اس پر واقعے ہی خوش ہوتے ہیں صرف تنقید کر کے یا پھر ایسی چیزوں پر کہ فلاں لیڈر نے اس کا استقبال نہیں کیا اور فلاں نے اس کو پاس تک کھڑا نہیں ہونے دیا۔

سیاسی محبتوں سے باہر آکر صرف ایک قوم بن کر ملک سے واقعے ہی خوش ہو جاؤ اور اپنے حصہ کے سوالات اس جماعت سے بھی کرو جس کو ووٹ دیا اور اس سے بھی جس کو ووٹ نہیں دیا چاہے وہ حکومت کر رہی ہو، اور غلط کو غلط اور درست کو درست مانو چاہے کسی بھی جماعت کی کارکردگی پر ہو۔ یقین کریں اور پھر دیکھیں کہ کیسے پاکستان دنیا کے بہتر ممالک کے مقابلے میں آ پ کو نظر آنا شروع ہو جائے گا اور پاکستان کے عوام بھی۔

اور اس وقت آپ کو کوئی پڑھا لکھا اور با شعور انسان بھی مشورہ دے سکے گا کہ اب آپ لوگ واقعی ہی خوش ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ والا خوش ہونا اوپر والے تمام خوش ہونے سے ہزار درجہ بہتر ہوگا آپ کے خود کے لئے بھی اور پاکستان کے لئے بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شیخ سعید اختر کی دیگر تحریریں
شیخ سعید اختر کی دیگر تحریریں