ایک سال کی حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محترم وزیراعظم! مبارک ہو۔ آپ کی حکومت ایک سال کی ہو گئی۔ 25جولائی 2018کے الیکشن میں آپ کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو بے مثال کامیابی حاصل ہوئی۔ حکومت سازی میں دُشواریاں دور ہو گئیں۔ آپ کی خواہش تو یہ تھی کہ بغیر اتحاد کے ہی حکومت بنے مگر مجبوراً مسلم لیگ(ق)، متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان)، جنوبی پنجاب محاذ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کو قبول کرنا پڑا۔ اِس ایک سال میں آپ کی حکومت کہاں کھڑی ہے اور عوام کہاں، اِس کا آپ کو خود تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ آپ کے پاس اِس قوم کی تقدیر بدلنے کے لئے چار سال اور ہیں بس مجھے اتنا بتا دیجئے کہ 2023میں ایک عام آدمی بجلی، گیس کا بل دینے کے قابل ہوگا، ادویات کی قیمتیں کیا ہوں گی، تعلیم، صحت اور پینے کا صاف پانی مل سکے گا۔ دیکھیں میں نے پورے پانچ سال دئیے ہیں آپ کو بغیر کوئی سیاسی بات کہے۔

1996 میں جب آپ سیاست میں آئے تو آپ کو 12واں کھلاڑی تصوّر کیا جاتا تھا، آج آپ اس ملک کے کپتان ہیں اور اپنے سب مخالفین کو جیل میں ڈال کر خود ہی کھیل رہے ہیں لہٰذا غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔ آپ بہت خوش نصیب ہیں کہ الیکشن سے پہلے ہی آپ کے لئے راہ ہموار ہو گئی اور سب سے بڑا مخالف نہ صرف نااہل قرار پایا،بلکہ سزا بھی ہوگئی ۔ باقی مہینوں میں آپ کی حکومت میں رہے سہے چور، ڈاکو، منشیات فروش، ٹیکس چور، منی لانڈرنگ کرنے والے، بے نامی اکائونٹ والے بھی جیل گئے۔ البتہ جو اپنے تھے، وہ بچ گئے۔ BRTمکمل نہیں ہوا تو کیا ہوا، سابق وزیر صحت نہیں پکڑا گیا تو کیا ہوا، چلیں یہ بھی ٹھیک ہوا کہ آپ کی حکومت نے نیب اور پیمرا کا قبلہ بھی دُرست کروا دیا جس سے غیر محبِ وطن چینل اور صحافی بھی قابو میں ہیں اور سیاستدان بھی۔

محترم وزیراعظم! اِس ایک سال میں کوئی تحریک آپ کے خلاف نہیں اُٹھ سکی اور پارلیمنٹ چلتی رہی چاہے آپ گئے یا نہیں، شور شرابہ تو اسمبلی میں ہوتا رہتا ہے۔ اب آپ نے 30ہزار ارب کا قرضہ اُتارنا ہے مگر جناب اِس کی وصولی عام آدمی سے کیوں کی جا رہی ہے اُس نے تو آپ کو مینڈیٹ دیا تھا دُوسروں سے وصول کرنے کا۔

اگر اجازت ہو تو تصویر کا دُوسرا رُخ بھی آپ کے سامنے پیش کردوں کیونکہ حکمران اکثر ایوانوں میں جانے کے بعد دیوانوں کو بھول جاتے ہیں۔ ویسے بھی آپ تک رسائی اب صرف کالم کے ذریعہ ہی ممکن لگتی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آج بھی ماشاء اللہ آپ بہت سے کم عمر سیاستدانوں سے زیادہ فٹ ہیں۔ لوگ آپ کو ایک اُمید سمجھ کر لائے تھے مگر یہ سارے مشکل اور سخت فیصلے عوام کے لئے ہی کیوں۔ ذرا باہر نکلئے اور معلوم کریں آٹے، دال کا بھائو، دوائوں کی قیمتیں، روٹی اب 15روپے کی ہونے جا رہی ہے۔

ریاست مدینہ کی باتیں کرتے آپ تھکتے نہیں ہیں، ذرا راتوں کو خاموشی سے کسی مضافاتی علاقے میں جائیں اور دیکھیں کتنے گھروں کے چولہے جل رہے ہیں، تنخواہ دار طبقے کو مہینوں میں ایک تنخواہ ملتی ہے جس میں اُس کو سارے یوٹیلیٹی بل، بچوں کی فیسیں اور گھر کا کرایہ دیگر خرچوں کے علاوہ ادا کرنا پڑتے ہیں۔ شبّر زیدی اور حفیظ شیخ صاحب سے کہیں کہ کم سے کم تنخواہ لینے والے کا بجٹ بنا دیں۔

محترم وزیراعظم! میں آپ کے ساتھ ہوں، کرپشن مخالف بیانیہ پر، مگر آپ کے دائیں اور بائیں طرف دیکھتا ہوں تو وہی چہرے نظر آتے ہیں جو سابقہ اَدوار کا دفاع کرتے تھکتے نہیں تھے۔ ویسے یہ ضمیر بھی خوب جاگتا ہے اور وہ بھی راتوں رات۔ ماڈل ٹائون تو لگتا ہے آپ بھول ہی گئے اور اُس کے ساتھ ہی اپنے سیاسی کزن علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کو بھی۔ آپ کا احساس پروگرام اور صحت کارڈ اگر لوگوں تک صحیح معنوں میں پہنچ گیا تو فائدہ ہوگا مگر یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ابھی تو آپ کو ایک کروڑ مستقل نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر بنوانا ہیں اُن کے لئے جن کے سر پر چھت نہیں ہے۔

ہر حکمراں آ کر ہمیں کہتا ہے کہ پاکستانی ایک عظیم قوم ہیں مگر قوم بنانے کو کوئی تیار نہیں۔ سیاست میں تحمل، برداشت بہت ضروری ہے کیونکہ سیاسی درجہ حرارت جتنا کم ہوگا، اُتنا حکومت کرنے میں آسانی۔ نہ آپ کو کسی کو NROدینے کی ضرورت ہے اور مانگنے والے بھی کہتے ہیں کہ کوئی نہیں مانگ رہا۔ پھر یہ روز کی تکرار کیوں۔ جو معاملات عدالتوں میں ہیں اُن کے فیصلے ہونے دیں مگر غیرجمہوری روش نہ اپنائیں۔ میڈیا پر غیر علانیہ پابندی ختم کریں، یہی میڈیا آپ کو یہاں تک لایا ہے، کچھ تنقید برداشت کریں۔ کوئی ملزم کا انٹرویو کرے یا مجرم کا یہ عدالتوں کا کام ہے، اگر وہ نوٹس نہیں لے رہیں تو آپ کو فکر کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ آپ تو خود کہتے ہیں عوام آپ کے ساتھ ہیں۔

محترم وزیراعظم! سادگی اپنانے کے لئے آپ کو حسرت موہانی بننا پڑے گا جن کو ایک مرتبہ کانفرنس کی دعوت کے ساتھ جہاز کا ٹکٹ اور ہوٹل میں قیام کی سہولت دی گئی مگر آپ نے شکریہ کے ساتھ واپس کر دیئے۔ ٹرین کا ٹکٹ لیا اور مدرسہ میں قیام، منتظمین سے تانگے کے اور ٹرین کے پیسے لیے۔ آپ کے وفاقی وزیر ریلوے نے درجنوں ٹرینیں چلوا دی ہیں مگر نہ وہ خود نہ کابینہ کے کوئی وزیر ان سہولتوں کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ خدارا مہنگائی کے اِس طوفان کو روکیں کیونکہ یہ سونامی سب کو بہا لے جائے گا۔ اب تو دوائوں کی قیمتیں اتنی اُوپر چلی گئی ہیں کہ ایک عام آدمی کے لئے موت ہی سستا ترین علاج ہے۔

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے

منصف ہو تو اب حشر اٹھاکیوں نہیں دیتے

آپ نے اپنی ایک تقریر میں دُرست کہا کہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے بعد کوئی عوامی لیڈر نہیں آیا۔ ایک بار یہی سوال میں نے ایک بوڑھے مزدور سے پوچھا تو اُس نے کہا: بھائی کچھ نہیں بس اُس نے مجھے حقوق کے لئے لڑنے اور جینے کا طریقہ بتا دیا۔

آج صرف آپ سے غیر سیاسی باتیں کی ہیں کیونکہ عوامی خدمت ہی اصل سیاست ہے باقی تو کاروبار ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •