امریکہ کو مسلمانوں نے کیا دیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دسمبر 2015 ء کے شروع میں امریکی سیاست دان ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اشتعال انگیز بیان دیا کہ امریکہ میں مسلمانوں کی آمد پروقتی طور پر پا بند ی لگا دی جانی چاہیے۔ پھر نومبر 2016 میں جب مسٹر ٹرمپ صدر امریکہ بن گئے توانہوں نے سات مسلمان ممالک شام، صومالیہ، عراق، ایران، لبیا، سوڈان، یمن، کے شہریوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگا دی۔ انہی دنوں نے انہوں نے کہا تھا Islam Hates Us ان کے اس احمقانہ اقدام کی وجہ سان برنا ڈینو میں 14، افراد کے قتل کا افسوس ناک، اور دردناک واقعہ تھا جس میں دو پا کستانیوں نے اس بہیمانہ قتل عام میں حصہ لیا تھا۔

لیکن یہ ہرزہ سرائی ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امید واروں کی طرف سے روز اول سے جاری ہے۔ کچھ روز پہلے مسٹر ٹرمپ نے کانگریس کی چار ممبرز کو طعنہ دیا کہ وہ اپنے ملک واپس چلی جائیں حالانکہ ان میں سے تین یہاں پیدا ہوئی ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ کی والدہ جرمن تھیں اور اس کی اہلیہ ملانیا بھی امریکہ میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ اس لحاظ سے ملانیا کو بھی اپنے ملک واپس چلے جا نا چاہیے۔ غرضیکہ صدر امریکہ کی مسلمانوں کے لئے نفرت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور شاید اسی نفرت نے ان کو الیکشن میں جیت سے ہمکنار کیا تھا جو کہ ابھی تک مشکوک ہے۔

 آئیے ذرا دیکھیں مسلمانوں نے امریکہ میں کیا خدمات سر انجام دی ہیں کہ وہ اس معاشرے کا اٹوٹ حصہ بن چکے ہیں۔ برٹش گورنمنٹ کے خلاف امریکہ نے جو جنگ جارج واشنگٹن کی سرکردگی میں لڑی تھی اس میں ایک مسلمان بمپٹ محمد Bampet Muhammadبھی تھا جس نے ورجینیا لائن کے لئے 1775۔ 83 کے دوران جنگ میں عملی طور پر حصہ لیا تھا۔ اسی طرح یوسف بن علی جو نارتھ افریقن مسلمان تھا اس نے جنگ میں شرکت کی تھی۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ پیٹر بک منسٹر Peter Buckminsterبھی مسلمان تھا جس نے وہ توپ چلائی تھی جس سے برطانوی میجر جنرل جان پٹ کئرنJohn Pitcairn بنکر ہل کی لڑائی میں اس دنیا سے رخصت ہؤا تھا۔

اس کے بعد پیٹر نے بیٹل آف سارا ٹوگا Battle of Saratogaاور بیٹل آف سٹونی پوائنٹ میں حصہ لیا تھا۔ امریکن مسلمانوں نے امریکہ کے پہلے صدر کی قیادت میں جنگوں میں حصہ لیا اس کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں تھا کہ اس کی فوج میں مسلمان بھی ہیں۔ جارج واشنگٹن یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ محب وطن امریکی ہونے کے لئے یا امریکی فوج میں داخل ہونے کسی کا مذہب یا کلچرل بیک گراؤنڈ جاننا ضروری نہیں تھا۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب امریکہ نے آزادی کا اعلان کیا تو سب سے پہلے اسلامی ملک مراکش نے اس کو تسلیم کیا تھا۔ دونوں ممالک نے 1786 ء میں امن اور دوستی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جوکہ امریکہ کی تاریخ میں سب سے طویل ترین معاہد ہ ہے جس کو ایک بار بھی توڑا نہیں گیا۔ اس موضوع پر تفصیل سے کتاب Thomas Jefferson Quran میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ امریکہ کے تیسرے صدر ٹامس جیفرسن نے 1734 میں شائع ہونیوالے قرآن پاک کے نسخے کا مطالعہ کیا تھا۔

امریکہ کے شہرہ آفاق شاعر رالف ایمرسن کی کتابوں میں اسلامک پرشین ریفرنس کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ وہ حافظ اور سعدی سے بہت متاثر تھا۔ گلستان کے امریکن ایڈیشن کا اس نے پیش لفظ لکھا تھاجس میں اس نے شکوہ کیا تھا کہ امریکنوں کی اکثر یت فارسی، عربی اور مشرقی شاعروں سے نا بلد ہے۔ 1842 میں اس نے ایک نظم صفحہ قرطاس پر اتاری جس کا نام ہی سعدی تھا۔ وہ قرآن مجید سے بھی بہت متاثر تھاجس کا اس نے 1840 کے اوائل میں مطالعہ کیا تھا۔

پی ٹی بارنم امریکی بزنس مین، شومین اور سرکس Barnum and Bailey کا مالک تھا۔ برج پورٹ میں اس کی حویلی کا نام ایرانستان تھا جو 1848 میں تعمیر ہوئی تھی۔ اس کا آرکی ٹیکچر حیران کن تھا چھت کے اوپر مینارے تھے۔ اس بلڈنگ کی تحریک اس کو تاج محل سے ہوئی تھی۔ نو سال بعد یہ حویلی نذر آتش ہو گئی مگر اس کا ماڈل برج پورٹ بارنم میوزیم میں موجود ہے۔ ماڈل میں پرانی لا ئبریری کو دکھایا گیا نیز دیواروں با دشاہ شا ہ جہاں اور جہانگیر کے عہد حکومت کے لائف سائز سین اورہندوستانی مناظر کو دکھایا گیا تھا۔

شرائنرز نارتھ امریکہ Shriners میں ایک ایسی خفیہ سوسائٹی ہے جس کے ممبر سرخ رنگ کی فیض Fezٹوپی پہنتے جو ترکی میں پہنی جاتی تھی۔ امریکہ میں یہ اپنا لٹریچر عربی میں شائع کرتے اور شہروں میں ان کی پیریڈ میں اونٹ شامل ہوتے ہیں۔ یہ اپنی عمارتوں کو مسجد کہتے اور ان کے نام مکہ، مدینہ، الملائکہ، القران، ہوتے ہیں۔ عام ممبر تو فیض ٹوپی پہنتے مگر افسران بالا جبے اور پگڑیاں پہنتے ہیں۔ ایک دوسرے کو جب ملتے تو السلام علیکم کہتے ہیں۔

Fazlur rahman khan

مسلمان انجنئیر اورٹرمپ ٹاور زTrump Tower

ٹر مپ ٹاور امریکہ کینیڈا کے تمام بڑے شہروں میں تعمیر ہو چکے ہیں۔ شکاگو شہر میں موجود ٹرمپ ٹاور شاید وجود میں نہ آسکتا اگر بنگلہ دیشی فضل الرحمن نے سٹرکچرل انجنئیرنگ میں کمال نہ دکھا یا ہوتا۔ فضل الرحمن کو Einstein of Structural Engineering کا خطاب دیا گیا ہے۔ اس نے ٹیوب فریمز کا سٹرکچرل سسٹم ایجاد کیا جس کی وجہ سے سکائی سکرپیرز کی تعمیر آسان ہوگئی۔ نیز اس ایجادکے بعد ہائی رائز بلڈنگوں کی تعمیر میں سٹیل کے استعمال کی ضرورت کم ہو گئی۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دو ٹاور اگرچہ تباہ ہو چکے ہیں مگر ان کی تعمیر فضل الرحمن کی ایجاد سے ممکن ہو ئی تھی۔ شکاگو کا سئیرز ٹاورSEAR ’S اور جان ہین کا ک سینٹر John Hancock Centreبھی فضل الرحمن کے مرہون منت ہیں۔ سئیرز ٹاور شکاگو کے 108 منزلیں اور 1451 فٹ اونچا ہے۔ فضل الرحمن کی وفات 1982 ء میں ہوئی تھی مگر اس کی وفات کے بعد تعمیر ہونے والی سکائی سکریپرز اس کی اختراع پسندی کی یادگار ہیں۔ جیسے ملواکی کا US Bank Centre، اور منی آپلس میں ہیو برٹ ہمفری میٹرو ڈوم، ائر فورس اکیڈیمی کولوراڈو۔ ان سب کی تعمیرمیں فضل الرحمن نے سٹرکچرل انجنئیر کے طور پر کام کیا تھا۔

شاہد خاں آٹو پارٹس ٹائی کون Tycoon

شاہد خان امیریکن ڈریم کی چلتی پھرتی تصویر ہے۔ لاہورپا کستان میں 1950 میں پیداہونے والا شاہد خان امریکی بلین ائیر اور بزنس ٹائی کون ہے جو 16 سال کی عمر میں 1967 میں امریکہ آیا تھاتا کہ یو نیورسٹی آف شکاگو میں تعلیم جاری رکھ سکے۔ شاہد خان کا کہنا ہے امریکہ پہنچنے کے پہلے روز اس کو $ 1.20 فی گھنٹہ کے حساب ڈش واشر کے طور ملازمت مل گئی جو کہ پا کستانی سٹینڈرڈ کے حساب سے بہت زیادہ تنخواہ تھی۔ یونیورسٹی میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نے آٹو پارٹس کا بزنس شروع کیاجس کا سالانہ بزنس اس وقت $ 4.9 billion ہے۔

مئی 2019 میں اس کی نیٹ ورتھ $ 6.8 billionتھی۔ برطانیہ میں اس کی شہرت اس لئے ہے کہ وہ فٹ بال کی ٹیم Fullham FCکا مالک ہے۔ اسی طرح وہ امریکی فٹ بال ٹیم Jacksonville Jaguarsکا بھی مالک جو اس نے $ 760 millionڈالر میں خریدی تھی۔ کار پارٹس کا بزنس Flex۔ N۔ Gate کہلاتاہے جس کی وجہ سے وہ دنیا کا 360 واں امیر ترین انسان، اور امیر ترین پا کستانی ہے۔ چند سال قبل فوربس Forbesمیگزین نے اس کی تصویر اپنے سرورق پر شائع کی تھی۔ شاہد خاں نے اپنی مادر علمی یو نیورسٹی کو آف ایلی نائس کو 25 ملین ڈالر کا تحفہ دیا تھا۔

اس کے علاوہ مشہور مسلمان امریکن بزنس میں یہ ہیں : محمد الایرین (CEO PIMCO) ، فؤاد الحبری (CEO Emergent Solutions) ، فاروق کتھواری (CEO Ethan Allen) ، عبد المالک مجاہد، پا کستانی امریکن صفی قریشی (CEO AST Research ) ، جاوید کریم (یو ٹیوب) ، محمد الفارس (ایرو سپیس) ، قاسم ریڈ، محتار کینٹ (سی ای او کوکا کولا) ، سلمان خاں (خان اکیڈیمی) ، ایرن اوزمین (ایروسپیس) ، مہمت آز۔

C. M. Naim

آج سے 115 سال قبل 1904 ء میں سینٹ لوئیس ورلڈ فئیر منعقد ہؤا تھا۔ ایک آدمی جو اس موقعہ پر آئس کریم بیچ رہا تھا اس کی ڈشز کم ہوگئیں۔ میلے میں آنے والے افراد اب آئس کریم کیسے کھائیں گے؟ کیا وہ اپنے ہاتھوں میں آئس کریم ڈال کر ہاتھوں کا چاٹتے رہیں؟ خو ش قسمتی سے آئس کریم کی دکان سے اگلی دکان میں شام سے آیا ہؤا مہاجر ارنسٹ ہموی Ernest A۔ Hamwiکام کر رہا تھا جو وافل کی طرح شیرینی (جلیبی کی شکل کا) زلابیا فروخت کر رہاتھا۔ اس نے وافل کوکون کی شکل میں ڈھال دیا اور اس میں آئس کریم ڈال دی۔ یوں دنیا کی پہلی آئس کریم کون دریافت ہوئی جس کو مزے لے کر کھا یا بھی جا سکتا تھا۔

مریضوں کے مسیحا

امریکہ میں دیکھا گیا ہے کہ اکثر ڈاکٹر ہندوستانی نژاد ہوتے ہیں۔ اسی طرح مسلمان ڈاکٹربھی ہزاروں کی تعداد میں امریکہ میں پائے جاتے جن کے بغیر شاید کتنے ہی مریض موت کا نشانہ بن چکے ہوتے۔ کسی امریکی ہسپتال میں چلے جائیں وہاں آپ کوضرور کوئی نہ کوئی پا کستانی کارڈیالوجسٹ مل جا ئیگا۔ ایسے ماہر اور کامیاب ڈاکٹروں میں سے ایک ڈاکٹرایوب امیہ ( 1930۔ 2008 ) ہے۔ میاں چنوں پا کستان میں پیداہونے والے اس نیورو سرجن نے 1963 ء میں intraventricular catheter system ایجاد کیا جس کے ذریعہ دماغ میں سے پانی اور دیگر مائع نکالے جا سکتے یا کیمو تھیراپی کی دوائیاں وہاں پہنچائی جا سکتیں۔

امیہ ریزروائر Ommaya Reservoirکے ذریعہ برین ٹیومر کا علاج کیا جاتا۔ امیہ نے سب سے پہلے ٹراؤما سکور شروع کیا جس کے ذریعہ traumatic brain injuryکو کلاسی فائی کیا جاتا ہے۔ کانگریس مین Lehmanسے اس کی دوستی کی وجہ سے نیشنل سینٹر فار پری انجری پریوینشن اینڈ کنٹرول قائم ہؤا تھا۔ یہ صرف ایک مسلمان ڈاکٹر کی کہانی ہے ورنہ ایسے ہزاروں اور بھی ہیں جو امریکہ میں طبی ایجادات اور دریافتیں کر چکے ہیں۔ شاید کسی روز مسٹرٹرمپ ذہنی یا جسمانی طور پربیمار پڑجائیں تو ان کا علاج کوئی مسلمان ہی کرے گا۔

Farah Pandith

ڈپلو میسی اور سیاست

مس فرح انورپانڈتھ، Farah Pandith (ولادت سر ینگر کشمیر 1968 ء) پبلک سپیکر اور گلوبل ایڈوائزر ہے۔ وہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی ایڈمنسٹریشن میں مڈل ایسٹ انیشا ایٹو کی ڈائریکٹر تھیں، اس کے بعد سٹیٹ ڈی پارٹمنٹ میں یورپ میں مسلمانوں سے مفاہمت کی ایڈوائزر تھیں۔ ہلری کلنٹن کے دور میں وہ مسلمان ممالک کے لئے وہ انوائے تھی۔ کلنٹن کے ذکر میں ہما عابدین کا ذکر بھی ہوجائے۔ مشی گن ریاست کے شہر کالامازو میں پیدا ہونیوالی 39 سالہ ہما عابدین عرصہ سے ہلری کلنٹن کی سٹاف میں شامل رہی ہیں۔

جب ہلری سیکرٹری آف سٹیٹ تھی تو اس وقت ہما ڈپٹی چیف آف سٹاف تھی۔ ہما، ہلری کلنٹن کی 2016 ء کی امریکی صدر کے انتخاب کے لئے مہم کی ٹیم کی وائس چئیر مین تھی۔ 2012 ء میں پانچ ری پبلکن کانگریس ممبرز نے شکایت کی کہ ہما عابدین کے غیرملکی شدت پسندوں کے ساتھ روابط ہیں۔ تحقیقات کے بعد اس چیزکی شدت سے تردید کی گئی تھی۔ امریکن کانگریس کا پہلا مسلمان Keith Ellison تھا جو بارہ سال تک ممبر رہنے 2007۔ 2019 کے بعد سبکدوش ہو چکا ہے۔ اور ظالمے خالدزاد عراق اور افغانستان میں امریکی سفیر رہ چکا ہے اور طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کا امریکی لیڈر ہے۔

نا انصافی کے لئے لڑائی

امریکہ میں جب غلامی ختم ہوگئی تو بہت سارے افریقن امیریکن بڑی تعداد میں بڑے شہروں کی طرف رخ کر نے لگے۔ مگر شہروں میں رہائشی انتظامات اور ملازمت نہ ہونے کے باعث انہوں نے ghettos میں رہنا شروع کر دیا۔ ان حالات میں بعض افریقن امریکن دانش وروں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے مذہب پر دوبارہ کاربند ہو جانا چاہیے۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی سیا ہ فام امریکیوں کو نیشن آف اسلام نے میلکم لٹل ( 1925۔65 little) نے اپنی تقاریر سے بہت متاثر کیا جو بعد میں میلکم ایکس کے نام سے مشہور ہؤا تھا۔ الحاج ملک الشہباز میلکم نے اپنانام لٹل Littleبدل دیا کیونکہ یہ اس کا غلامی والا نام تھا۔ اس نے نسلیت پسندی کے خلاف علم بلند کیا۔ اس کے مخالف ڈاکٹر مارٹن لوتھر تھا جو سول رائیٹس کے حق میں اشتعال پسندی کے خلاف تھا۔ آج امریکہ میں سیاہ فام میلکم ایکس کے طفیل جملہ حقوق کے حقدار قرار پائے ہیں۔ یہ سب ایک مسلمان کے ذریعہ ہؤا تھا جس نے ان کو سیاسی آگہی بخشی کہ امریکہ کاصدر ایک سیاہ فام باراک حسین رہ چکا ہے جس کا والد مسلمان تھا۔

shohreh aghdashloo

سپورٹس ہیروز

امریکی صدر اوباما نے سان برنا ڈینو کے وحشیانہ قتل کے بعد وائٹ ہاؤس سے اپنی تقریر کے دوران کہا تھا : مسلمان ہمارے سپورٹس ہیروز ہیں۔ اس کے جواب مسٹر ٹرمپ نے کہا تھا اوباما کن ہیروز کی بات کر رہے ہیں؟ چلئے یہ جاننے کے لئے ہم مسٹر ٹرمپ کی مدد کرتے ہیں۔ اس ہیروکو Luisville lipکہا جا تا ہے، وہ تین بار ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ چمپئن رہا تھا۔ اس نے 1965 میں اپنا عیسائی نام تبدیل کر کے محمد علی رکھ لیا تھا۔ مسٹر ٹرمپ کیا آپ کو اب یا د آگیا، یہ وہی محمد علی ہے جس نے آ پ کو 2007 ء میں محمد علی ایوارڈ دیا تھا۔ مئی 2015 ء میں آپ نے محمد علی کے ساتھ اپنی ساتھ فیس بک پر فو ٹو لگائی اور کہا یہ میرا دوست تھا۔ اور اب کہتے ہیں مسٹر اوباما کس سپورٹس ہیرو کی بات کرتے ہیں؟

بات یہاں ختم نہیں ہوتی ہم یہاں باسکٹ بال کے چند مزید ہیروزکا نام لئے دیتے ہیں : شکیل او نیل، کریم عبد الجبار، حکیم اللہ جان Hakeem Olajuwon، شریف عبد الرحیم، محمود عبد الرؤوف، مصطفی فراخان، نزر محمد، رشید والس، امریکن فٹ بال کے مشہور کھلاڑی : عیسیٰ عبد القدوس، امیر عبد اللہ، حمزہ عبد اللہ، احمد رشاد، روشان سلام، عاقب طالب، اسامہ ینگ، عبد الحاج، افرائم سلام، ظاہر حکیم۔ اور آخر پر سب سے نوجوان باکسر مائیک ٹا ئی سن جس نے 20 سال کی عمر میں WBC، WBA and IBF heavyweigکے ٹائیٹل جیتے تھے۔ اس کے علاؤ ہ مشہور امریکی باکسر: برنارڈ ہاپکن، ایڈی مصطفی محمد، میتھیو سعد محمد، ہا شم رحمن، اس ضمن یہ ذکر کردینا بھی ضروری ہے کہ امریکہ کے سپورٹس ٹیلی ویژن ESPNکا ایک سپورسٹس اینکرکینیڈا میں پیدا ہونیوالا عدنان شہزادورک ہے۔

نوبیل انعام یافتہ مسلمان سا ئنسدان 1946۔ 2016

مصر میں پیدا ہونیوالے امریکی پروفیسراحمد ذویل Zewailکو 1999 ء میں کیمسٹری میں نوبیل انعام دیا گیا تھا۔ اس کو فادر آف فیمٹو کیمسٹر ی FEMTOکا لقب دیا گیا ہے۔ زویل کال ٹیک CALTECHمیں پروفیسر آف کیمسٹری اور فزکس تھے نیز فزیکل بیالوجی سینٹر کا ڈائریکٹر۔ وہ صدر اوباما کی کونسل آف ایڈاوئزرزآن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ممبرر ہے۔ سائنس اور ہیومنٹی کے لئے اس کی سنہری خدمات کے اعتراف میں اس کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔

سپورٹس ہیرو

صابق امریکی صدر واباما نے ایک دفعہ کہا تھاکہ مسلمان ہمارے سپورٹس ہیرو ہیں؟ مسٹر ٹرمپ کو اس بیان سے بہت تکلیف ہوئی تھی۔ ایسے سپورٹس ہیروز میں سے ایک محمد علی تھا جس نے تین دفعہ ہیوی ویٹ باکسنگ چمپئین شپ جیتی تھی۔

iman

مسلمان کامیڈین

امریکہ میں کا میڈین ہونا ایک با قاعدہ پروفیشن ہے۔ جو لوگ اس پروفیشن میں کامیاب ہوچکے ہیں وہ ملین ائیر بن چکے ہیں۔ ان کے نام کا ہر طرف چرچا ہے۔ وہ دنیا کے دوروں پر جاتے تا وہاں جا کر اپنے شو کرسکیں۔ ایسے کامیاب اور ہنگامہ خیز کامیڈینز میں سے ایک دین عبید اللہ ہے جس کے والد نے فلسطین میں جنم لیا تھا۔ پیشہ کے اعتبار سے دین عبید اللہ وکیل ہے۔ 2005 ء میں اس کو کامیڈی ایوارڈ ملا تھا۔ وہ اخبار The Dean Report کا ایڈیٹر اور بانی ہے۔ امریکہ کے بڑے بڑے اخباروں جیسے نیو یارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، لاس اینجلس ٹائمز، نیوزویک، ٹائم میں اس کے انٹرویو شائع ہوچکے ہیں نیز امریکہ تمام بڑے ٹیلی ویژن سٹیشنوں پر وہ انٹرویو دے چکا ہے۔ اس نے ایک ڈاکومنٹری بنائی The Muslims Are Comingجس میں مذہب کی آزادی کو موضوع بنا یا گیا ہے۔

Mona Eltahawy

ایک اور کامیڈین عزیز انصار ی ہے جس کی پیدائش ساؤتھ کیرولائنا میں تامل والدین کے یہاں 1983 ء میں ہوئی تھی۔ اس کے والد ڈاکٹر ہیں۔ اس کا اپنا ویب سائٹ ہے azizansari۔ com۔ اور پھر ڈیو شاپیل Dave Chappelleسیاہ فام کامیڈین، ایکٹر، سکرین رائٹر اور پروڈیوسر ہے۔ وہ 1998 ء میں حلقہ بگوش اسلام ہؤا تھا۔ وہ اپنے مذہب کے بارے میں زیادہ اعلان نہیں کر تا کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ میری غلطیوں اور بے راہ رویوں کو کسی کا خوبصورت مذہب اسلام سے منسوب کر نا نازیبا بات ہے۔

اس نے ٹائم میگزین کو 2005 ء کے انٹر ویو میں کہا تھا Islam is beautiful if you learn it the right way۔ اس کے علاوہ دیگر کامیڈینز کے نام درج کیے جاتے ہیں : احمد احمد، محمد عامر، معاز جبرانی، حسن منہاج، آصف مندوی، اظہر عثمان، میسون زید۔ امریکہ جو دانشور اور عالم فاضل اس کی ترقی میں گامزن ہیں اور روزمرہ زندگی اپنا لوہا منوا چکے ہیں ان کے اسماء یہاں دیے جاتے ہیں ؛

ممتاز مسلمانوں کی فہرست

رائٹرز: پروفیسررضا اسلان، مونا التہاوی، صلادین احمد، سٹیفن شوارز، مائیکل وولف، فرید ذکریا (نیوز ویک ایڈیٹر، سی این این ہوسٹ اور قلمکار) ، وجا ہت علی (نیو یارک ٹائمز)

ماڈلنگ: سپر ماڈل ایمان (وائف آف David Bowie) ، ریما فقیہ (مس یوایس اے 2010 ء)

ٹیلی ویژن: مہمت آز (کارڈیالوجسٹ ٹیلی ویژن ہوسٹ) ، رضوان مانجی، اسعیا مصطفی، کامران پاشا، اقبال تھیبا۔

rima faqih

معرو ف سا ئنسدان اور موجد: عاصم اورہان باروت (وفات 1994 ) ، علی جوان (ستمبر 2016 ) ، فضل لرحمن خاں (ستمبر 1982 ) اسماعیل اکبے ( 2003 ) لطفی علی عسکر زادہ ( 2017 ) ، فاروق الباز (پیدائش 1938 ) ، ڈاکٹر مجیب الرحمن ملک ناسا (پیدائش 1951 ) ، تان تیک چیلک (کمپیوٹر سا ئنٹسٹ ( Mozilla، مس پردیس ثابتی (جینیات دان) فیروز نادری (NASA JPL) ، ڈاکٹر سلطانہ نور مہر (پیدائش ڈھاکہ) ، عالیہ صبور (پیدائش 1989، کم ترین عمر والی پروفیسر)

باکسنگ: محمد علی، مائیک ٹائی سن۔

باسکٹ بال: شکیل او نیل، کریم عبد الجبار، حکیم اللہ جوان،

سپورٹس اینکر: عد نان ورک، ESPN نبیل کریم TSN Toronto، فرح خاں نیوز اینکرسٹی ٹی وی۔

فلم: شہرے آغداشلو، (ایرانی ایکٹریس ) ، مصطفی ٰ عقاد، (ڈائریکٹر، پروڈیوسر) لوئیس آرکٹ (ایکٹر، پروڈیوسر) ، سید بدریا (ایکٹر) ، سعید طغماؤی (ایکٹر) ، ایکٹر

مہر شالا علی جو دو دفعہ اکیڈیمی ایوارڈ اور گولڈن گولڈ ایوارڈ جیت چکا ہے۔ ٹائم میگزین نے اس کو 2019 میں 100 انفلو انشل پیپل میں شمار کیا تھا۔ وہ پہلا مسلمان ایکٹر ہے جس نے 2017 میں آسکر ایوارڈ جیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •