ٹیکس پاکستانی اور سہولتیں انگلستانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب کبھی پاکستان میں ٹیکس ادائیگی کی افسوس ناک صورتِ حال پر بات کی جائے تو ایک اعتراض فوراً سامنے آتا ہے کہ اگر حکومت نے یورپ جیسا ٹیکس لینا ہے تو پہلے یورپ جیسی سہولیات بھی فراہم کرے۔ یہ اعتراض کرنے والوں میں ہمیں ایک ان پڑھ مزدور سے لے کر بڑے بڑے دانشوروں تک ہر طبقے کے لوگ ملیں گے۔ بظاہر یہ مطالبہ بالکل جائز لگتا ہے۔ اگر میں علاج کے لئے سرکاری ہسپتالوں پر، تعلیم کے لئے سرکاری درسگاہوں پر، سفر کے لئے ریلوے پر، تحفظ کے لئے پولیس پر اور انصاف کے لئے عدالتوں پر اعتماد ہی نہیں کر سکتا تو واقعی میں ٹیکس کیوں دوں؟

اس بظاہر سادہ سوال کا جواب کم از کم چار پہلوؤں پر مشتمل ہے۔

سب سے پہلے ہم انسانی اور معاشرتی پہلو کی بات کرتے ہیں۔ میں پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کرواتا ہوں کیونکہ میرے معاشی وسائل اس بات کی اجازت دیتے ہیں۔ میرے بچے ایک نجی سکول میں پڑھتے ہیں کیونکہ میں ان کی بھاری فیس ادا کر سکتا ہوں۔ میں ریل میں سفر نہیں کرتا کیونکہ میرے پاس گاڑی خریدنے اور اس میں پٹرول ڈلوانے کے پیسے ہیں۔ جب حکومت کی فراہم کردہ سہولیات میرے معیار پر پوری نہیں اترتی، میں اپنے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ان سے بہتر سہولیات خرید لیتا ہوں۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ان سہولیات کے لئے میرا مطلوبہ معیار نسبتاً بلند صرف اس لئے ہے کیونکہ میرے پاس اسے حاصل کرنے کے لئے بہتر معاشی وسائل موجود ہیں۔ لیکن اس ملک کی کم از کم ایک چوتھائی آبادی جو خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، اسے یہ سہولیات کون فراہم کرے گا؟

سرکاری ہسپتال کے جس وارڈ سے مجھے بدبو آتی ہے، وہ ابھی بھی اتنا بھرا ہوا ہے کہ ایک ایک بستر پر دو دو مریض لیٹے ہیں۔ جس سرکاری سکول سے میرے بچوں کی زبان خراب ہوتی ہے، بہت سے بچے اس سکول کی بیس روپے ماہانہ فیس بھی ادا نہیں کر سکتے۔ اور جس ریل کے سفر سے میری کمر میں درد ہوتا ہے، بہت سے لوگ ابھی بھی اس سے لٹک کر سفر کرتے ہیں۔

ریاست کوئی دکان نہیں ہوتی کہ جس شہری نے ایک لاکھ ٹیکس ادا کیا ہے، وہ ایک لاکھ کی سہولیات لے لے، اور جس نے ایک ہزار ٹیکس ادا کیا ہے، اسے ایک ہزار کی سہولیات تھما کر خدا حافظ کہہ دیا جائے۔

ٹیکس نظام کے بنیادی مقاصد میں سے ایک معاشی وسائل کی تقسیم کو بہتر بنانا بھی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ کسی خوش حال گھرانے میں پیدا ہوا ہے تو اس میں اس کا کیا کمال ہے؟ اور اگر کوئی بچہ انتہائی غربت میں پیدا ہوا ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے؟ کیا اس غریب بچے کا حق نہیں کہ ریاست اسے بھی وہی مواقع فراہم کرے جو امیر بچے کو حاصل ہیں؟ لیکن اگر اس غریب بچے کے حقوق کو اس کے باپ کے ادا کردہ ٹیکس سے نتھی کر دیا جائے گا تو معاشرے میں طبقاتی خلیج مزید گہری ہوتی چلی جائے گی۔

مختصراً یہ کہ ریاست اور عوام کے درمیان حقوق و فرائض کا تعین کرتے وقت ہمیں صرف اپنی ذات کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو مدِنظر رکھنا چاہیے۔

دوسرا پہلو بحیثیتِ قوم ہمارے ادا کردہ ٹیکسز کی سال بہ سال تاریخ ہے۔ بجٹ چاہے ایک گھر کا بنانا ہو، ایک ادارے کا، یا پورے ملک کا، ایک بنیادی اصول ہمیشہ مدِنظر رکھا جانا چاہیے کہ کل اخراجات کبھی کل آمدن سے زیادہ نہ ہوں۔ اس اصول پر عمل کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ آمدن بڑھائی جائے اور اخراجات کم کیے جائیں۔

حکومت کے لئے آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ٹیکسز ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ درجنوں اقسام کے ٹیکسز لگانے اور متعدد بار ان کی شرح میں اضافے کے باوجود طویل عرصے سے پاکستان کا سالانہ بجٹ ہمیشہ خسارے کا بجٹ ہی رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام نے ٹیکس دیا بھی ہے تو اتنا نہیں دیا جتنا درکار تھا۔ دوسری طرف اخراجات میں کمی کے لئے اختیاری اخراجات (جیسا کہ ترقیاتی اخراجات) سب سے پہلے کٹوتی کی زد میں آتے ہیں۔

مختصراً یہ کہ بجٹ کا مالیاتی خسارہ ختم کیے بغیر عوامی سہولیات میں بہتری لانے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

تیسرا پہلو تدریج کا ہے۔ اگر آپ کو اختیار دے دیا جائے کہ کوئی ایک مسئلہ حل کر دیں تو وہ کون سا ہو گا؟ یہ سوال بنیادی طور پر غلط ہے۔ معیشت ہو یا سماجی زندگی، تمام پہلو صرف اکٹھے ترقی کر سکتے ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ تمام ہسپتال بند کر کے ان کا بجٹ بھی تعلیم پر لگا دیا جائے۔ اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ تمام تعلیمی ادارے بند کر کے ان کا بجٹ صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے مختص کر دیا جائے۔ لاہور کو پیرس بنانے کے جنون میں آپ پورے صوبے کے وسائل اس ایک شہر میں جھونک کر باقی شہروں کو ایتھوپیا نہیں بنا سکتے۔

دوسرے لفظوں میں کسی ایک شعبے (یا شہر) کے لئے زیادہ سے زیادہ کتنے وسائل مختص کیے جا سکتے ہیں، اس کا تعین کرنے کے لئے دوسرے شعبوں (یا شہروں ) کے لئے درکار کم سے کم وسائل کو بھی زیرِغور لانا پڑے گا۔

چوتھا اور سب سے اہم، لیکن بدقسمتی سے سب سے زیادہ نظرانداز کیا جانے والا پہلو وقت اور تسلسل کا ہے۔ بچپن میں ایک حکایت پڑھی تھی کہ کسی نے ایک بہت بوڑھے شخص کو پھل دار درخت کا بیج بوتے دیکھا تو سوال کیا کہ بڑے میاں، آپ قبر میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھے ہیں، اور جو درخت آپ لگا رہے ہیں، اس نے کئی سال تک پھل بھی نہیں دینا تو آپ اتنی محنت کیوں کر رہے ہیں؟ بوڑھے نے جواب دیا کہ یہ بات درست ہے کہ اس درخت نے پہلا پھل کئی سال بعد دینا ہے۔ لیکن میرے بزرگوں نے جو درخت لگائے تھے، ان کا پھل میں نے کھایا ہے۔ اور اب جو درخت میں لگا رہا ہوں، اس کا پھل میری آنے والی نسلیں کھائیں گی۔

اس بات کو سمجھنے کے لئے بجلی کی مثال لیتے ہیں۔ پاکستان میں بجلی کی طلب اور پیداوار میں فرق تقریباً چھ سے سات ہزار میگاواٹ کا ہے۔ ایک ہزار میگاواٹ کا کوئلے سے چلنے والا بجلی گھر تعمیر کرنے کے لئے کم از کم دو سو ارب روپے اور ڈیڑھ سے دو سال کا وقت چاہیے۔ اور اگر اس جیسے چھ سات بجلی گھر تعمیر کرنے ہوں تو؟ ایک بڑا ڈیم بنانے کے لئے سینکڑوں ارب روپے اور کم از کم پانچ سے سات سال درکار ہیں۔ اسی طرح ایک بڑا ہسپتال یا یونیورسٹی بنانے اور اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے اربوں روپے اور کئی سال درکار ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تو آمدن میں اتنی گنجائش ہونی چاہیے کہ بنیادی اخراجات کو پورا کرنے کے بعد ترقیاتی اخراجات کے لئے معقول مالیاتی وسائل باقی بچیں اور پھر ان وسائل کا ایک طویل عرصے تک مسلسل فراہم کیا جانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اس کے بعد ہی سہولیات کے معیار کا سوال اٹھایا جا سکتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں یہ مطالبہ کہ ”پہلے“ حکومت یورپ جیسی سہولیات فراہم کرے اور ”اس کے بعد“ یورپ جیسا ٹیکس مانگے، بنیادی طور پر ناقابلِ عمل ہے۔ ”پہلے“ عوام کو یورپ جیسا ٹیکس دینا ہو گا، اور مسلسل کئی سال تک دینا ہو گا، ”اس کے بعد“ وہ یورپ جیسی سہولیات مانگنے میں حق بجانب ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •