کیا ہتھکڑی غلط ہتھکنڈا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل ہتھکڑی کے غلط استعمال پر شور ہے۔ احتجاج ہو رہا ہے۔ مگر ایک ہتھکڑی کا کیا رونا۔ یہاں قدم قدم پر دیکھی‘ ان دیکھی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں ہیں۔ جہاں پورا سماج طرح طرح کی ہتھکڑیوں میں جکڑا ہو۔ جہاں قدم قدم پر ظلم و نا انصافی کی داستانیں ہوں۔ وہاں کسی ایک آدھ شخص کو ہتھکڑی لگ جانے پر احتجاج سے کیا ہو گا؟ مگر یہ جانتے ہوئے بھی کہ احتجاج سے کچھ نہیں ہو گا‘ ایسے موقع پر احتجاجاً کچھ کہنا سننا ضروری ہوتا ہے کہ خاموشی ایک غلط روایت اور بد ترین سمجھوتہ ہے، جو بدی کی قوتوں کو طاقت بخشتی ہے۔
ہمارے ہاں جو قانون، اخلاق اور ضابطے ہیں، وہ ہم نے کوئی مقامی طور پر نہیں بنائے ہیں۔ یہ سب کچھ باہر سے آیا ہے۔ اس ”باہر‘‘ میں مغرب و مشرق سب شامل ہیں۔ کئی چیزیں ہم نے قدیم یونانی اور رومن تہذیبوں سے سیکھیں۔ بہت ساری اخلاقیات اسلام اور عربوں سے سیکھیں۔ کئی ضابطے و قاعدے انگریزوں سے مستعار لیے۔ اس طرح ہمارے ہاں آج جو زندگی کا نظام چل رہا ہے‘ یہ دنیا کی مختلف تہذیبوں کا ملغوبہ ہے۔
ان میں اکثر چیزیں اچھی ہیں۔ اگر ہماری زندگی اچھی بسر ہو رہی ہے۔ ہماری زندگی اور جان و مال کو تحفظ ہے۔ اگر کسی حد تک ہماری عزتِ نفس محفوظ ہے تو اس کی وجہ یہ اچھے قاعدے، قوانین اور اخلاقیات ہیں، جو ہم نے دنیا سے سیکھے ہیں۔ بد قسمتی سے اچھی چیزوں کے ساتھ ساتھ بری چیزیں سیکھنے میں ہم زیادہ سرگرم اور آگے رہے۔ ہمارے ارد گرد جو لا قانونیت ہے۔ افراتفری کا ماحول ہے۔ آپا دھاپی اور دھکم پیل ہے۔ خود غرضی اور سینہ زوری ہے۔ دھونس و دھاندلی ہے۔ یہ سب ان بری چیزوں کی وجہ سے ہے، جو ہم نے اپنائی ہیں یا ان بری چیزوں کی وجہ سے، جو ہمارے اندر موجود ہیں اور ہم ان سے چھٹکارہ پانے میں ناکام رہے ہیں۔
انگریزوں سے قانون مستعار لے کر ہم نے غلط نہیں کیا۔ یہ وقت کا سب سے جدید قانون تھا۔ اس کا انگلستان میں کامیاب تجربہ ہو چکا تھا۔ ہم اس کی برکات اگر پوری دنیا میں نہ سہی‘ کامن ویلتھ میں تو دیکھ چکے تھے۔ پھر یہ سارا قانون خود انگریزوں نے ہی تخلیق نہیں کیا تھا۔ اس کا بیشتر حصہ انہوں نے اپنے سے پہلے والی تہذیبوں سے لیا تھا۔ یہ قانون تدوین کرتے وقت انہوں نے دوسروں کے اچھے اور کامیاب تجربات سے استفادہ کیا تھا اور برے تجربات اور غلطیوں سے سبق سیکھا تھا۔
یہ قانون صرف ہم نے ہی انگریزوں سے نہیں لیا تھا۔ ایسا بے شمار ملکوں نے کیا۔ ان میں امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا جیسے ملک شامل ہیں‘ جہاں نہ صرف یہ قانون کامیابی سے چل رہا ہے، بلکہ اس قانون کے طفیل لوگ پر مسرت زندگی گزار رہے ہیں۔ ان ملکوں میں اور ہمارے درمیان بس اتنا فرق ہے کہ وہاں قانون کو ایک مقدس حیثیت حاصل ہے۔ قانون پتھر پر لکیر ہے۔ اس میں اگر مگر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ آپ نے ”سٹاپ سائن‘‘کراس کر دیا تو آپ نے جرم کر لیا۔ اب اس کی کوئی وضاحت کوئی مجبوری آپ کے کام نہیں آ سکتی۔
مگر ہم قانون کو موم کی ناک سمجھتے ہیں۔ ہم اسے توڑتے موڑتے ہیں۔ اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتے ہیں، پھر اس کے جواز پیش کرتے رہتے ہیں یا معافیاں مانگتے رہتے ہیں۔ ہماری پولیس کی طرف سے ہتھکڑی کا بے دریغ اور غلط استعمال اس کی محض ایک مثال ہے۔ کچھ عرصہ پہلے بھی ہتھکڑی سے جڑی درد ناک کہانیاں میڈیا پر آ چکی ہیں‘ جن میں عمرہ رسیدہ پروفیسروں کو ہتھکڑیاں لگائی گئی تھیں۔ ایک شخص کی ہتھکڑی لگی لاش کی تصویر بھی منظر عام پر آئی تھی۔
اس وقت اس معاملے پر جو طوفان اٹھا تھا، اسے دیکھ کر لگتا تھا اس سلسلے میں ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے کچھ نہ کچھ سبق ضرور سیکھیں گے۔ اپنے اہل کاروں کی تعلیم و تربیت کا کچھ بندوبست کریں گے۔ مگر ابھی ایک اور ماہر تعلیم اور لکھاری‘ اور بزرگ شخص کے ساتھ وہی سلوک ہوا۔ لگتا ہے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کاروں کے ذہن میں ہتھکڑی کا جو مقصد ہے‘ وہ قانون کی منشا سے متصادم ہے۔ ہمارے پولیس والے ہتھکڑی لگانے کو گرفتاری سمجھتے ہیں‘ یعنی یہ کہ کسی شخص کی گرفتاری کے لیے اسے ہتھکڑی لگانا ضروری ہے۔
ہمارا بیشتر کریمنل کوڈ انگریزوں نے بنایا تھا۔ ہماری پولیس انگریزی قانون کے تحت کام کرتی ہے مگر ہتھکڑی کے سلسلے میں انگریزی قانون اور روایات کا ہم کوئی لحاظ نہیں کرتے۔ ہتھکڑی پر انگلینڈ کی پولیس نے اپنے آفیسرز کی رہنمائی اور تربیت کے لیے جو تحریری اصول جاری کیے ہیں، ان کے مطابق جان بوجھ کر طاقت کا استعمال قانون میں حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ ہتھکڑی لگانا طاقت کا استعمال ہے۔ یہ قانون کی زبان میں حملہ ہے اور غیر قانونی ہے، سوائے اس کے کہ پولیس کے پاس اس کا معقول جواز موجود ہو۔
ہتھکڑی لگانے والے پولیس آفیسر کو یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اس نے ہتھکڑی کا جو استعمال کیا ہے‘ وہ ضروری اور ناگزیر تھا اور اس کے پاس ایسا کرنے کی معقول وجہ تھی۔ ہتھکڑی کا استعمال کرنے والے پولیس آفیسر کو اپنے سپروائزر یا جج کے سامنے ثابت کرنا ہوتا ہے کہ ایسا کرنا ضروری تھا؛ چنانچہ ہتھکڑی لگاتے وقت جن چیزوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے‘ ان میں گرفتار ہونے والے شخص کی عمر، جنس اور اس گرفتاری کے ساتھ جڑے دوسرے تمام حالات و واقعات ہوتے ہیں۔
جرم کی شدت اور سنگینی دیکھنی ہوتی ہے۔ کیا ملزم کے فرار ہونے کا خطرہ ہے؟ ملزم کی طرف سے پولیس آفیسر یا کسی اور شخص پر جسمانی حملے کا کوئی رسک ہے؟ کیا ملزم تشدد یا طاقت کے استعمال پر اتر سکتا ہے؟ ان معقول وجوہات کی عدم موجودگی میں ہتھکڑی لگانے کی اجازت نہیں ہے۔
مغرب میں اس موضوع پر بے شمار عدالتی نظائر اور روایات موجود ہیں، جن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے مگر اتنا دور جانے کے بجائے اس باب میں ہندوستانی سپریم کورٹ کا ایک مشہور فیصلہ ہے‘ جسے غور سے پڑھنا چاہیے۔ سال انیس سو اسّی میں ”پریم شکلا بنام دہلی ایڈمنسٹریشن‘‘ نامی مقدمے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ ہتھکڑی لگانا ایک غیر انسانی اور نا معقول عمل ہے۔ اس کیس میں عدالت نے ان تمام شرائط کو تفصیل سے بیان کیا جو ہتھکڑی لگانے کے لیے ضروری ہیں۔
کامن لا کی دنیا میں یہ فیصلہ ہتھکڑی کے موضوع پر سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس معرکۃ الآرا فیصلے کے باوجود خود انڈیا میں پولیس آئے دن ہتھکڑی کا استعمال کرتی رہتی ہے۔ بھارتی پولیس کا یہ عمل ہماری طرح خود قانون نافذ کرنے والے اداروں میں قانون کی حکمرانی اور عزت و احترام کی کمی کی مثال ہے۔
ہتھکڑی صرف طاقت کا استعمال یا جسمانی حملہ ہی نہیں‘ یہ جرم کی علامت بھی ہے۔ جس ہاتھ پر لگتی ہے اسے مجرم سمجھا جانے لگتا ہے، خواہ وہ بے گناہ ہو۔ بعد میں پولیس خود یا عدالت اسے معصوم قرار دے دے تو پھر بھی ہتھکڑی کا داغ اس کے ماتھے پر لگ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے مہذب اور انصاف پسند ملکوں نے اس پر بہت سخت پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ فرانس میں کسی ہتھکڑی والے شخص کی تصویر اس وقت تک میڈیا پر دکھانے کی اجازت نہیں ہے، جب تک اسے عدالت کی طرف سے باقاعدہ سزا نہ ہو چکی ہو۔
ہانک کانگ میں پولیس ہتھکڑی والے شخص کا چہرہ چھپانے کے لیے کپڑا پیش کرتی ہے۔ جاپان میں گرفتار شخص کے ہتھکڑی لگے ہاتھ میڈیا پر نہیں دکھائے جاتے۔ کینیڈا میں چند سال پہلے ایک صوبائی عدالت نے بلا جواز ہتھکڑی لگانا غیر قانونی عمل قرار دیا اور ملزم کو پولیس کے خلاف سول کورٹ میں ہرجانے کے دعوے کا مشورہ دیا۔
پاکستان میں قانون کی حکمرانی کی مخدوش صورت حال کے پیش نظر شاید پولیس سے اتنی بلند توقعات نہ رکھی جا سکیں، مگر کم از کم توقع تو پوری ہو۔ ہتھکڑی لگانے والا پولیس آفیسر عام ملزموں کی صورت میں فرار ہونے یا حملہ کرنے کا خدشہ ظاہر کر کے اپنے عمل کا شاید کوئی جواز مہیا کر سکے مگر عمر رسیدہ دانشوروں اور پروفیسروں کو ہتھکڑی لگانے کے بار بار جو افسوسناک واقعات پیش آرہے ہیں، ان کے لیے کیا جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •