جمہوریت: خاتمہ بالخیر!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں جمہوریت کا کوئی مستقبل نہیں۔ یہ نوشتۂ دیوار ہے۔

یکم اگست کو سینیٹ میں جو کچھ ہوا، اس کے بعد مجھے اس باب میں شرحِ صدر ہو گیا ہے۔ امید کے چراغ روشن رہنے چاہئیں۔ اِن کی لو میں سیاسی جدوجہد بھی جاری رہنی چاہیے۔ اس بیانیے کی بھرپور تائید کے ساتھ میرا تجزیہ یہی ہے کہ آدمی کو حقیقت پسند بھی ہونا چاہیے۔ جان لینا چاہیے کہ گلستانِ وطن میں شاخِ جمہوریت کے ہرا ہونے کا موسم ابھی نہیں آیا۔ کب آئے میں نہیں جانتا، کم از کم مستقبل قریب میں تو کوئی امکان نہیں۔ صرصر نے جس طرح سیاست کے نخلستان میں آ بسیرا کیا ہے، اس کے بعد، یہاں صرف سوکھے پتے مل سکتے ہیں۔

جمہوریت کا مستقبل دو مقدمات (Prerequisites) پر منحصر ہے۔ ان دونوں کے بغیر وہی کچھ ہو گا جو 25 جولائی 2018 ء کو ہوا اور جسے یکم اگست 2019 ء کو دھرایا گیا۔ یہ ڈھلوان کا سفر ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ تمنا کا اگلا قدم کہاں ہے؟ ہم ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔ دنیا نے جن تصورات کو رد کر دیا، ہم ان سے فیض رسانی کی امید رکھتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ قدرت ہمارے لیے عروج و زوال کے قوانین کو بدل ڈالے گی۔

وہ دو مقدمات کون سے ہیں جن کے بغیر جمہوریت مستحکم نہیں ہو سکتی: ایک عوامی شعور کی بیداری اور دوسرا سیاسی جماعتوں کا استحکام۔ بصورتِ دیگر اقتدار کا کھیل غیر جمہوری قوتوں کی گرفت میں رہے گا۔ بد قسمتی سے یہ دونوں کام ابھی تک نہیں ہو سکے۔ عوامی شعور کی تعمیر تعلیم سے ہوتی ہے، رسمی ہو یا غیر رسمی۔ رسمی تعلیم، تعلیمی اداروں سے ملتی ہے اور غیر رسمی سماجی اداروں سے جیسے گھر، جیسے مسجد۔ یہ دونوں ادارے بظاہر شعوری و اخلاقی بیداری کے کسی عمل میں شریک نہیں۔

عوامی شعور بیدار ہو تو یہ ممکن نہیں کہ کوئی رکن پارلیمان اپنی وفاداریاں بدل ڈالے۔ اگر اسے معلوم ہو کہ کل حقیقت سامنے آنے کے بعد، وہ معاشرے میں چہرہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا تو وہ کبھی جنسِ بازار نہ بنے۔ یہ کاروبار کرنے والے بھی گھبرائیں کہ اس کے بعد ان کی معاشرتی ساکھ برباد ہو جائے گی۔ آج دکان دار کو کوئی اندیشہ ہے نہ خریدار کو۔ اخلاقی اعتبار سے سماج کو بے حس بنا دیا گیا ہے۔ وہ اس خرید و فروخت کو کوئی قابلِ نفرت معاملہ نہیں سمجھتا۔

سیاسی جماعتیں اگر مضبوط ہوں تو بھی یہ ممکن نہیں کوئی اپنی وفا داریاں تبدیل کرے۔ آج لوگوں کو معلوم ہے کہ سیاسی جماعت میں شمولیت یا اس سے اخراج کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ آج اگر ایک جماعت آپ کے دشنام کا ہدف ہے تو کل آپ اسی جماعت کے وکیل بن سکتے ہیں۔ نہ آنے والے کو کوئی شرمندگی ’نہ قبول کرنے والے کو کوئی تکلف۔

یہ سب کچھ ہمارا اپنا کیا دھرا ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں اقدار سرے سے زیرِ بحث نہیں۔ اخلاقی تعمیر اس کے اہداف میں شامل نہیں۔ سیاسی و سماجی اقدار کی تعلیم نہ دینوی تعلیم کا ہدف ہے نہ دنیاوی تعلیم کا۔ میں ادنیٰ سے اعلیٰ درجے تک، اس تعلیمی نظام کا حصہ رہا ہوں جسے جدید کہتے ہیں۔ میں نے قدیم یا دینی تعلیم کے فارغ التحصیل لوگوں کو بھی بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اخلاقی اقدار کے باب میں دونوں کو بے نیاز پایا ہے۔

صرف سیاسی اخلاقیات کو دیکھیے تو جمہوریت کی برکات کسی نصاب کا حصہ نہیں۔ کسی سکول یا مدرسے میں یہ نہیں پڑھایا جاتا کہ آئین اجتماعی عہد کا ایک نمونہ ہے اور عہد شکنی ایک اخلاقی و شرعی جرم ہے۔ جو آئین شکن ہے، وہ دراصل عہد شکن ہے۔ ایسا شخص معاشرے کا مجرم ہے اور خدا کی عدالت میں بھی جواب دہ ہے۔ کہیں یہ شعور نہیں پیدا کیا جاتا کہ اگر کوئی آدھ گھنٹے میں سیاسی وفاداریاں بدلتا ہے یا خرید و فروخت کے اس کاروبار میں ملوث ہے تو وہ عوامی نمائندگی کے منصب کے لیے اہل نہیں رہا۔

آج وفاداریاں بدلنے والا جانتا ہے کہ اگر اس کا جرم ظاہر ہو گیا تو اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کل وہ دوسری جماعت کی ٹکٹ سے دوبارہ پارلیمنٹ کا رکن بن جائے گا۔ معاشرہ اس معاملے میں حساس نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم لوگوں کی اخلاقی حس بیدار کرنے کا کوئی اہتمام نہیں کرتا۔ سیاسی جماعت تبدیل کی جا سکتی ہے لیکن اگر کوئی آدھ گھنٹے میں اپنی صف بدلتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے اپنی رائے بدلی نہیں، اُسے بیچا ہے۔

سیاسی جماعتوں کے داخلی نظم میں کبھی جمہوری اقدار کی پاسداری نہیں کی گئی۔ تنظیمی عہدوں کے لیے کبھی وقت پر اور جمہوری روایات کے مطابق انتخابات نہیں ہوئے۔ نون لیگ کے انتخابات کو خود پارٹی کے لوگوں نے الیکشن کمیشن میں چیلنج کر رکھا ہے۔ پارٹی کے اندر ووٹ کی عزت کا کوئی تصور موجود نہیں۔ یہی معاملہ پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتوں کا ہے۔ تحریک انصاف کرپشن کے جرم میں ایک شخص کو کابینہ سے الگ کرتی ہے اور چند ماہ بعد پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنا دیتی ہے۔ پھر یہی جماعتیں ہیں جو بالخصوص سینیٹ کے لیے ان لوگوں کا انتخاب کرتی ہیں جن کی وجۂ شہرت محض پیسہ ہے۔

سیاسی نظام کے استحکام کے لیے سیاسی جماعتوں کا مضبوط اور مستحکم ہونا ضروری ہے۔ یہ سیاسی جماعتیں ہی ہیں جو وفاق کو متحد رکھ سکتی ہیں۔ عوام کو ریاستی جبر سے اکٹھا نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان کے شرق و غرب میں پھیلے مسلمانوں کو اگر کسی نے مطالبۂ پاکستان پر جمع کیا تو وہ ایک سیاسی جماعت تھی۔ طاقت سے اگر کسی ریاست کو قائم یا باقی رکھا جا سکتا تو پاکستان کبھی قائم نہ ہوتا۔

سیاسی جماعتیں اگر جمہوریت سے وابستگی کا عملی مظاہرہ نہیں کریں گی تو وہ ملک کو بھی ایک مضبوط اور مستحکم سیاسی نظام نہ دے سکیں گی۔ یہ ایک نا قابلِ تردید تاریخی واقعہ ہے کہ یہاں اگر سیاسی جماعتیں مضبوط ہوتیں اور جمہوری اقدار سے اپنی وابستگی کا ثبوت دیتیں تو پاکستان میں کبھی مارشل نہ لگتا۔ اگر کانگریس تنہا بھارت میں آمریت کا راستہ روک سکتی ہے تو پاکستان کی سیاسی جماعتیں یہ کیوں نہ کر سکیں؟ کیا یہ امر واقعہ نہیں کہ ہر آمر کو کسی نہ کسی سیاسی جماعت ہی نے اپنا کندھا پیش کیا؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہر وزیر اعظم نے اس منصب تک پہنچنے کے لیے غیر سیاسی کندھا استعمال کیا؟ المیہ یہ ہے کہ آج تک نہ کندھے تھکے ہیں نہ سوار۔

یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ عمران خان صاحب نے اُس سیاست کو پھر سے زندہ کر دیا ہے جو 1990 ء کے عشرے کی پہچان تھی۔ خان صاحب کہانی نگار ہیں نہ ڈرامہ نگار۔ وہ اس کا مرکزی کردار ہیں۔ کہانی کا مطالبہ یہ ہے کہ یہ کردار ایک عوامی چہرہ ہو گا۔ ماضی میں تو یہ ہوا کہ ہیرو آخری منظر میں ولن بن گیا۔ اس وقت جو کہانی چل رہی ہے، اس کا انجام کیا ہو گا، ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔

المیہ یہ ہے کہ جمہوریت کے عنوان سے لکھی گئی اس کہانی میں سب کچھ ہے مگر جمہوریت نہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہم مسلمانوں کی زندگی میں سب کچھ ہے مگر اسلام نہیں۔ پیر نصیرالدین مرحوم کو ایک تقریب میں مرید نے حلوہ پیش کیا۔ بتایا کہ وہ ذیابیطس کی وجہ سے حلوہ نہیں کھا سکتے۔ مرید نے عرض کیا ”حضرت! یہ ’حلوہ‘ ہے مگر میٹھا نہیں۔ “ پیر صاحب نے فرمایا: ”یہ ایسے ہی ہے کہ تم انسان ہو مگر تم میں انسانیت نہیں۔ “

پاکستان میں آج جمہوریت ہے مگر اس میں جمہور کہیں نہیں۔ یکم اگست کو سینیٹ میں جو کچھ ہوا، اس کے بعد مجھے تو شرحِ صدر ہو گیا ہے کہ فی الحال پاکستان میں جمہوریت کا کوئی امکان نہیں۔ اب دنیا نے بھی اس بات کو تسلیم کر لیا ہے۔ سوچتا ہوں آئندہ جمہوریت پر لکھ کر اپنا وقت برباد کرنا چاہیے نہ پڑھنے والوں کا۔ ابھی سارا زورِ قلم جمہوریت کے مقدمات پر صرف کرنا چاہیے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •