کشمیر سے غیر کشمیریوں کا انخلا کیوں ہو رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طلبہ

BBC
اين آئی ٹی کے طلبہ اپنے سامان کے ساتھ کیمپس چھوڑنے کے لیے تیار نظر آ رہے ہیں

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے۔ وادی سے ہندو یاتریوں، سیاحوں اور غیرکشمیری طلبا کو واپس لوٹنے کے حکم سے عوام اور سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے جس کا اظہار جموں و کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور کشمیر کے میئر کی ٹوئیٹس سے بخوبی ہوتا ہے۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئیٹ کیا: ‘کشمیر کی ‘موجودہ صورت حال’ کے لیے فوج اور ايئر فورس کو الرٹ کرنے کا مطلب کیا ہے؟ یہ 35 اے یا حد بندی کے متعلق نہیں ہے۔ اگر اس طرح کا الرٹ واقعی جاری کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب کوئی بالکل ہی مختلف چیز ہے۔’

دوسری جانب سرینگر کے ميئر جنید عظیم مٹو نے رات آٹھ بجے کے بعد ٹویٹ کیا: ‘میری سرکاری گاڑی کو میرے سرکاری گھر سے تین بار پولیس نے واپس کر دیا۔ کار کو میری تین سال کی بیٹی کی دوا کے لیے بھیجا گیا تھا! کیا ہم سب لوگ محصور ہیں؟ کیا میئر بھی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے؟ کیا ہم باضابطہ طور پر پولیس ریاست میں تبدیل ہو چکے ہیں؟’

انڈیا کی معروف صحافی برکھا دت نے بھی صورت حال کو بحرانی قرار دیا ہے۔ انھوں نے ٹویٹ کیا: ‘افسوس، فیصلہ جو بھی ہو سرکولرز کا سیلاب، معطل پروازیں، بڑے پیمانے پر انخلا یہ تمام چیزیں بحران کا پتہ دیتی ہیں نہ کہ تیاری کا۔ جموں و کشمیر میں جو بھی ہونے والا ہے اس کے لیے بہتر مواصلاتی نظام ہے۔’

گذشتہ ہفتے سے سوشل میڈیا پر یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ انڈیا کے آئین کے تحت کشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن کو ختم کیا جائے گا اور امکانی عوامی ردعمل کو روکنے کے لیے فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔

تاہم بعد میں گورنرنے کہا کہ آئین کی دفعہ 35 اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی۔ جمعے کی دوپہر کو یہ افواہیں بھی اُڑیں کہ انڈین حکومت نے ہندو اکثریت والے جموں خطے کو علیحدہ ریاست جبکہ کشمیر اور لداخ کو مرکز کے زیرانتظام خطے قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلے کے ردعمل کو روکنے کے لیے سنیچر سے کرفیو نافذ ہوگا۔ ڈائریکٹر جنرل کشمیر پولیس دلباغ سنگھ نے ان خبروں کی بھی تردید کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا کے آئین کی دفعہ 3 کے مطابق انڈین حکومت کسی بھی ریاست کی جغرافیائی حدود یا نام مقامی قانون ساز اسمبلی کی رضامندی کے بغیر تبدیل نہیں کرسکتی۔ لیکن کشمیر واحد ریاست ہے جہاں صدارتی راج کے دوران انڈین صدر کو ریاست میں قانون سازی کے اختیارات ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فوجی مشقیں، حکم نامے، افواہیں: وادی میں خوف

دس ہزار اضافی فوج، کشمیر افواہوں کی گرفت میں

گذشتہ کئی ہفتوں سے کشمیر میں عام لوگ کسی بڑی واردات کے امکان کی افواہوں سے خوف و ہراس کی گرفت میں ہیں۔ حکومت تو کہتی ہے کہ سب ٹھیک ٹھاک ہے، لیکن حکومتی سطح پر بعض اعلانات اور جنگی پیمانے کی فوجی نقل و حمل سے افواہوں کو مزید تقویت مل رہی ہے۔

سکیورٹی

EPA

فوج اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے خفیہ اطلاعات کی موصولی کا دعوی کرتے ہوئے کل انکشاف کیا تھا کہ امرناتھ یاترا میں خلل ڈالنے کے لیے عسکریت پسند بڑے حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس کے فوراً بعد حکومت نے سیاحوں اور یاتریوں کو فوراً گھر لوٹنے کا حکم دیا حالانکہ یاترا کے اختتام میں ابھی بارہ دن باقی ہیں۔

جمعے کے روز کشمیر میں تعینات انڈین آرمی کی پندرہویں کور کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل جے ایس ڈھلون، کشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ اور سی آر پی ایف کے اے ڈی جی ذولفقار حسن نے مشترکہ پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ امرناتھ یاترا کے دونوں راستوں پر بھاری مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے جس میں امریکی ساخت کی سنائپر رائفل اور پاکستانی ساخت کی بارودی سرنگیں بھی شامل ہے۔

حالانکہ ڈی جی پولیس دلباغ سنگھ نے بتایا کہ اضافی فورسز کی تعیناتی ایک معمول کا عمل ہے جسے میڈیا میں مبالغہ آمیز اعداد و شمار کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے تاہم اصرار کے باوجود انھوں نے نہیں بتایا کہ کتنی اضافی فورسز کو تعینات کیا جارہا ہے۔

دریں اثنا پولیس اور نیم عسکری اہلکاروں کو کرفیو جیسی صورتحال کے لیے تیار رہنے کے لیے کہا جا رہا ہے، تاہم سرکاری طور پر کسی بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی جارہی۔

اس دوران جموں کے ایئرفورس سٹیشن کو بھی الرٹ کیا گیا ہے اور ایئرپورٹ کے گردونواح میں اضافی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ حکومت نے کل رات ہی جموں میں کم از کم 10 سینیئر پولیس افسران کا تبادلہ بھی کیا ہے۔

https://twitter.com/OmarAbdullah/status/1157298830234152961

سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ 28 ہزار اضافی فورسز کو تعینات کیا جارہا ہے اور خاص طور پر وادی میں پولیس کا کردار محدود کیا گیا ہے۔

کشمر سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ گورنر ستیہ پال ملک نے جمعے کو دیر رات سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی اور دوسرے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے دوران پھر ایک بار یقین دلایا کہ کشمیر میں فوج اور فورسز کی نقل و حمل ممکنہ مسلح حملے کی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ہورہی ہے اور غیر کشمیریوں کو ’احتیاط کے طور پر’ لوٹنے کے لیے کہا گیا ہے۔

محبوبہ مفتی کو کل رات ان کی رہائش گاہ پر پولیس نے تھوڑی دیر کے لیے نظربند کیا تھا، تاہم بعد میں وہ عوامی تحریک کے شاہ فیصل، پیپلز کانفرنس کے عمران انصار اور اپنی پارٹی کے بعض رہنماؤں کے ہمراہ راج بھون پہنچیں جہاں انھوں نے گورنر سے افراتفری اور خوف کی بابت وضاحت چاہی۔

اس دوران کشمیر کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں زیر تعلیم ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے طلبا کو بھی کل رات ہی واپس گھر لوٹنے کے لیے کہا گیا۔

گو کہ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کالج حکام سے صرف ’ہوشیار رہنے’ کو کہا گیا تھا، تاہم این آئی ٹی نے گرمیوں کی چھٹی کا اعلان کرکے غیرکشمیری طلبا کو لوٹنے کا حکم دیا۔ ہفتے کو علی الصبح طلبا کو بسوں میں جموں کی طرف کوچ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

بسیں

BBC
کشمیر سے باہر لے جانے کے لیے بسیں تیار کھڑی نظر آئی ہیں

قابل ذکر ہے کشمیر میں گذشتہ ایک سال سے نئی دلی کا براہ راست انتظام گورنر ستیہ پال ملک کے ذریعہ چل رہا ہے۔ اسمبلی کے لیے انتخابات کو بار بار ملتوی کیا جارہا ہے حالانکہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک سال کے اندر ہی مسلح عسکریت پر قابو پالیا گیا اور حالات بھی بہتر ہوئے۔

گزشتہ کئی برس بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایک ماہ کے دوران ساڑھے تین لاکھ یاتریوں نے ہمالیائی سلسلے پر واقع امرناتھ گھپا میں شولنگ کے درشن کیے۔ سیاحوں کی آمد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ لیکن ان سبھی مثبت تبدیلیوں کے بیچ جو غیر یقینی کا ماحول قائم ہوا ہے اُس سے عام لوگ خوفزدہ ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9642 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp