سوڈان: فوج اور سویلین حزبِ اختلاف کے درمیان عبوری حکومت کے قیام پر اتفاق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوڈان

AFP
نئے آئینی معاہدے پر اتفاق کے بعد سوڈان میں جشن کا سا سماں ہے

سوڈان میں برسرِ اقتدار فوجی کونسل اور حزبِ اختلاف ایک نئے آئینی معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں جس کی بدولت ملک میں عبوری حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہو گی۔

اس بات کا اعلان اس حوالے سے ثالث کا کردار ادا کرنے والے افریقی یونین کے محمد حسن لیباٹ نے کیا۔ انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

اپریل میں فوج کی جانب سے صدر عمر البشیر کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے سوڈان افراتفری کا شکار ہے۔ اسی ہنگامہ آرائی اور پرتشدد ماحول میں نئے آئینی معاہدے پر کافی طویل بحث جاری رہی۔

یہ بھی پڑھیے

سوڈان: تختہ الٹنے والے فوجی سربراہ مستعفی

کیا سوڈان بیرونی عناصر کا ایک اکھاڑا بن رہا ہے؟

ریاض سے لے کر ماسکو تک، سب کی نظریں خرطوم پر

سوڈان: فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے، ہلاکتوں کی خبر

تاہم اس اعلان کے بعد سوڈان میں جشن منایا جا رہا ہے۔ گذشتہ کئی ماہ سے سوڈان بحران کی زد میں تھا۔

جولائی میں فوج اور حزبِ اختلاف نے حکومت میں شراکت سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے تاہم مظاہرین اس معاہدے کی مزید تفصیلات کے انتظار میں تھے۔

سوڈان میں مظاہروں کی ابتدا گذشتہ برس دسمبر میں ہوئی جب صدر البشیر کی حکومت نے کفایت شعاری کے لیے ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا۔ رواں برس اپریل میں خرطوم میں واقع وزارتِ دفاع کے سامنے ہونے والے مظاہروں کے بعد فوج نے صدر البشیر کی حکومت گرا دی تھی۔

اس وقت سے مظاہرین حکومت کی باگ دوڑ سویلین حکام کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

نیا آئینی معاہدہ کیا ہے؟

یہ دستاویز گذشتہ ماہ فوج اور حزبِ اختلاف کے درمیان دستخط ہونے والے تین سال کی عبوری حکومت کے معاہدے کا خلاصہ ہے۔

اس ڈیل کے مطابق ملک میں حکومت چلانے کے لیے گورننگ باڈی تشکیل دی جائے گی جس میں چھ سویلین اور پانچ فوجی جرنیل شامل ہوں گے۔

ثالث محمد حسن لیباٹ نے ہفتے کے روز ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ وہ سوڈان کے عوام، افریقہ اور بین الاقوامی نمائندوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ فریقین میں اتفاق ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مزید ملاقاتوں میں معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کے بارے میں تیکنیکی تفصیلات طے کی جائیں گی۔ انھوں نے اس معاہدے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

سوڈان

EPA
معاہدے کے تحت سوڈان میں ایک خود مختار کونسل، کابینہ اور قانون ساز ادارہ بنایا جائے گا

رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق انھوں نے اس معاہدے کا مسودہ دیکھا ہے جس میں درج ہے کہ نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورس کو، جس پر کئی مظاہرین کو ہلاک کرنے کا الزام ہے، مسلح افواج کی جنرل کمانڈ کے ماتحت کر دیا جائے گا جبکہ حساس انٹیلیجنس سروس کے معاملات فوجی کونسل اور کابینہ مل کر دیکھیں گے۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فوجی کونسل نے یہ اعلان کیا کہ انھوں نے ریپڈ سپورٹ فورس کے نو اہلکاروں کو نہ صرف نوکری سے برخاست کیا ہے بلکہ مظاہرین بشمول چار بچوں کو ہلاک کرنے کے الزام میں انھیں زیرِ حراست بھی لیا گیا ہے۔

مظاہرین کی ہلاکتوں کے بعد وسیع پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور اس کی وجہ سے بات چیت بھی تاخیر کا شکار ہوئی تھی۔

عبوری پیریڈ میں کیا ہو گا؟

شکوک کو دور کرنے اور تعلقات کو بحال کرنے کے لیے سوڈان میں فوج اور مظاہرین اس سے قبل کافی معاہدوں پر متفق ہوئے مگر بعد ازاں دونوں جانب سے نئی تفصیلات سامنے آنے پر دوبارہ بات چیت ہوئی۔

اب تک فریقین ان باتوں پر متفق ہوئے ہیں:

  • پاور شیئرنگ (حکومت میں حصہ داری) 39 ماہ کے لیے ہو گی
  • ایک خود مختار کونسل، کابینہ اور قانون ساز ادارہ بنایا جائے گا
  • پہلے 21 ماہ کونسل کا سربراہ فوجی جنرل ہو گا جبکہ باقی 18 ماہ ایک سویلین اس کی سربراہی کرے گا
  • کابینہ کی سربراہی ایک وزیر اعظم کرے گا جس کی نامزدگی جمہوریت پسند تحریک کرے گی
  • دفاع اور وزارت داخلہ کے وزرا کا تعین فوج کرے گی

ایک طویل عبوری سیٹ اپ کو جمہوریت پسند تحریک کی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیوں کے فوجی جرنیلوں نے تین جون کے کریک ڈاؤن کے بعد فوری الیکشن کی دھمکی دی تھی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ صدر البشیر کی حکومت معاشرے میں اس حد تک سرائیت کر چکی ہے کہ ان کے سیاسی نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے ٹائم درکار ہے اور طویل عبوری سیٹ اپ آّزاد اور صاف شفاف انتخابات کی راہ ہموار کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10828 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp