برطانوی جرائد کو شہزادی میگن مارگل کیوں ناپسند ہیں؟

آندرے کوزینکو - بی بی سی ورلڈ سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میگن مارکل

Reuters

چھ جولائی کو برطانیہ کے شہزادہ ہیری اور میگن مارکل کے بیٹے آرچی ہیریسن کو ونڈسر کاسل چرچ میں بپتسمہ دیا گیا۔

بپتسمہ عیسائیت کی ایک رسم ہے جس میں پیدا ہونے والے بچے کو مقدس پانی میں غوطہ دے کر باقاعدہ طور پر مذہب میں داخل کیا جاتا ہے۔

برطانوی شاہی خاندان میں رائج روایات کے برعکس اس کی زیادہ تشہیر نہیں کی گئی اور رسم کو بند دروازوں کے پیچھے ادا کیا گیا اور اسی وجہ سے میگن مارکل کو اب تنقید کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شہزادہ ہیری اور میگن کے ہاں بیٹے کی ولادت

برطانوی شہزادہ ہیری اور امریکی اداکارہ میگن کی شادی

شاہی شادی تصاویر میں

شہزادہ ہیری کی منگیتر میگن مارکل کون ہیں؟

رواں ہفتے ٹیبلائیڈز اخبارات میگن کی ووگ میگزین میں بطور مہمان مدیر بننے پر خوش نہیں ہیں۔

ایکسپریس نامی اخبار نے لکھا کہ یہ دعوے سامنے آئے ہیں کہ ملکہ برطانیہ اس کو ایک ’احمقانہ فیصلہ‘ سمجھ رہی ہیں۔

دی سن نامی اخبار نے میگن پر اس لیے تنقید کی کہ انھوں نے ملکہ برطانیہ کو ’ٹریل بلیزرز‘ کی فہرست میں شامل نہیں کیا اور ڈیلی میل نے تو میگن کو سیاست سے دور رہنے کی تنبیہ بھی کر دی۔

سنہ 2019 کے موسم بہار اور موسمِ گرما میں برطانوی ٹیبلائیڈز نے ڈچز آف سسیکس میگن مارکل کو ایک خاتون ولن سے تشبیہ دے کر اخبارات میں ان کی تصاویر شائع کیں۔

دو برس قبل برطانوی پریس کو ان سے کافی ہمدردی تھی مگر اب میگن کو آئے روز اخبارات کی جانب سے حملوں کا سامنا ہے اور انھیں اس بات پر موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ انھیں شاہی خاندان کا رکن ہونے کے باعث جن ذمہ داریوں کو ادا کرنا تھا، وہ انھیں سرانجام دینے سے قاصر ہیں۔

پرفیکٹ ڈچز

سنہ 2017 کے موسم بہار میں میگن مارکل برطانوی پریس کی محبوبہ تھیں۔ میگن اور شہزادہ ہیری کے پہلی بار اکھٹے سامنے آنے کے بعد ٹیبلائڈ اخبارات جیسا کہ دی سن نے ان کی تعریف میں گن گائے تھے۔

اپنے بڑے بھائی شہزادہ ولیم کے برعکس شہزادہ ہیری ماضی میں منشیات کے استعمال اور وائلڈ پارٹیز میں شمولیت کی باعث اکثر و بیشتر اخبارات میں آرٹیکلز کی زینت بنتے رہے ہیں تاہم شہزادہ ہیری کے حوالے سے برطانوی پریس نے بھول جانے اور معاف کرنے کی روش جاری رکھی۔

پریس کو میگن بہت پسند تھیں۔ گذشتہ برسوں میں معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں کی وہ واحد مظہر تھیں۔ دنیا بظاہر ان کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار تھی۔

شہزادہ ہیری اور میگن مارکل

Press Association

گذشتہ برس ٹیبلائڈز نے ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر لکھا مگر ایسا کرتے ہوئے ان کی تحریوں میں ہمدردی کا عنصر غالب رہا۔

سب سے پہلے میگن کے والد نے ان کی شادی میں آنے سے انکار کیا اور سرکاری طور پر اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ بیمار ہیں۔

اس کے بعد ملکۂ برطانیہ نے انھیں وہ تاج پہنے سے منع کر دیا جو میگن پہننا چاہتی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ تاج روس میں بنا تھا۔

یہ بات سمجھ میں آنے والی بھی تھی کیونکہ شاہی خاندان نہیں چاہتا تھا کہ سنہ 2018 میں برطانیہ میں زہر دے کر ہلاک کیے جانے والے روس کے فوجی افسر یولیا سکریپل اور ان کی بیٹی سرگئی کی ہلاکت کا میگن اور ہیری کی شادی پر کسی طرح کا منفی اثر ہو۔

اگرچہ میگن اور ہیری کے یہاں پہلے بچے کی پیدائش ہو چکی ہے مگر برطانوی ٹیبلائڈ پریس میں میگن سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بننے والی شخصیت بن چکی ہیں۔

اور اب انھیں ہر بات پر ملامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چاہے وہ ان کے گھر کی مہنگی مرمت ہو، ان کی اپنی چال ڈھال ہو یا عوامی مقامات پر ان کا رویہ اور یہاں تک کہ ان کا سوشل میڈیا کو استعمال کرنا بھی تنقید کی زد میں رہتا ہے۔

مثالی ٹارگٹ

جون میں پریس نے اس شاہی جوڑے کو فراگمور کاٹیج کی مرمت پر اٹھنے والے اخراجات کی وجہ سے ہدف تنفید بنایا۔

فراگمور کاٹیج ونڈسر کاسل کے احاطے میں موجود ایک گھر ہے جس کی مرمت پر 2.4 ملین برطانوی پونڈ خرچہ آیا تھا جو کہ عوامی فنڈز کے ذریعے کیا گیا تھا۔

ڈیلی ایکسپریس اخبار نے شاہی خاندان کے قریبی ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا کہ شاہی جوڑے نے اس گھر میں منتقل ہونے کے صرف ایک ہفتے بعد ہی مبینہ طور پر ایک انتہائی ’لگثرری قالین‘ اٹھا کر باہر پھینک دیا۔

اخبارات کے مطابق ایک پالتو کتے نے اسے خراب کر دیا تھا جبکہ اس قالین کی مرمت کرتے ہوئے صفائی کرنے والوں نے اس کو مزید نقصان پہنچایا تھا۔

شاہی خاندان نے اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دی کہ اس قالین کی جگہ آنے والے نئے قالین پر کتنے اخراجات ہوں گے۔

فرگوسن کاٹیج

Getty Images

اس کے بعد جو خبر اخبارات کی زینت بنی وہ ان کی منگنی کی انگوٹھی سے متعلق تھی۔

اس حوالے سے بہت بات ہو چکی ہے کہ یہ اصل انگوٹھی بذات خود شہزادہ ہیری نے ڈیزائن کی تھی۔

اس میں تین پتھر لگے ہوئے تھے، دو ہیرے شہزادی ڈیانا کے تھے جبکہ تیسرا بوٹسوانا سے لیا گیا جہاں اس جوڑے نے اپنی پہلی چھٹی کا دن اکٹھے گزارا تھا۔

شادی کے ایک سال بعد مزید ہیرے جڑ کر میگن نے اس انگوٹھی کا ڈیزائن تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور پریس کے مطابق ’صرف فیشن کی غرض سے میگن نے ہیری کے خلوص کو بے معنی کر دیا۔‘

اس کے بعد استعفے دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔

پہلے میگن کی پرسنل اسسٹنٹ ملیسا توباٹی نے سنہ 2018 کے موسمِ خزاں میں استعفی دیا اور اس کے بعد ملکۂ ایلزبتھ کے سابقہ پرسنل اسسٹنٹ سمانتھا کوہن مستعفی ہو گئیں۔

آخر کار مارچ 2019 میں میگن مارکل کو ابتدا میں دی گئی پرسنل اسسٹنٹ ایمی پیکرل نے بھی استعفی دے دیا۔ اس اسسٹنٹ کی ذمہ داری میگن کو شاہی خاندان کا حصہ بننے میں مدد دینا تھا۔

اور اب میگن کو اس وجہ سے تنقید کا سامنا ہے کہ انھوں نے ایک ماہ کے اندر اندر بچے کی تین آیاؤں کو نوکری سے نکال دیا ہے۔

برطانوی ٹیبلائڈز کے مطابق شاہی ملازمین نے انھیں دو نِک نیمز دیے ہیں ’می گین اور ڈچز ڈیفیکلٹ‘۔ یہ نام دینے کی وجوہات یہ تھیں کہ میگن لگاتار اپنی آواز بلند رکھتی تھیں اور علی الصبح اپنے مطالبوں پر مبنی ای میلز ملازمین کو بھیجتی تھیں۔

مئی 2019 میں ان کے یہاں بچے کی ولادت بھی خاندان کا تاثر بہتر نہیں کر پائی۔

میگن اور ہیری نے یہ بہتر سمجھا کہ نومولود کی پہلی تصویر انسٹاگرام پر پوسٹ کی جائے۔

اخبار مِرر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ’مداح تین روز بعد آرچی کے پاؤں کی لی گئی تصویر نہیں دیکھنا چاہتے۔ جو تصاویر انھوں (میگن اور ہیری) نے پوسٹ کی ہیں وہ بہت دلکش ہیں۔ لوگ صرف ہیری، میگن، نومولود اور گاڈ پیرنٹس کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ روایت ہے۔ جب بات شاہی بچے کی ہو تو تھوڑا روایتی ہونے میں کچھ غلط نہیں ہے۔‘

میگن کے خلاف شکایات کی فہرست طویل تر ہوتی جا رہی ہے۔

میگھن مارکل آٹو گراف دیتے ہوئے

Chris Jackson

جولائی کے آغاز میں آرچی ہیریسن کی بپتسمہ کی تقریب اس فہرست میں ایک نیا اضافہ ہے۔

نہ تو صحافی اور نہ ہی عوام کسی کو بھی اس روایتی عوامی تقریب میں شرکت کی اجازت نہیں تھی۔

تاہم بعد میں شاہی جوڑے نے اس بارے میں معذرت کا اظہار کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ اس تقریب کی تصاویر بعد میں شیئر کریں گے۔ اس بارے میں اخبار دی ٹیلی گراف نے ایک کالم اس عنوان سے لکھا ’میگن کے لیے ایک کھلا خط: آرچی کی بپتسمہ کی تقریب پر اتنی رازداری کیوں؟ یہ برطانوی عوام کے لیے تکلیف دہ ہے۔‘

بکنگھم پیلس نے اس مسئلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار رائل جونی ڈیمنڈ کا کہنا ہے ’شاہی زندگی شہرت اور محلوں کے گرد گھومتی ہے اور سٹارز کی زندگی اور شاہی زندگی میں سب سے بڑا فرق ذمہ داری کا ہے۔ آپ ایک جہاز پر سوار ہو کر ہفتہ وار تعطیل گزارنے نہیں جا سکتے۔ شاہی زندگی کے اصول ہیں۔‘

شاہی افراد کو عوامی جھگڑوں میں نہیں پڑنا چاہیے مگر میگن اور شہزادہ ہیری کو ایک دفعہ ’سخت گفتگو‘ کرتے بھی دیکھا گیا۔ انھیں آٹو گراف بھی نہیں دینے چاہیں مگر میگھن یہ کام بہت خوشی خوشی کرتی ہیں۔

میگن تمام اصولوں کو از سر نو ترتیب دینا چاہتی ہیں اور کچھ لوگوں کو اس سے نفرت ہے۔

ڈیمنڈ کہتے ہیں ’برطانوی شاہی خاندان کے حوالے سے سمجھنے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ راہنمائی کے متعلق نہیں ہے بلکہ ایسا مکمل تاثر دینے کی ہے جسے دیکھ کر ہر شہری خوش ہو۔‘

’جو صورتحال اب ہے اگرچہ اس کو ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا مگر یہ خاندان اب عالمی سلیبرٹی انڈسٹری کا حصہ بن چکا ہے۔ یہاں ایک ملکہ ہیں جو کہ استحکام، خدمت اور قربانی کی ماڈل ہیں اور اس کے بعد دوسرے افراد ہیں، وہ بھی شاہی خدمات سرانجام دیتے ہیں اگرچہ تھوڑا بہت ہی سہی۔ اخباروں کے صفحۂ اول پر شائع ان کی چہروں کی تصاویر اخباروں کی فروخت کا ایک ذریعہ ہیں اور میگن مارکل اس کا سب سے اہم حصہ ہیں۔‘

کیٹ اور میگن

WPA Pool/Getty Images

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ٹیبلائڈز میگن کا عوامی تشخص قائم کرنے کے تھوڑے بہت ذمہ دار ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’یہ کہانی ان کے یہاں آنے سے شروع ہوئی۔ ان کی ضرورت ہے کہ یہ بیانیہ جاری و ساری رہے۔‘

اسی اثنا میں ڈچز آف سسیکس کے حوالے سے لگاتار آنے والی منفی خبروں سے صرفِ نظر کرنا ممکن نہیں ہے۔ ’ہم نے دیکھا کہ مارکل کتنی ڈیمانڈنگ ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ وہ اپنی پسند کی چیزوں پر پیسے خرچ کر کے خوشی محسوس کرتی ہیں۔ اس کی بنیاد یہ تھی کہ وہ مختلف بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کا موجودہ تشخص ایسے ہی بنا ہے۔‘

دوسری طرف شہزادہ ہیری تخت کے لیے چھٹے نمبر پر ہیں اور یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ وہ بادشاہ بن جائیں۔ میگن اس سے گریز نہیں کر سکتی کہ ان کا تقابل ان کا جیٹھانی کیٹ سے نہ ہو۔

مثالی ولن

ٹیبلائڈز عموماً اختلاف کو ہوا دینے کے لیے خاندان کے ایک رکن کا موازنہ دوسرے رکن سے کرنے کی تکنیک استعمال کرتے ہیں۔

سنہ 1960 کے عشرے سے سنہ 1980 کی دہائی تک ملکہ ایلزبتھ دوئم کو ایسے مشہور کیا گیا جیسے وہ اپنا کام کسی غلطی کے بغیر سرانجام دے رہی ہیں۔ دوسری جانب ان کی بہن شہزادی مارگریٹ کا ایک پریمی تھا، وہ سگریٹ پیتی اور عموماً شراب نوشی کرتی پائی جاتیں، وہ پارٹیز میں جاتیں اور ان کی باتھنگ سوٹ میں تصاویر بھی سامنے آئیں۔

شہزادی مارگریٹ

Hulton Archive/Getty Images

سنہ 1980 کی دہائی میں پریس کو شہزادی ڈیانا کی شرافت بہت پسند تھی مگر جب ان کی دوست سارہ فرگوسن ڈچز آف یارک بنی تو ایسا نہ رہا۔

ان کی کردار کشی کی گئی اس بات سے قطع نظر کے ابتدا میں ٹیبلائڈز نے انھیں ’عوام کی شہزادی‘ کا نام دیا۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ ان کے طور اطوار ٹھیک نہیں ہیں، وہ دوسرے مردوں کے ساتھ عوام میں آ جاتی ہیں اور بچے کی پیدائش کے بعد وزن بڑھنے پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

بعد ازاں فرگوسن نے اقرار کیا کہ جب اخبارات نے انھیں ’ڈچز آف پورک‘ کا لقب دیا تو اس کے بعد وہ ذہنی مسائل سے نبرد آزما رہیں۔

شہزادی ڈیانہ اور سارہ فرگوسن

Anwar Hussein

اور اب میڈیا شہزادہ ہیری اور میگن مارکل کو شہزادہ ولیم اور کیٹ میڈلٹن کے مد مقابل لا کھڑا کیا ہے۔

کیٹ کو ہر طرح کے نقص سے پاک بنا کر پیش کیا جاتا ہے مگر جب میگن کا تذکرہ آتا ہے تو شہزادہ فلپ کی وہ کہاوت کہ ’فنکاراؤں کے ساتھ ضرور باہر جائیں مگر ان سے شادی مت کریں‘ سامنے آ جاتی ہے۔

دونوں خاندانوں کے درمیان آخری تقسیم ایک چیرٹی کے معاملے پر دیکھنے کو ملی۔

جون میں ہیری اور میگن نے اعلان کیا کہ وہ رائل فاؤنڈیشن، جس کی بنیاد شہزادہ ولیم نے رکھی تھی، کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔ وہ اپنی خود کا خیراتی اداہ بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔

چنانچہ یہ صرف میگن تک محدود نہیں رہا بلکہ دو شاہی خاندانوں نے درمیان تنازع کی شکل اختیار کر گیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار جونی ڈیمنڈ تنبیہ کرتے ہیں کہ ’آپ ایسا مت سوچیے کہ اس کہانی میں ہر چیز مارکل کے خلاف ہے۔ دہائیوں سے شاہی خاندان کے افراد یہ اظہار کرتے آئے ہیں کہ دباؤ میں کیسے رہا جائے اور اس نوعیت کے حملوں سے کیسے نمٹا جائے۔‘

DO NOT DELETE – DIGIHUB TRACKER FOR [48966125]

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10784 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp