خلیجِ فارس: ایران نے ایک اور ٹینکر قبضے میں لے لیا، سرکاری میڈیا کا دعویٰ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹینکر

AFP

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدرانِ انقلاب کے اہلکاروں نے ایک اور غیر ملکی ٹینکر قبضے میں لے لیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایرانی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاسدرانِ انقلاب کی بحری افواج نے ‘خلیجِ فارس میں ایک ایسے غیر ملکی ٹینکر کو قبضے میں لے لیا ہے جو کچھ عرب ممالک کے لیے تیل سمگل کر رہا تھا۔‘

ان کے مطابق یہ ٹینکر سات لاکھ لیٹر تیل سمگل کر رہا تھا اور اسے قبضے میں لینے کے دوران عملے کے سات افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آبنائے ہرمز: ایران نے برطانوی آئل ٹینکر قبضے میں لے لیا

’اگر آپ ہمارا کہنا مانیں گے تو محفوظ رہیں گے‘

امریکہ کا ایرانی ڈرون گرانے کا دعویٰ، ایران کی تردید

علاقائی کشیدگی

خلیج فارس میں تیل کے ٹینکر سے متعلق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان علاقائی کشیدگی پائی جاتی ہے۔

حالیہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو رکوانے کے لیے بین الاقوامی معاہدے سے یکطرفہ طور پر علحیدہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اس معاہدے پر سنہ 2015 میں اقوامِ متحدہ سمیت امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے دستخط کیے تھے۔

معاہدے میں طے پایا تھا کہ ایران اپنے جوہری منصوبے کو کم تر درجے تک لے جائے گا اور صرف تین فیصد یورینیم افزودہ کر سکے گا۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے اور پابندیوں کی بحالی کے اعلان کے جواب میں ایران نے یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کیا تھا۔ یہ یورینیم جوہری بجلی گھروں میں ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن اسے جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جون میں امریکہ نے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں کو پہچنے والے نقصان کا الزام ایران پر عائد کیا تھا جبکہ ایران نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

جولائی میں ایران نے فضائی حدود کی حلاف ورزی پر امریکہ کا بغیر پائلٹ ایک ڈرون بھی مار گرایا تھا۔ جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی تھی کہ’ ایران نے بہت بڑی غلطی کی ہے’۔

اس کے ساتھ ہی ایران اور برطانیہ کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

جولائی میں ایران نے آبنائے ہرمز میں برطانیہ کا سٹینا امپیرو نامی آئل ٹینکر قبضے میں لے لیا تھا۔ اس پر برطانیہ کے وزیرِ خارجہ جیرمی ہنٹ نے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے ‘غیر قانونی’ طور پر قبضے میں لیے گئے برطانیہ کے تیل بردار بحری جہاز کو چھوڑ دے۔ تاہم تہران کا کہنا تھا کہ جہاز بین الاقوامی بحری ضوابط کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10774 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp