قومی سلامتی کمیٹی: ’افغان تنازع کے پیشِ نظر انڈیا کی حکمت عملی کی مذمت کرتے ہیں‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کی جانب سے وادیِ نیلم میں کلسٹر بم حملے کے بعد وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور ڈی جی آئی ایس آئی نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ، مشیرِ خزانہ عبد الحفیظ شیخ کے علاوہ وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین خان گنڈا پور، وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان بھی شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد جاری کی گئے اعلامیے کے مطابق ’اجلاس میں انڈیا کی جانب سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کشمیری عوام کے خلاف جارحیت، زمینی حقائق کے برعکس صورتحال کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال، پاکستان کو اکسانے کے لیے سویلین آبادی پر کلسٹر بم پھینکنے اور اصل صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے غلط خبریں پھیلانے اور کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کے منصوبوں پر غور کیا گیا۔‘

اجلاس میں انڈیا کی جانب سے خطے کو غیر مستحکم کرنے والی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے ایسے وقت میں’انڈیا کی جارحانہ حکمت عملی‘ کی شدید مذمت کی جب پاکستان اور عالمی برادری افغان تنازعہ کے حل پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر پر نحوست کے بادل!

ایل او سی پر کشیدگی پاکستان اور انڈیا میں اہم اجلاس

ایل او سی پر کشیدگی: ’مودی آرٹیکل 35 اے سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں‘

اجلاس کو بتایا گیا ’انڈیا کے بارے میں اندرونی اور بین الاقوامی طور پر جتنے انکشاف کیے جائیں اتنا ہی وہ خطرناک طریقے اپنانے کی کوشش کرے گا جس میں جعلی آپریشن بھی شامل ہیں۔‘

اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان انڈیا کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے اور پاکستان انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے بہادر لوگوں کو ہر ممکن سفارتی، سیاسی اور اخلاقی مدد دیتا رہے گا تاکہ وہ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے تحت اپنا حقِ خود ارادیت استعمال کر سکیں۔

اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان انڈیا کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے جن کی وجہ سے خطے اور بین الاقوامی امن پر برے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان یہ دہرانا چاہتا ہے کہ کشمیر کا معاملہ ایک طویل المدتی بین الاقوامی مسئلہ ہے جسں کا پرامن حل نکالنا ضروری ہے۔ اس لیے پاکستان انڈیا پر زور دیتا ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ ہمیشہ سے کھڑا ہے اور ہمارا مؤقف اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کا عکاس ہے۔ اس لیے ہم اس سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ انڈیا بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیر رہا ہے اور اس کی ہٹ دھرمی سےخطے کا امن تباہ ہو رہا ہے۔ وزیرِ اعظم نے بین الاقوامی سربراہان اور اداروں کی توجہ انڈیا کی قیادت کی غیر ذمہ داری، غیر معقول اور یکطرفہ رویے کی جانب دلائی۔

https://twitter.com/ImranKhanPTI/status/1157986384495489025?s=20

اجلاس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا ’مقبوضہ کشمیر کے عوام کو مصائب و مظالم کی گہری تاریک رات سے نجات دلوانے کا وقت آن پہنچا ہے۔ انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرادادوں کی روشنی میں حق خودارادیت ملنا چاہئیے۔ جنوبی ایشیاء میں امن و سلامتی کا نسخہ تنازعہ کشمیر کے پرامن اور انصاف پر مبنی حل ہی میں پوشیدہ ہے۔‘

ان کا مذید کہنا تھا ’صدر ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی جس کا یہی وقت ہے کیونکہ قابض بھارتی افواج کے نئے جارحانہ اقدامات کے باعث وادی میں اور جنگ بندی لکیر کیساتھ صورتحال ابتر ہورہی ہے اور اس سے علاقائی بحران پھوٹنے کے بھی قوی امکانات موجود ہیں۔‘

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد العُثمین کو ٹیلی فون کیا اور کشمیر میں انڈین جارحیت کے بارے میں آگاہ کیا۔

https://twitter.com/OIC_OCI/status/1157996003544457217?s=20

او آئی سی نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں انڈیا کی جانب سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیرمیں مزید فوجیوں کی تعیناتی اور ایل اور سی کے پار کلسٹر بموں کے مبینہ استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’او آئی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقہ کار کے ذریعے کشمیر کے تنازعہ کے پرامن حل کے لیے وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10774 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp