سعودی خواتین پر سفری پابندیوں کا خاتمہ: سعودی عرب کی ’نئی سمت’ ایک عورت کی زندگی کیسے تبدیل کر رہی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب جبکہ سعودی عرب نے خواتین کو مردوں کی اجازت کے بغیر سفر کرنے کی اجازت دے دی ہے، تو جدہ کی رہائشی سعودی خاتون للوا شلہوب بتاتی ہیں کہ یہ اقدام کیسے ان کی زندگی پر اثر انداز ہوگا۔


اب اگلی دفعہ جب میں بیرونِ ملک سفر کروں گی تو مجھے سعودی محکمۂ پاسپورٹس یا سعودی بارڈر کنٹرول کے ریکارڈز میں اپنا اجازت نامہ نہیں اپ ڈیٹ کرنا پڑے گا۔

میں صرف اپنا سوٹ کیس پیک کروں گی، اپنا سبز پاسپورٹ دکھاؤں گی اور سعودی عرب کی ایک بالغ شہری کے طور پر یہ کافی ہوگا اور میں خود، کسی مرد نگراں کی اجازت کے بغیر، اپنے ملک سے باہر جانے کی فیصلہ سازی کی ذمہ دار ہوں گی۔

گذشتہ ہفتے میں سعودی خواتین کے لیے ایک تاریخی دن تھا جب انھیں اپنے لیے اور اپنی بیٹیوں کے روشن مستقبل کی امید ملی، ایک ایسا مستقبل جس میں وہ نچلے درجے کی شہری نہیں ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیے

والد کی ’نافرمانی‘ پر سعودی خواتین کی گرفتاری کیوں؟

’سعودی خواتین کو عبایہ پہننے کی ضرورت نہیں‘

35 سالہ پابندی کے بعد سعودی عرب میں پہلا سنیما

بیرونِ ملک سفر کے لیے سرپرست مرد کی اجازت حاصل کرنا سعودی خواتین، بالخصوص طلاق یافتہ یا بیوہ خواتین کے لیے آخری چند رکاوٹوں میں سے ایک تھا۔ کچھ معاملات میں تو خواتین کو والد، چچا یا بھائیوں کے زندہ نہ ہونے کی صورت میں اپنے بیٹوں سے اجازت حاصل کرنی پڑتی۔

آخر کار سعودی عرب میں بلوغت کی حد سے صنفی امتیاز کا خاتمہ ہوگیا ہے اور اب مرد و خواتین دونوں کو ہی 21 سال کی عمر تک پہنچنے پر بالغ تصور کیا جائے گا۔

کسی ایسی خاتون کے لیے یہ نہایت تحقیر آمیز تھا جو سالہاسال تک اپنے بیٹے کی پرورش صرف اس لیے کرتی کہ وہ اسے سفر کی اجازت دے۔ یہ والدین کی عزت پر زور دینے والی ایک ثقافت میں ایک مضحکہ خیز بات بھی تھی۔

معاملہ اس سے بھی زیادہ پریشان کن تب ہوتا جب کسی خاتون کے کوئی ایسے مرد رشتے دار، مثلاً والد، شوہر، بھائی یا بیٹا نہ ہوتے جو ان کے سرپرست کہلائے جا سکتے۔ اور طلاق یافتہ یا بیوہ خواتین جو انتہائی قدامت پسند یا مردوں کے غلبے والے خاندانوں میں رہتیں، انھیں اجازت دینے سے انکار کیا جا سکتا تھا چنانچہ وہ اپنی مرضی سے سفر نہ کر پاتیں۔

ایک سعودی خاتون کے طور پر تیز تر تبدیلیوں کے اس دور کو دیکھنا بہت خوشگوار ہے جسے مستقبل میں سعودی عرب کا وہ دور کہا جائے گا جب اس نے خواتین کو مردوں کے برابر کا ساتھی قبول کرنا شروع کیا۔

میں 1990 کی دہائی میں بڑی ہوئی اور میری نسل قبول شدہ طور طریقوں کے بجائے کئی طرح کی فرسودہ روایات میں گھری ہوئی تھی۔ یہ ثقافتی روایات جن کی بنیاد مذہب کی ایک سخت گیر تشریح پر تھی، مردوں اور خواتین کو علیحدہ رکھنے والے ایک معاشرے میں عام تھیں۔ ان میں مردوں کے پاس اختیار تھا کہ وہ اپنے خاندان کی خواتین کے لیے فیصلے لے سکتے۔

سعودی خواتین

Reuters
اس نئے قانون کا مطلب ہے کہ ایک شوہر اور بیوی کا تعلق دو ذمہ دار بالغان کے درمیان ایک مساوی شراکت داری بن گیا ہے

میں 2008 سے لے کر آٹھ سال تک ملک سے باہر رہی ہوں اور جب بھی میں اپنے خاندان سے ملنے کے لیے جدہ جاتی تو میں پہلے کی بہ نسبت کچھ تبدیلی دیکھا کرتی۔ یہ قوانین میں تبدیلی کی وجہ سے نہیں بلکہ معاشرتی سطح پر تبدیلی کی وجہ سے ہوتیں۔

معاشرہ اب نوجوان مردوں اور خواتین کے ساتھ کام کرنے اور عوامی مقامات پر ملنے، خواتین کے رنگین عبایا پہن کر اسے فیشن ایبل بنانے، اور نوجوان خواتین کے تنہا ملک سے باہر تعلیم حاصل کرنے کو قبول کرنے لگا تھا۔

‘نئی سمت’

جو چیز تبدیلیوں کو تیز اور ان کے خلاف مزاحمت کو مشکل بنا رہی ہے وہ یہ کہ گذشتہ دو سالوں میں ان تبدیلیوں کو شاہی حکمناموں اور قوانین میں تبدیلی کے ذریعے قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اس میں ستمبر 2017 میں سعودی خواتین کے گاڑی چلانے کی پابندی ختم کرنا (جسے جون 2018 میں نافذ کیا گیا) اور سفر کے حوالے سے تازہ ترین اقدامات شامل ہیں۔

مؤخر الذکر تبدیلی کے خاندانی ڈھانچے پر مثبت اثرات ہوں گے۔ کسی بھی خاندان کے اندر سفر ایک ذاتی انتخاب ہونا چاہیے۔ برابری کی اس سطح کو پہنچنے کا مطلب ہے کہ ایک عورت کا اپنے والد، شوہر یا بھائی کے ساتھ تعلق بھروسے، آزادانہ گفتگو اور احساسِ ذمہ داری پر قائم ہو۔

سعودی خواتین

AFP
سعودی عرب وہ آخری ملک تھا جہاں خواتین کے گاڑی چلانے پر بھی پابندی تھی

اس نئے قانون کا مطلب ہے کہ ایک شوہر اور بیوی کا تعلق دو ذمہ دار بالغان کے درمیان ایک مساوی شراکت داری بن گیا ہے، بجائے کسی ’کم عمر’ کی سرپرستی کے۔

میرے سعودی دوست اور میں، اور کئی سعودی خواتین اب نہیں چاہتیں کہ انھیں خصوصی حالات میں گھری خواتین سمجھا جائے جن کے پاس وہ حقوق بھی نہیں جو دنیا بھر کی خواتین اپنا پیدائشی حق سمجھتی ہیں۔

یہ تبدیلیاں ہمیں بحیثیت خواتین ایسی نئی سمت میں لے جا رہی ہیں جہاں ہم انفرادیت اور اپنا خیال خود رکھ سکنے کا اعتماد حاصل کر سکیں گی۔

للوا شلہوب جدہ میں مقیم فری لانس صحافی ہیں جو اس سے پہلے لندن میں بی بی سی عربک سروس کے لیے کام کر چکی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9984 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp