آرٹیکل 370 کا خاتمہ: کیا اس تبدیلی کو قانونی طور پر چیلنج کیا جا سکتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آرٹیکل 370

Getty Images
قانونی ماہرین انڈین حکومت کے اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے حوالے سے مختلف رائے رکھتے ہیں

اپنے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدے کے مطابق دوسری بار منتخب ہونے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے جموں و کشمیر پر لاگو آرٹیکل 370 میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے پر مختلف رائے رکھتے ہیں۔

سابق اے ایس جی اور انڈین سپریم کورٹ کے سینئر وکیل وکاس سنگھ کا کہنا ہے کہ شاید اسے اعلیٰ عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

وکاس سنگھ نے لیگل رپورٹر سچریتا موہانتے کو بتایا ’حکومت کا آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کا فیصلہ مکمل طور پر ایگزیکٹو معاملہ ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اس کو چیلنج کیا جائے گا۔ اس کو چیلنج کرنے کا کوئی امکان نہیں۔ یہ انصاف پر مبنی نہیں ہو گا۔‘

انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’یہ ایک عارضی شرط تھی۔ حکومت نے ایک عارضی شرط کو ختم کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اب ریاست جموں و کشمیر کے عوام وہ تمام بنیادی حقوق اور دیگر فوائد حاصل کر سکے گے جو انڈیا کے آئین میں شامل ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اب یہ ضروری ہے کہ سب کو یکساں سہولیات ملیں۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر: اقوام متحدہ کی قرارداوں کی حیثیت کیا ہے؟

آرٹیکل 370 تھا کیا اور اس کے خاتمے سے کیا بدلے گا؟

انڈیا کا کشمیر کی ’نیم خودمختار‘ حیثیت ختم کرنے کا اعلان

’اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا‘

اس کے برعکس سابق اے ایس جی اور عدالت عظمیٰ کے سینئر ایڈووکیٹ کے سی خوشک نے کہا کہ آرٹیکل 370 میں تبدیلی کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’متاثرہ پارٹی لازمی طور پر اسے چیلنج کرے گی۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ کون سی جماعت یا تنظیم اسے اس وقت چیلنج کرے گی۔ لیکن اسے بعد میں چیلنج کیا جائے گا۔‘

انھوں نے واضح کیا کہ آئین میں یہ درج ہے کہ اگر کوئی جماعت یا شہری کسی آرڈر یا نوٹیفیکیشن سے متاثر ہوتا ہے تو وہ متعلقہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مطابق میں بی جے پی کا یہ اقدام یا فیصلہ بہت اچھا ہے تاہم اسے لاگو کرنے سے متعلق احتیاط برتنے کے ضرورت ہو گی۔

انڈین پارلیمنٹ

Getty Images
پیر کو انڈین پارلیمان کے ایوان بالا میں کشمیر کو نیم خودمختاری دینے والے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی

’سیاسی رضا مندی کی ضرورت تھی‘

ایک اور بین الاقوامی وکیل اور وکالت میں سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کے جونیئر ڈاکٹر سورت سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ آج کا دن تاریخی دن ہے۔ ’جو سنہ 1950 سے نہیں ہو سکا وہ آج ہو گیا۔‘

تاہم ڈاکٹر سنگھ نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے سے متعلق کوئی رائے دینے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اس کے مثبت پہلووں کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ملک کے انضمام کے لیے اس قسم کا اقدام کافی دیر سے تاخیر کا شکار تھا۔ ایسا کرنے کے لیے صرف سیاسی رضا مندی کی ضرورت تھی۔ اب ایسا کر دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں۔‘

’یہ غیر قانونی اور غیر آئینی فیصلہ ہے‘

انڈیا کے آئینی ماہر اور وکیل اے جی نورانی کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کا یہ فیصلہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ یہ فراڈ کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 370 کا معاملہ بہت واضح ہے اس کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔

آرٹیکل 370

Getty Images
وکیل اے جی نورانی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کشمیر کی خاص شناحت کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا

اس کو صرف قانون ساز اسمبلی ہی ختم کر سکتی ہے اور قانون ساز اسمبلی کو سنہ 1956 میں ہی تحلیل کر دیا گیا تھا۔ اور اب مودی سرکار آرٹیکل 370 کو توڑ مڑوڑ کے ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اے جی نورانی کا کہنا تھا کہ حکومت نے کشمیر کو تقسیم کر دیا ہے کو کہ جنا سانگھ کے بانی سیاما پرساد مکھرجی کا خواب تھا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جموں اور کشمیر کو ایک ساتھ رکھنے کا مقصد چند لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنا ہے دراصل ان کی نیت شروع ہی سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنا تھی۔

آرٹیکل 35-اے کو ختم کیے جانے پر انھوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے کشمیر پر برے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ یہ کشمیر کی خاص شناحت کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔ انھوں نے کہا کہ حکومتی اقدام سے کشمیر پر اقوام متحدہ کے مجوزہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا البتہ اس کو اعلی عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے لیکن یہ نہیں علم کہ سپریم کورٹ اس پر کیا فیصلہ دے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10840 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp