کشمیر: آؤ نئی کہانی لکھتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر پر ستر سال میں ہمارا سب سے اہم سرکاری اقدام پانچ فروری کی چھٹی رہا ہے۔ اس کے علاوہ غیر سرکاری اور نیم سرکاری اقدامات میں کشمیر پر ہونے والے گرما گرم بین الکلیاتی مباحثے، روز کی ایک ہی الفاظ والی پی ٹی وی خبرنامے پر چلنے والی ٹکر جو اب باقی سیٹلائٹ چینلز پر بھی چلتی ہے، کشمیر جہاد کے نام پر پاکستان کے سکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والے بچوں اور نوجوانوں کے تابوت، منصورہ اور مرید کے میں ہونے والے روح پرور اجتماعات، مینار پاکستان پر حافظ سعید کی شہہ سواری کا منظر، میاں طفیل سے قاضی حسین احمد اورسراج الحق تک کی مال روڈ پر نکلنے والے کشمیری فلوٹ کی قیادت، کشمیری رہنماؤں کی ایک ہی سکرپٹ پر لکھی تقریریں اور اب اسی سکرپٹ کے خلاصے پر مبنی ٹویٹس، اُدھر سے آنے والے بزدلانہ گولے اور ادھر سے جانے والے بہادرانہ گولے، ہمارے کنوارے سیاستدانوں کے کشمیر کیمپ، فی ہفتہ پانچ سے چھ فوجی چوکیوں کی اخبارات کے صفحات اور نیوز بلیٹن میں تباہی، اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ورد، کشمیر کمیٹی کی چئیرمینی، سڑکوں اور ڈیموں کے ٹھیکے اور کشمیری کاز پر دنیا کی سیر کو جانے والے وفود شامل رہے ہیں۔ اس سب سے کشمیر، پاکستان اور بھارت کو جو گوناگوں فوائد حاصل ہوئے وہ سب کے سامنے ہیں۔

اب کہانی نے نیا رخ لیا ہے۔ ستر سال بعد اب پرانا پہاڑہ اچانک فرسودہ ہو گیا ہے اور ریاضی کی کچھ ایسی مساواتیں سامنے رکھ دی گئی ہیں جن کو حل کرنا ہمیں نصاب میں سکھایا نہیں گیا تھا۔ مطالعہ پاکستان اور مطالعہ ہندوستان کے لکھے ہوئے پنے یکایک اس قدر بوسیدہ ہو گئے ہیں کہ اس پر موجود لفظ پڑھنے میں نہیں آتے۔ ٹویٹس کا سکرپٹ کہیں گم گیا ہے۔ اور پرانی تقریروں کے مسودے آخری سانس لے رہے ہیں۔ اِدھر چہرے ہکا کھڑے ہیں اُدھر چہرے بکا ہو گئے ہیں۔

اچھل پھاند جاری ہے پر کوئی دائیں سے بائیں پھلانگ رہا ہے تو کوئی بائیں سے دائیں۔ لگتا دونوں کو یہ ہے کہ شاید منزل کا سفر اسی جست میں تمام ہونا ہے پر جنگل پر ہمیشہ سے چھائے ہوئے اندھیرے میں اچانک بہت گہری دھند کی آمیزش ہو گئی ہے۔ برسوں میں جس تاریک عفریت سے نظریں مانوس کی تھیں اب اس سیاہ رو کے خدوخال بھی بدل گئے ہیں۔ شور مچا ہے۔ سب اپنی اپنی بولیاں بول رہے ہیں پر کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔

یہاں سوال یہ ہے کہ پہلے بھی سمجھنے کو کیا تھا؟ کیا حیدر آباد اور جونا گڑھ کی چاہ میں کشمیر کا سودا ہماری ہی کھوٹے سکے رکھنے والی عظیم قیادت نے نہیں کیا تھا۔ وہ الگ بات ہے کہ اس سودے میں خدا ملا نہیں اور وصال صنم وہ دھوکا نکلا جس کی پٹی آج بھی ہم آنکھوں پر باندھے گھوم رہے ہیں۔ شملہ معاہدہ ہو، اعلان لاہور ہو کہ چار نکاتی معاہدہ، عام کشمیری کی زندگی اسی کولہو کے گرد گھومتی رہی جس کے چکر سے صرف زمین میں خراش پڑتی ہے۔

دونوں ملکوں کے سفارت کار کشمیری زمین کی میز پر پنجہ آزمائی کرتے رہے اور اس زمین کے باسی دور تماشا گاہ کی سیڑھیوں پر بیٹھے تالیاں بجاتے رہے۔ دوری اتنی رہی کہ کبھی پتہ نہ لگا کہ بازو کس کا خم ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد کی اندھی پگڈنڈی پر کشمیریوں کی بچپن کی صبح جوانی کی شام میں ڈھلی اور رات کے اندھیرے میں موت کی وادیوں میں اترتی گئی۔ ایک کے بعد ایک یگ بیتا پر کسی نے نہ بتایا کہ یہ راستہ کہیں نہیں جاتا۔

باب ششم کی قرارداد باہمی جھگڑوں کے ایسے پرامن حل کی بات کرتی ہے جو فریقین نے خود حل کرنا ہے۔ اقوام متحدہ نہ کل دخل اندازی کر سکتی تھی نہ آج کر سکتی ہے پر ہم یہ جھوٹ انتہائی ڈھٹائی سے بیچے چلے جا رہے ہیں۔ کوئی نہیں بتاتا کہ قرارداد نمبر 47 کے تحت پہلے ہر پاکستانی شہری اور فوجی کشمیر بشمول گلگت بلتستان سے نکلے گا پھر اگلی بات ہو گی۔ بھارتی فوج اسی قرارداد کے تحت اس کے بعد بھی وادی میں رہے گی۔ استصواب رائے کی باری اس کے بعد آئے گی۔

کیا ہم واقعی اس قرارداد کا پالن کبھی بھی سنجیدگی سے کرنا چاہتے تھے۔ کیا ہم آج بھی ان شرائط پر عمل کر سکتے ہیں۔ جب یہ ممکن ہی نہیں تو اس قرارداد کا ڈھول ہم کیوں پیٹے جا رہے ہیں۔ یہ وہ دھن ہے جس پر اس قوم کو ستر سال سے ایک بے دماغ جانور کی طرح نچایا جا رہا ہے۔ افسوس دھن بجانے والوں پر نہیں ہے۔ ناچنے والوں پر ہے۔

مہاویرا، بدھا، کرشن، کبیر، بابا فرید، گرو نانک اور بلھے شاہ کی محبتوں والی زمین میں ہر لکیر خون اور نفرت سے کھینچی گئی۔ صرف کشمیر نہیں کٹا، پنجاب، بلوچستان، سندھ اور بنگال بھی دو نیم ہوئے۔ دریا بھی تقسیم ہوئے، صحرا بھی بٹ گئے۔ رشتے ادھر بھی سرحد کے پار رہ گئے، ادھر بھی سرحد کے پار رہ گئے۔ باپ سے بیٹی ادھر جدا ہوئی تو ماں سے بیٹا ادھر چھن گیا۔ ادھر چوراہوں میں چادریں نیلام ہوئیں تو ادھر کٹریوں کی خاشاک میں عصمتیں بکھیر دی گئیں۔ ادھر سر کٹے تو ادھر بھی تن بریدہ ہوئے۔ یہ ایک قوم کا سانحہ نہیں، ایک نسل کی داستان غم نہیں، یہ ایک خطے کی تاریخ کا وہ جبر ہے جس کا تسلسل ہے کہ ٹوٹنے میں نہیں آتا۔

ہم کب تک سبز چراگاہوں کے خواب بیچ کر کے جوان لاشوں کی فصل بوئیں گے۔ کب تک پیاس بجھانے کے لیے پانی کی جگہ جرعہ خون اپنے بچوں کے لبوں سے لگائیں گے۔ کب تک ہم رنگ، خوشبو اور بادل کا سودا بارود، بم اور بندوق سے کریں گے۔ ایک سا غم، ایک سی امید۔ دیکھیے ناصر کاظمی یاد آ گئے۔ اس رنج بے خمار کی اب انتہا بھی ہو۔

کشمیر کا قضیہ کبھی بھی فریقین کے لیے کشمیریوں کا قضیہ نہیں رہا۔ ایک انسانی المیے کو ہم نے کبھی انسانی المیہ سمجھا ہی نہیں۔ ہمارے لیے، ہمارے کار پردازوں کے لیے، یہ کل بھی زمین کی جنگ تھی، یہ آج بھی زمین کی جنگ تھی۔ ستر سال سے کشن گنگا میں لہو بہہ رہا ہے۔ ٹیٹوال کے پل کے کنارے حسرت سے ایک دوسرے کو تک رہے ہیں۔ ڈل جھیل اداس ہے تو رتی گلی بھی خاموش ہے۔ کیرن کے دونوں جانب پیاروں کی آنکھیں ملن کی آس میں پتھرا گئی ہیں، پر بھارت اور پاکستان دونوں بانسری پر ایک ہی دھن بجائے جا رہے ہیں۔ سری نگر جل رہا ہے اور اس کی خاک مظفر آباد کی گلیوں میں اڑ رہی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 147 posts and counting.See all posts by hashir-irshad