انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے دنیا کا رابطہ مسلسل دوسرے دن بھی منقطع

شکیل اختر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشمیر

Getty Images
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں اتوار کی شب سے ذرائع مواصلات و نقل و حمل مکمل طور پر منقطع ہیں

انڈیا کی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کو دی جانے والی نیم خودمختاری کی حیثیت اور خصوصی درجے کے خاتمے کے اعلان کے بعد وادی مسلسل دوسرے دن بھی باقی پوری دنیا سے کٹی ہوئی ہے۔

اتوار کی شب کشمیر میں جو ٹیلیفون، موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ بند ہوئے تھے وہ تاحال بند ہیں اور یہ جاننا بھی مشکل ہے کہ موجودہ حالات میں کشمیر کی آبادی کو انڈین حکومت کے اس فیصلے کا علم ہو سکا ہے یا نہیں۔

وادی میں پیر سے بند کیے جانے والے تمام تعلیمی ادارے اور بیشتر دفاتر منگل کو بھی بند ہیں اور پوری وادی انڈین سکیورٹی فورسز کے زبردست حفاظتی حصار میں ہے۔

اس صورتحال کی وجہ سے وادی کے کسی بھی علاقے سے کوئی رابطہ ممکن نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’اب کشمیریوں کا انڈیا سے اعتبار اٹھ گیا ہے‘

کیا آرٹیکل 370 کا خاتمہ چیلنج کیا جا سکتا ہے؟

انڈیا کا کشمیر کی ’نیم خودمختار‘ حیثیت ختم کرنے کا اعلان

سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور سے آخری بات چیت اتوار کی رات تقریباً دو بجے ہوئی تھی۔ اس وقت انٹرنیٹ بند ہو چکا تھا اور موبائل سروسز رفتہ رفتہ بند کی جا رہی تھیں اور اس وقت سے تمام رابطے منقطع ہیں۔

حزبِ اختلاف کے رہنما غلام نبی آزاد نے ایک نیوز کانفرنس میں کشمیر کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘وادی کشمیر کے تمام دس اضلاع میں کرفیو نافذ ہے۔ کسی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ‘جموں کے 12 میں سے چھ اضلاع میں مکمل کرفیو ہے اور باقی چھ میں کرفیو جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔ لداخ کے کرگل خطے میں لداخ کو مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ قرار دیے جانے کے خلاف کل سے ہڑتال ہے اور نقل وحمل کے سارے ذرائع معطل ہیں۔’

وادی کی صورتحال کے بارے میں کوئی خبر نہیں آ رہی ہے۔ انڈیا کے دو تین چینل جو سر ینگر سے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے کبھی کبھی خبریں دے رہے ہیں وہ بھی کوئی اضافی اطلاعات نہیں دے پا رہے ہیں۔

کشمیر

Getty Images
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر آج مسلسل دوسرے روز بھی پوری دنیا سے کٹا ہوا ہے

پرائیویٹ ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کشمیر کے ایک سیاسی رہنما شاہ فیصل نے کہا ہے کہ ‘یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو ہمارے تصور میں بھی نہیں تھا۔ کشمیر میں اب جمہوری سیاست کا راستہ بند ہو گیا ہے۔ اب ہمیں صرف ملٹری آپریشن ہی دکھائی دیتا ہے۔’

کشمیر میں کام کرنے والے دوسری ریاستوں کے ہزاروں مزدور وہاں پھنس گئے ہیں۔ کافی افراد حالات کے پیش نظر وادی چھوڑنے کے لیے بس اڈوں پر جمع ہیں۔

کشمیر پر خاموشی کی ایک فضا چھائی ہوئی ہے۔ پورا خطہ سکیورٹی فورسز کے حصار میں ہے۔ کشمیر ملک اور بیرونی دنیا سے پوری طرح کٹا ہوا ہے۔

سری نگر میں بی بی سی ہندی کے نامہ نگار عامر پیرزادہ نے پیر کو بتایا تھا کہ ’صبح جب لوگ گھروں سےباہر آئے تو ہر گلی، ہر موڑ پر سیکورٹی کے دستے تعینات تھے۔یہ ایسا کرفیو ہے جس کا کوئی پیشگی اعلان نہیں کیا گیا۔

‘ہر سڑک پر بڑے پیمانے پر سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ کشمیر کے دوسرے حصوں میں کیا ہو رہا ہے ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کیونکہ تمام رابطے منقطع کیے جا چکے ہیں۔‘

کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ لینڈ لائن ٹیلیفون بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ حکومتی اہلکاروں کو آپس میں رابطے کے لیے سیٹلائٹ فون دیے گئے ہیں کیونکہ ان کے بھی ٹیلیفون اور موبائل بھی بند ہیں۔

کشمیر میں ڈر اور خوف کا ماحول ہے، لوگ گھروں میں بند ہو گئے ہیں۔ لوگوں نے مہینوں کے لیے خوراک کا ذخیرہ کر رکھا ہے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10840 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp