آرٹیکل 370: ’فیصلہ کشمیر کے مستقبل کے لیے ہے تو ہمیں جانوروں کی طرح بند کیوں کیا ہے؟‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جموں کشمیر کو خاص ریاستی درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کو خطم کرنے کے بعد پیر کی شام سرینگر میں سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو حراست میں لے لیا گیا۔ انہیں سرکاری گیسٹ ہاؤس ’ہری نواس‘ میں رکھا گیا ہے۔

سری نگر کے ایک مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے حکم کے مطابق محبوبہ مفتی کی سرگرمیوں سے علاقے کا امن متاثر ہو سکتا تھا اس لیے انہیں احتیاط کے طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آرٹیکل 370 تھا کیا اور اس کے خاتمے سے کیا بدلے گا؟

کیا آرٹیکل 370 کا خاتمہ چیلنج کیا جا سکتا ہے؟

اس بارے میں ان کی بیٹی التجا جاوید سے، جن کا گھر کا نام ثناء ہے، ’وائس نوٹز‘ کے ذریعہ بی بی سی نامہ نگار کلدیپ مشر نے بات کی۔

جس وقت محبوبہ مفتی کو ان کے سرینگر کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا، ثناء ان کے ساتھ گھر میں موجود تھیں۔

جموں

EPA
جئموں میں آرٹیکل 370ختم کیے جانے اک جشن مناتے لوگ

’ایک کاغذ دے کر سامان باندھنے کا وقت دیا‘

ثناء مفتی نے بتایا کہ دیر رات کشمیری سیاستدانوں کو یہ معلوم ہوا کہ انہیں نظر بند رکھا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ’سب سے پہلے عمر عبد اللہ صاحب نے ٹوئیٹ کیا۔ پھر میری والدہ کو بھی پتہ چلا۔ پیر کو شام تک وہ نظر بند تھیں۔ پھر شام پانچ بجے ہمیں پتہ چلا کہ انہیں احتیاط کے طور پر حراست میں لیا جائے گا۔ تقریباً سات بجے چار پانچ اہلکار آئے۔ ضلعی مجسٹریٹ بھی ساتھ آئیں۔ انہوں نے میری ماں کو ایک کاغذ دیا اور انہیں تھوڑا وقت دیا تاکہ وہ ضروری سامان اپنے ساتھ لے جا سکیں۔‘

ثناء نے بتایا کہ ہری نواس، جہاں ان کی ماں کو رکھا گیا ہے ان کے گھر سے 5-10 منٹ کے فاصلے پر ہے۔ لیکن کسی خاندان والے کو ان سے رابطہ کرنے یا ملنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ جانا چاہتی تھیں لیکن اس کی اجازت نہیں دی گئی۔

محبوبہ مفتی

EPA
محبوبہ مفتی

’کچھ پتہ نہیں کب تک حراست میں رہیں گی‘

ثناء مفتی نے بتایا کہ جموں کشمیر کے اہلکاروں کو خود اندازہ نہیں ہے کہ انہیں کب تک حراست میں رکھا جائے گا۔ وہ صرف اوپر سے آنے والے احکامات کو فالو کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’جب یہاں کے آئینی طور پر رہنما یعنی گورنر کو ہی دو دن پہلے تک کچھ نہیں پتہ تھا کہ کیا ہونے والا ہے تو مجھے نہیں لگتا کہ اہلکاروں کو اس بارے میں کوئی اندازہ بھی تھا۔ ہم سے کہا گیا ہے کہ کل پرسوں تک انہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ لیکن ہمیں ان پر بالکل اعتبار نہیں ہے۔ میں صرف امید کرتی ہوں کہ میری والدہ محفوظ ہوں کیوں کہ ایسے ماحول میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘

ثناء نے معاشیات میں تعلیم حاصل کی ہے۔ وہ برطانیہ کی واروک یونیورسٹی سے انٹرنیشنل رلیشنز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر چکی ہیں۔ دبئی اور لندن میں نوکری بھی کر چکی ہیں، لیکن اب وہ زیادہ تر وقت کشمیر میں ہی رہتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب سے ان کے نانا مفتی محمد سعید کا انتقال ہوا ہے، ان کی کوشش رہتی ہے کہ وہ زیادہ وقت اپنی والدہ کے ساتھ گزاریں اور ان کے سیاسی سفر میں ان کی مدد کریں۔

’غصے کے اظہار کی اجازت بھی نہیں‘

ثناء کا خیال ہے کہ آرٹیکل 370 کے تحت جموں کشمیر کو حاصل خاص ریاست کا درجہ چھن جانے سے کشمیری نوجوان بہت ناراض ہیں اور ایسا محسوس کر رہے ہیں کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔

’انہوں نے کہا کہ پہلے یہ کہا گیا تھا کہ امرناتھ جانے والے عقیدت مندوں کو اس لیے نکالا جا رہا ہے کیونکہ حملے کا امکان ہیں۔ ہم سے جھوٹ بولا گیا۔ چوروں کی طرح پارلیمان میں آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا غیر آئینی فیصلہ کیا گیا۔ نوجوانوں کو اس بات کی اجازت بھی نہیں ہے کہ وہ اپنے غصے کا اظہار کر سکیں۔ آپ کب تک کے لیے لوگوں کو ان کے گھروں میں بند کر دیں گے؟ اگر یہ فیصلہ کشمیریوں کے مستقبل کے لیے ہے تو انہیں جانوروں کی طرح گھروں میں کیوں بند کیا گیا ہے؟‘

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے سیکیولر اور جمہوری انڈیا کا انتخاب کیا تھا، یہ ان کے ساتھ دھوکا ہے۔ محبوبہ مفتی کو حراست میں لیے جانے پر انہوں نے کہا ’میری والدہ نے سنہ 2016 سے 2018 میں بی جے پی کے اتحاد توڑنے تک پوری ایمان داری سے کام کیا۔ لیکن اہم رہنماؤں کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کیا جا رہا ہے۔ یہ لوگ اینٹی نیشنل تو نہیں ہیں۔‘

ثناء کو لگتا ہے کہ ایسا کر کے بی جے پی اپنے ووٹروں کو خوش کرنا چاہتی ہے۔ انہیں دکھانا چاہتی ہے کہ وہ کشمیری رہنماؤں کو اس طرح سزا دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر صف اول کے رہنماؤں کے ساتھ ایسا ہوگا تو انڈیا پر یقین کون کرے گا؟‘

کشمیر

Reuters

’کشمیریوں کی عزت نفس کے نقصان کا کیا جواب دیں‘

جموں کشمیر میں بڑی سطح پر سیکیورٹی فورسز کی طعیناتی کے ساتھ ہی قیاس آرائیاں ہونے لگی تھیں کہ کوئی بڑا فیصلہ ہونے والا ہے۔

ثناء نے بتایا کہ ایک ہفتے سے ان کے گھر میں بہت تناؤ کا ماحول تھا اور آرٹیکل 370 سے متعلق کوئی فیصلہ آنے کا خدشہ تھا۔

یہ بھی پڑھیے

‘ایک دن مسلمان کشمیر میں اقلیت بن جائیں گے’

’انڈیا نے بہت بڑی سیاسی حماقت کی ہے‘

انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ نے زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامان کیا ہے اور وہ بہت بہادر بھی ہیں لیکن انہیں کشمیری افراد کی عزت نفس اور خداری کو ہونے والے نقصان کی فکر ہے۔

’بربادی تین خاندانوں کی وجہ سے نہیں‘

انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو پارلیمان میں اپنے انتخاب میں مفتی خاندان کو بھی ہدف بنایا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 سے کشمیر کے صرف تین خاندانوں کو فائدہ ہوا ہے۔

ثناء نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وفاقی حکومت میں کئی رہنماء بڑے سیاسی رہنماؤں کے بیٹے یا بیٹیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’آپ باقی لوگوں کو آسان الفاظ میں بتانا چاہتے ہیں کہ بربادی تین خاندانوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ تاہم بربادی اس لیے ہوئی ہے کیونکہ انڈین حکومت نے ہمیشہ غلط فیصلے لیے ہیں۔ باقی انڈیا میں اپنی حیثیت کو مضبوط رکھنے کے لیے ہمیشہ کشمیریوں کی گردن پر تلوار رکھی ہے۔‘

’اگر ہمارا خاندان اتنا غلط تھا تو ہمارے ساتھ اتحاد کر کے حکومت کیوں بنائی تھی؟ کیوں نیشنل کانفرنس کو اپنی وفاقی حکومت میں شامل کیا تھا؟‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9584 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp