دیپ جلتے رہے۔ (قسط 18 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم نے اپنے کیریر کا آغاز وکالت سے کیا، تب ہمارے سینیر وکیل نے ہمیں وکالت میں کامیابی کا پہلا اصول یہ سمجھا یا تھا کہ موکل وکیل کی ظاہر ی حیثیت دیکھ کر مرعوب ہو تا ہے۔ قیمتی سامان سے مزین آفس، بڑی گاڑی، اور بہترین لباس میں ملبوس رہ کر آپ تگڑی فیس طلب کریں گے تو موکل اسے آپ کی حیثیت کے شایانِ شان سمجھے گا۔ لیکن اس کے برخلاف معمولی حلیے میں آپ کی کیس لڑنے کی قابلیت مشکوک ہو سکتی ہے۔ اب فقیر منش، ہاتھ جوڑ کر بات کرنے والادرویشانہ حلیے میں ملبوس کو دنیاوی ضروریات سے کیا لینا دینا۔ چنانچہ خیر پور میں دس روز عشرہ پڑھنے کے بعد کاسے میں چند روپے بطور نذرانہ ڈال دیے گئے اور اوقات میں رہ کر پیر پھیلانے کے لیے اجرک دی گئی۔

یا یاتھ جلا لا ئے یا راکھ اٹھا لا ئے
اب تک تو نہ ہاتھ آئی تاروں کی زمام اے دل

نوحہ کے لیے لوگوں کا مطالبہ بڑھتا جا رہا تھا۔ جب کہ احمد ہفتے میں دو یا تین نوحے ہی لکھ پاتے تھے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ لکھے ہوئے نوحوں کی کتاب لے کر آئیں۔ دوستوں کے خیال نے احمد نوید کی خوش گمانی کو یقین میں بدل دیا تھا کہ کتاب ہاتھوں ہاتھ بکے گی اور نوحہ خواں بھی اس میں سے نوحے نکال کر پڑھ سکیں گے۔ اور احمد پر لکھنے کا دبا ؤ کم ہو جائے گا۔ ایک شاعراپنی شاعری سے ہی پیسے کمانا چا ہتا ہے۔ کہ اسے اور کوئی کام بھی نہیں آتا۔ چنانچہ حالات کے پیشِ نظر بھی مشورہ بڑا بر محل تھا۔

”شام عاشورہ کے بعد“ نوحوں کی ایک کتاب چھپی اس کی رونمائی امام بارگاہ خیر العمل میں کی گئی۔

شاعرِ اہلِ بیت سے عقیدت رکھنے والے ہر شخص کو تعلقِ خاص کے دعوے کے ثبوت میں کتاب آٹو گراف کے ساتھ مفت چاہیے تھی۔ لیکن تمام عقیدت مندوں کا شاعرکو یہ پرخلوص مشوہ ضرور ملا کہ ”نوید بھائی کسی کو کتاب مفت مت دیجیے گا۔“ جاتے جاتے ہمیں بھی احمد نوید پر کڑی نظر رکھنے کو کہا گیا کہ ”بھائی خیال کیجیے گا بھا ئی میں حد سے زیا دہ مروت ہے، کسی کو بھی کتاب مفت نہ جا نے پائے۔ “ دو سو کتابیں مفت تقسیم کرنے کے بعد تین سو کتابیں گھر آگئیں۔ خدا بھلا کرے ان کے ایک کرم فرما دوست اقتدار شاہ جی کا وہ یہ ساری کتابیں اپنے گھر لے گئے ان کی بیوی نے ڈیفنس کی امام بار گاہ میں کھڑے کھڑے ساری کتابیں مومنات کے ہاتھ فروخت کر کے رقم احمد نوید کے حوالے کر دی۔

آگاہی اور آگہی میں فرق ہوتا ہے۔ آگاہی کے شوق میں مبتلا زندگی، دنیا پکارتی ہے، جب کہ بے نیازانہ زندگی گزارنے والوں کے اندر آگہی خود دنیا کے در وا کر دیتی ہے۔

ہوتا ہو گا، کہ شاعر اپنے حلیے اور چال ڈھال سے پہچان لیا جاتا ہو گا۔ شاعری اور عاشقی کا میل ہے۔ کسی زمانے میں عاشق اور شاعر کی حالت ایک سی ہوا کرتی تھی۔ کچھ محبت میں جنوں کے آثار ہوں اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا ئیں یہ گئے وقتوں کی باتیں ہیں۔ اب لوگ دیوانے کو دنیادار بنانے کے سو جتن کرتے ہیں۔

اسکرین کی شہرت پر لگا کر اڑتی ہے۔ اس زمانے میں ریحان اعظمی ٹی وی پر لکھے گئے نغموں کی وجہ سے کا فی مقبول ہو چکے تھے۔ اب نوحے بھی کہنے لگے تھے۔ انچولی میں بچہ بچہ انہیں جانتا تھا۔ جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ ٹیوشن والے بچوں کی اماں سے ہماری کافی دوستی تھی۔ ایک روزہم نے انہیں بتایا کہ ہمارے میاں شاعر ہیں۔ خوش ہو کرکہنے لگیں۔ ”ہاں ہاں انہیں تو میں اپنی گلی سے گزرتے روز دیکھتی ہوں انچولی میں، کمر میں خم لیے، سر جھکائے، جا نے کس سوچ میں غلطاں، سست روی سے چلتے جیسے کچھ ڈھونڈ رہے ہوں، انچولی میں ایک ہی تو شاعر ہیں۔“ احمد کے بارے پہلی بار ہم ایسے حسین کلمات سن رہے تھے۔ لیکن جملہ مکمل ہو نے پر ہم چونک گئے۔ ”تب ہی میں سمجھ گئی تھی کہ ضرور یہ ہی ریحان اعظمی ہیں، تم نے بتا یا کیوں نہیں کہ تمہارے میاں ریحان آعظمی ہیں۔ یہ تو بہت مشہور ہیں۔“
ہم نے ان پر واضح کیا کہ ہمارے میاں مشہور نہیں، صرف شاعر ہیں۔

اور جو صِرف ہو تے ہیں، وہ کام میں صَرف ہوتے ہیں۔ ان کے پاس شہرت بہت آہستگی سے پاؤں پاؤں آ کر قدم جماتی ہے۔ گھٹن سے سانس خزاں سے بہار، درد سے سکون اور جبر سے صبر حاصل کرنے والوں کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے ایک خاص ڈھب اور سلیقے کی ضرورت ہے جس کے لیے ایک عمر چاہیے ہے۔ جب گھٹن سے ایک سانس لے اور دوسرے کا دم گھٹے تو زندگی کی قید میں رہنے والے ساتھیوں کی ساری عمر ایک دوسرے کو زندگی دینے کی کوشش میں کھڑکی کے پٹ کھولتے بند کرتے گزر جاتی ہے۔

احمد کی امی اب بیڈ پر آگئی تھیں۔ ان کی زندگی میں پرہیز ہی رہ گیا تھا۔ اور پرہیز بھی ایسا کہ زمانہ موجود کی یاد بھی دماغ نے دل کے لیے ممنوع کر دی تھی۔ اسّی کے سِن میں وہ اپنا بچپن جی رہی تھیں۔ انیس ہاؤس کے بڑے بڑے کمروں، نوکر چاکروں کا ذکر کرتیں، اپنی سہلیوں کو یا د کرتیں۔ جب کبھی ہم ان سے ملنے جا تے اپنی کسی پرانی سہیلی ”بنو“ کانام لے کر ہمیں پکارتیں۔ ان کی یادdاشت کی خرابی نے انیس ہاؤس کے گھر کی کتنے ہی دروازے اور کھڑکیاں کھول دی تھیں۔ ان کی خدمت اور دل جوئی کے لیے ایک کل وقتی جوان خوب رو، نوکرانی رکھ دی گئی تھی۔ وہ امی کا بہت خیال رکھتی، امی کی پسند کی وہ چیزیں بھی انہیں کھانے کو دیتی جو ڈاکٹر نے سختی سے منع کی تھیں۔ نتیجتاً امی کی بینائی، جانے کے بعد ان کے پاؤں بھی مفلوج ہو گئے اورایک دن دم بھی سادھ لیا۔ انیس ہاؤس کی اس شہزادی نے پاکستان میں جو غربت دیکھی، مصائب سہے اور جس کسمپرسی میں جان دی وہ لکھتے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ تقسیم سرحد کی ہی نہیں نام و نسب کی بھی تھی۔ انیسؔ نے کہا تھا جن کے رتبے ہیں سِوا، ان کی سِوا مشکل ہے۔ لیکن یہاں تو مشکلات نے رتبے ہی مٹی کر دیے۔

مالک مکان کے ہاں مجلس تھی۔ رشی، رامش گھر سے ذرا فاصلے پر میدان میں کھیل رہے تھے۔ رامش ہما رے پاس بد حواس آیا اور کہنے لگا: ”امی رشی گم گیا۔“

ہم تیزی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر میدان میں آئے۔ رامش نے ایک چوڑی سی باؤنڈری دیوار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ رشی اس دیوار پر چل رہا تھا کہ غائب ہو گیا۔ مغرب کا وقت تھا اندھیرا پھیل رہا تھا۔ لوگوں نے دیوار کی طرف گا ڑیاں پارک کی ہو ئی تھیں۔ اندھیر ے میں کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ ہم نے پہلے تو اپنے اوسان بحال کیے اور پھر رامش کا ہاتھ پکڑے دیوار کے ساتھ لوگوں کے پھینکے گئے کوڑے میں اپنے بچے کوآنکھیں پھاڑکر تلاش کرنے اور اسے آوازیں دینے لگے۔ ہماری آوازوں نے اثر کیا اور کچھ لڑکے رشی کو گود میں لیے ہماری طرف آئے ایک لڑکے نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔ رشی بد حواس تھا۔ اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ وہ ہمیں پہچان بھی نہیں رہا تھا۔ فی الحال یہی غنیمت تھا کہ وہ مل گیا تھا۔ لڑکوں نے بتایا کہ یہ بچہ بد حواسی کے عالم میں چکر لگا رہا تھا۔ ان کی گود سے رشی کو لے کر ہم بھا گتے ہوئے النور اسپتال پہنچے، جو چند قدم کے فاصلے پر ہی تھا۔ اس کے سر میں ٹانکے آئے اور کہیں تیس گھنٹوں میں اوسان بحال ہو ئے، یادداشت واپس آئی۔

آج بھی یہ واقعہ سوچ کر دل کی عجیب حالت ہو جاتی ہے۔ بہت سے ”اگر“ دل بند کرنے لگتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •