کیا ہم جناح کی تقلید کریں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سن 47 ء میں ہندوستان کا بٹوارہ ہوا، اصول یہ طے ہوا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستا ن کے پاس جائیں گے جبکہ نواب اور مہاراجے اپنی ریاستوں کے الحاق کا معاملہ عوام کی خواہش کے مطابق خود طے کریں گے۔ تین ریاستیں ایسی تھیں جو آزاد رہنا چاہتی تھیں سو ان سے یہ فیصلہ بر وقت نہ ہو سکا، جونا گڑھ، حیدرآباد اور جمو ں کشمیر۔ جونا گڑھ اور حیدر آباد ہندو اکثریتی ریاستیں تھیں جن کے حکمران مسلمان تھے جبکہ کشمیر مسلم اکثریت تھی جس کا حکمران ہندو تھا، مہارا جہ ہری سنگھ۔

جونا گڑھ اور حیدر آباد کو بھارت نے اس بنیاد پر اپنا حصہ بنا لیا کہ وہ ہندو اکثریتی علاقے ہیں مگر یہ اصول جمو ں کشمیر پر لاگو نہیں کیا، کشمیر میں بغاوت پھوٹ پڑی اوراس دوران پاکستان سے قبائلی عوام نے کشمیر کو مہاراجہ کے چنگل سے آزاد کروانے کے لیے حملہ کر دیا، اس سے نمٹنے کے لیے ہری سنگھ نے کشمیری لیڈر شیخ عبد اللہ کی حمایت سے بھارت کے ساتھ الحاق کا معاہدہ کر لیا جس کے بدلے میں یہ طے پایا کہ بھارتی فوج کشمیر میں امن و امان بحال کروائے گی اور الحاق کا معاملہ بعد ازاں کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کیا جائے گا۔

بھارت سلامتی کونسل میں پاکستان کے خلاف شکایت لے کر چلا گیا کہ پاکستان حملہ آواروں کی پشت پناہی کر رہا ہے، سلامتی کونسل نے کشمیر کو ”حملہ آوروں“ سے پاک کرنے کی سفارش کی اور پاکستان اور بھارت کو علاقے میں استصواب رائے کروانے کے لیے کہا تاکہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق الحاق کا معاملہ طے ہو سکے، دونوں ممالک نے یہ سفارشات قبول کر لیں۔ جواہر لعل نہرو اس وقت ہندوستان کے وزیر اعظم تھے، کشمیر میں ایک آئین ساز اسمبلی وجود میں لائی گئی اور شیخ عبد اللہ کشمیر کے وزیر اعظم بن گئے۔

ہندوستانی نقطہ نظر سے اس سارے معاملے کو آئینی اور قانونی بنانے کے لیے طے کیا گیا کہ ہندوستانی سرکار کو کشمیر میں صرف مواصلات، دفاع اور خارجہ امور سے متعلق محدود اختیارات حاصل ہوں گے، اس غرض سے بھارتی آئین میں ایک شق 370 شامل کی گئی جس کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئی تاکہ کشمیر یوں کا تشخص بحال رہے اور اس مسلم اکثریتی علاقے کی آبادی کو محفوظ رکھا جا سکے، اس مقصد کے لیے یہ قانون وضع کیا گیا کہ کوئی بھی غیر کشمیر ی ریاست جمو ں کشمیر میں جائیداد خرید سکے گا اور نہ ملازمت حاصل کر سکے گا، یوں کشمیر کو ایک ایسی حیثیت دی گئی جو دیگر ہندوستانی صوبوں کو حاصل نہیں تھی۔

شق 370 کے تحت یہ انتظام اُس وقت تک کے لیے تھا جب تک کشمیر کے الحاق کا معاملہ حتمی طور پر طے نہیں پا جاتا، گویا آرٹیکل 370 نے ہندوستان اور کشمیر کے باہمی تعلق کی تشریح کردی اور ہندوستان کو ایک عارضی قانونی جواز فراہم کر دیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اس آئینی شق اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خلاف تھی، اس کا کہنا تھا کہ پورے ہندوستان میں ایک سرکار اور ایک آئین ہونا چاہیے، سو اس مرتبہ جب اسے بھرپور اکثریت ملی تو اس نے ایک آرٹیکل 370 کو اٹھا کر باہر پھینک دیا، بی جے پی کے حامیوں کے نزدیک یہ انقلابی اقدام ہے، جبکہ سیاسی مخالفین اسے ہندوستانی آئین پر شب خون مارنے کے مترادف کہہ رہے جبکہ اصل مسئلہ کچھ اور ہے۔

مہاراجہ ہری سنگھ کشمیر کا حکمران تھا، اقتدار اعلی اس کے پاس تھا، بٹوارے کے وقت اس کے پاس یہ اختیار موجود تھا کہ وہ پاکستان یا ہندوستان میں سے کسی کے ساتھ الحاق کر لے مگر 26 اکتوبر 1947 تک اس نے یہ فیصلہ نہیں کیا، 26 اکتوبر کو اس نے عارضی طور پر جب ہندوستانی سرکار کے ساتھ چند شرائط کے تحت معاہدہ کیا تو اس عارضی الحاق کے بدلے میں اس نے کشمیر کی خصوصی حیثیت حاصل کی تھی جسے بھارت نے ایک آئینی شق ( 370 ) کے ذریعے تحفظ دیا، 5 اگست 2019 کو جب ہندوستان نے وہ خصوصی حیثیت ختم کرکے کشمیر کو بھارتی یونین کا حصہ قرار دیا تو گویا ہندوستان نے اس معاہدے کو ہی ختم کر ڈالا جس کے تحت کشمیر کا عارضی الحاق ہوا تھا، جس کے تحت آئین ساز اسمبلی وجود میں آئی تھی اور جس کے تحت بھارت کی کشمیر میں موجودگی کا (سچا جھوٹا) قانونی جواز بنتا تھا۔

اب چونکہ خود ہندوستان نے کشمیر کے ساتھ کیا گیا عارضی الحاق کا معاہدہ ختم کر دیا ہے تو اس کے ساتھ ہی جموں کشمیر کی وہ حیثیت بحال ہو گئی جو 26 اکتوبر 1947 سے پہلے تھی، یہ وہ وقت تھا جب کشمیر پر بھارت کا سرے سے کوئی دعوی ہی موجود نہیں تھا۔ یوں سمجھیں کہ دو فریقین میں معاہدہ ہوا، ایک فریق (کشمیر/مہاراجہ) نے چند مخصوص شرائط کے عوض دوسرے فریق (انڈین یونین ) کو کشمیر میں دفاع، مواصلات اور خارجی معاملات کے محدود اختیارات دیے اور یہ اس وقت تک تھا جب تک کشمیریوں کو ان کی خواہش کے مطابق الحاق یا آزادی کا حق نہیں ملتا، چونکہ یہ حق ابھی نہیں ملا تھا سو 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 ختم کرنے بعد جموں کشمیر پر ہندوستانی سرکار کا اگر کوئی قانونی دعوی تھا بھی تو وہ دفن ہو چکا۔

آج بھارتی جموں کشمیر ایک ریاست بھی نہیں رہی، بھارت اب باقاعدہ طور پر اسے اپنی کالونی بنا چکا ہے، اس پر غیر قانونی طریقے سے قابض ہو چکا ہے، وہاں کوئی بھی ہندوستانی جائیداد خرید سکتا ہے، کشمیر کے پاس وہ حقوق بھی نہیں رہے جو ہندوستان کی باقی ریاستوں کے شہریوں کے پاس ہیں، کشمیر میں اس وقت اگر واحد آئینی اور قانونی حکومت موجود ہے تو وہ آزاد کشمیر کی ہے۔ یقینا بہت سے لوگ، خاص طور سے ہندوستانی، یہ کہیں گے کہ یہ تو خالصتاً پاکستانی سوچ /موقف ہے، مگر ان کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی قانون سے اس کے بر خلاف سند لا دیں تو فدوی اپنے موقف سے دستبردار ہو جائے گا۔

ہاں، مہاراجہ ہری سنگھ کے بعد کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کے پاس اقتدار اعلی منتقل ہو گیا تھا اور یوں آئین ساز اسمبلی ہی ہندوستان سے کیے گئے معاہدے کو تبدیل کر سکتی تھی مگر یہ آئین ساز اسمبلی بھی ختم ہو چکی، یوں عملاً ہندوستانی سرکار کے پاس سوائے کشمیر میں استصواب رائے کروانے کے کوئی قانونی راستہ نہیں تھا، مگر طاقت کسی قانون کو نہیں مانتی، بی جے پی کے پاس طاقت ہے، اس نے یہ کر ڈالا ہے، اور شاید بھارتی عدالت عظمی بھی اسے غیر آئینی قرار نہیں دے پائے گی۔

اب ہم کیا کریں؟ ہم وہ کریں جو محمد علی جناح نے اس وقت کیا جب وہ ایک لٹی پٹی مملکت کا سربراہ تھا، جب انگریزکمانڈر نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا اور جب اس کا نوزائیدہ ملک ایٹمی طاقت بھی نہیں تھا۔ اب دوبارہ وہی وقت ہے۔ بھارت نے ایک ایسے علاقے کو انڈین یونین میں ضم کر لیا ہے جس کے بارے میں خود اُس کا ماننا تھا کہ وہ متنازعہ ہے، گویاہندوستان نے عملاًایک پوری ریاست پر قبضہ کر لیا ہے جس پر پاکستان کا دعوی تھا۔ ہم اس مقدمے کے مدعی ہیں، جو کرنا ہے ہم نے کرنا ہے کسی اقوام متحدہ، کسی او آئی سی، کسی ترکی کسی ملائشیا کسی ادار ے نے کچھ نہیں کرنا۔ آج ہمارا وہی فرض بنتا ہے جو کمزور ہونے کے باوجود قائد اعظم نے نبھایا تھاسو کیا ہم جناح کی تقلید کر پائیں گے؟ معلوم نہیں۔ مگر کچھ نمازیں قضا کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، وہ اپنے وقت پر پڑھی جاتی ہیں، یہ وہ نماز ہے جو آج کی تاریخ میں پڑھی جانی ہے، قضاہو گئی تو وقت گزر جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 332 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada