پاکستان میں پولیو کے پانچ نئے کیس: ’والدین بچوں کو سیاہی لگا دیتے ہیں لیکن قطرے نہیں پلواتے‘

عزیز اللہ خان - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پولیو

EPA
اس سال اب تک پاکستان سے کل 53 بچوں میں اس پولیو کے وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے

خیبر پختونخوا کے تین اضلاع سے پولیو کے پانچ مذید کیس سامنے آئے ہیں۔

اس سال اب تک پاکستان سے کل 53 بچوں میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جس میں 30 بچے بنوں ڈویژن میں متاثر ہوئے ہیں اور حکام کے مطابق ان میں 95 فیصد ایسے بچے سامنے آئے ہیں جن کے انگلیوں پر صرف نشان لگائے گئے ہیں اور اصل میں وائرس سے بچاؤ کے قطرے نہیں دیے گئے۔

خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں پولیو کا وائلڈ وائرس موجود ہے اور بچوں کو اس وائرس سے بچاؤ کے قطرے دینے سے انکار کرنے والے والدین تقریباً ہر ضلع میں موجود ہیں۔ لیکن اس سال اب تک سب سے زیادہ بچے بنوں ڈویژن میں متاثر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پولیو کے خلاف جنگ میں فتح کتنی دور ہے؟

ویکسینیشن یا حفاظتی ٹیکوں کی مختصر تاریخ

دنیا بھر میں لوگ ویکسین پر کتنا بھروسہ کرتے ہیں؟

ویکسینیشن: سات غلط فہمیاں جنھیں دور کرنا ضروری ہے

بدھ کو پانچ مزید بچوں میں اس مہلک مرض کے وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس میں ایک چارسدہ سے، تین ضلع بنوں اور ایک کیس شمالی وزیرستان سے سامنے آیا ہے۔ متاثرہ بچوں میں تین لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں اور ان کی عمریں آٹھ ماہ سے 36 ماہ کے درمیان ہیں۔

خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو مہم کے فوکل پرسن ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ بنیادی وجوہات میں انکاری والدین کے علاوہ اب ایک اور بڑا مسئلہ سامنے آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا اب بچوں کی انگلیوں پر سیاہی کے نشان لگا کر والدین کہتے ہیں کہ ان کے بچوں نے پولیو سے بچاؤ کے قطرے لیے ہیں لیکن حقیقت میں وہ بچوں کو یہ ویکسین دینا نہیں چاہتے۔

انھوں نے کہا کہ بظاہر تو یہ معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے کہ بچوں نے قطرے لیے ہیں یا نہیں لیکن جب کسی بچے میں وائرس کی تصدیق ہوتی ہے تو اس بچے کے خون کے نمونے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ بچے میں اس مرض سے بچاؤ کے لیے کتنی قوت مدافعت پائی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بنوں سے اتنی بڑی تعداد میں بچوں میں وائرس کا پایا جانا انتہائی تشویش کا باعث ہے اور ان بچوں میں 95 فیصد بچے ایسے ہیں جنھوں نے ویکسین نہیں لی تھی لیکن ان کے والدین یہ کہہ رہے تھے کہ بچوں نے اس مرض سے بچاؤ کے قطرے لیے ہیں۔

انسداد پولیو کے بارے میں وزیر اعظم کے فوکل پرسن بابر بن عطا کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی کوشش ہے کہ انکاری والدین کو راضی کیا جائے اور انھیں یہ آگہی دی جائے کہ یہ قطرے ان کے بچوں کے لیے کتنے ضروری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بنوں میں حالیہ انسداد پولیو مہم کے دوران کوئی گیارہ ہزار سے زیادہ والدین نے بچوں کو یہ قطرے دلوانے سے انکار کر دیا تھا اور حکومت نے اب والدین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی بجائے انھیں مذاکرات کے ذریعے راضی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وائلڈ پولیو وائرس بنوں اور دیگر اضلاع میں ایک ہی ہے۔ بنوں میں انکاری والدین زیادہ ہیں اور اس کے علاوہ بنوں شمالی وزیرستان اور دیگر علاقوں کے لیے ایک گزر گاہ ہے جس وجہ سے وہاں وائرس پھیل گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10441 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp