سشما سوراج کا پاکستانی کو ٹوئٹر پر پیغام: ’مجھے آپ کی فکر تھی، بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں`

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو، لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سشما سوراج

Getty Images

منگل کے روز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر جانے والی انڈیا کی سابق وزیرِ خارجہ سشما سوراج سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بہت سے افراد کے لیے محض ایک پیغام کی دوری پر ہوا کرتی تھیں۔

انڈیا کے کئی شہریوں کی مدد وہ ٹویٹر پیغامات کے بعد ہی کر دیا کرتی تھیں۔ لوگوں کی مدد کا ان کا یہ طریقہ صرف انڈیا کے شہریوں ہی تک محدود نہیں تھا بلکہ ان میں پاکستانی بھی شامل رہے ہیں۔

میڈیکل ویزا کی فراہمی ہو یا انڈیا میں پھنسے عام پاکستانی شہری، سشما سوراج انھیں بھی مدد فراہم کر چکی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ ہونے کے باوجود بھی ایسے پاکستانی شہری سشما سوراج کو اچھے الفاظ میں یاد کر رہے ہیں۔

لاہور کی رہائشی ماہِ طیبہ منیر ان میں سے ایک ہیں۔

ماہِ طیبہ منیر سنہ 2016 میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ایک وفد کے ساتھ گلوبل یوتھ پیس فیسٹیول یعنی بین الاقوامی امن میلے میں شرکت کے لیے انڈیا گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

سشما سوراج ٹویٹ پر ناراض کیوں؟

انڈیا کی سابق وزیر خارجہ سشما سوراج انتقال کر گئیں

’سکھوں کو جبراً مسلمان کرنے پر‘ سشما سوراج کو تشویش

ماہِ طیبہ منیر

BBC
ماہِ طیبہ منیر

طیبہ منیر کے انڈیا جانے سے چند روز قبل ہی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اُوڑی کے مقام پر دہشگردوں کا حملہ ہوا تھا جس میں کئی انڈین فوجی مارے گئے تھے اور کئی زخمی بھی ہوئے تھے۔ انڈین حکومت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔

اس واقعے کے کچھ روز بعد جب ماہِ طیبہ منیر اور ان کے ساتھی انڈیا پہنچے تو اس کے اگلے ہی دن انڈین حکومت نے دعویٰ کیا کہ اُوڑی حملوں کے جواب میں ان کی فوج نے پاکستان کے اندر سرجیکل سٹرائیک کی ہیں جس کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔

انڈیا میں موجود ماہِ طیبہ اور ان کے ساتھی انتہائی خوفزدہ تھے۔ ماہِ طیبہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے وفد میں شامل کئی لڑکیاں تو پریشانی اور خوف سے رونے بھی لگیں۔

’اب کیا ہو گا؟ کیا دونوں ملکوں میں جنگ چھِڑنے جا رہی ہے؟ اگر ایسا ہوا تو کیا ہم یہی پھنس کر رہ جائیں گے؟ ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟‘

اس پاکستانی وفد میں صرف خواتین شامل تھیں کیونکہ انڈیا کی طرف سے مردوں کو ویزے نہیں دیے گئے تھے۔ پہلے سے موجود غیر یقینی کی فضا مزید گمبھیر ہو گئی۔ ایسے میں وفد کی سربراہ خاتون نے اس وقت کی انڈیا کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج سے رابطہ کرنے کا سوچا۔

ٹویٹر پر سشمہ سوراج کو ٹیگ کر کے پیغامات چھوڑے گئے کہ پاکستانی وفد میں شامل خواتین خوفزدہ ہیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔

ماہِ طیبہ کا کہنا تھا کہ گلوبل یوتھ پیس فیسٹیول کے منتظمین کی جانب سے پہلے ہی سے پاکستانی وفد کی سیکیورٹی کے لیے خاطر خواہ بندوبست کیا گیا تھا۔

’ہمیں میلے کے مقام اور ہوٹل کے علاوہ زیادہ کہیں جانے کی اجازت نہیں تھی۔‘

ماہِ طیبہ کے مطابق ان دونوں مقامات کے درمیان پاکستانی وفد کے سفر کے لیے بھی جو انتظامات کیے گئے تھے وہ وہاں کے وزیرِ اعظم یا کسی اعلیٰ سرکاری عہدیدار کو فراہم کیے جانے والے انتظامات کی طرح تھے۔

’یہاں تک کہ میلے میں شامل کسی ملک کی ایک سفیر خاتون نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کو اتنا پروٹوکول کیوں دیا جا رہا ہے؟‘

میں نے انھیں بتایا ’ہم دونوں ملکوں میں جنگ ہونے والی ہے۔‘

ماہِ طیبہ کے مطابق سشما سوراج نے اپنے جواب میں جس طرح سے ان کی ڈھارس بندھائی، ان حالات میں ان کی طرف سے ایسے کلمات اور پھر اقدامات قابلِ تحسین تھے۔

ماہِ طیبہ منیر

BBC

’انھوں (سشما سوراج) نے ہمیں کہا کہ آپ میری بیٹیوں کی طرح ہیں اور بالکل ایک ماں کی طرح میں کوشش کروں گی کہ آپ کو کوئی آنچ نہ آئے اور آپ بحفاظت گھر لوٹ سکیں۔‘

ماہِ طیبہ نے بتایا کہ سشما سوراج نے ہمیں کہا کہ وہ اس چیز کو یقینی بنائیں گی کہ ہم بخیروعافیت اپنے ملک واپس پہنچ سکیں۔ اور ایسا ہی ہوا۔ ہم آرام سے واپس پہنچ گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ واپسی کے سفر پر ناصرف یہ کہ ذرائع ابلاغ کو ان سے دور رکھا گیا بلکہ واہگہ بارڈر لاہور کے راستے واپس جاتے ہوئے امیگریشن حکام یا کسی دوسرے ادارے کے اہلکاروں نے بھی ان سے زیادہ پوچھ گچھ نہیں کی۔

ماہِ طیبہ منیر نے بتایا کہ ان مشکل حالات میں سشما سوراج کے الفاظ اور اقدامات نے انھیں اور ان کے ساتھیوں کو بہت متاثر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سشما سوراج کی موت کی خبر سنی تو بہت دکھ ہوا۔

’ان کا ہمیں بیٹیوں کی طرح لینا اور ہماری بحفاظت واپسی کے انتظامات کروانا، تو ان کا وہ سلوک جب ہم انڈیا میں تھے ہمیں یاد آ گیا اور بہت افسوس بھی ہوا۔ ظاہر ہے کہ اس وقت سے ہی ایک اچھے انسان کے طور پر ان کا تصور ہمارے ذہنوں میں تھا۔‘

ماہِ طیبہ منیر نے بتایا کہ وہ انڈیا میں بہت سے مقامات دیکھنا چاہتی تھیں۔ وہ مرزا غالب کی شاعری کی دلدادہ ہیں اور غالب کے مزار پر جانے کے علاوہ تاج محل، اجمیر شریف بھی دیکھنا چاہتی تھی مگر حالات کی وجہ سے انھیں کہیں جانے کا ویزہ اور موقع ہی نہیں مل پایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سشما سوراج کی طرح کے اقدامات کرنے والے رہنما دونوں ممالک میں ہوں گے تو ہی ان کے درمیان امن قائم ہو پائے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9621 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp