شوبز ڈائری: آرٹیکل 370 اور کشمیر پر ٹویٹس کے بعد عاطف اسلم، ہما قریشی کی سوشل میڈیا پر ٹرولنگ

نصرت جہاں - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈین فلم انڈسٹری میں سیاست کا رنگ کتنی تیزی سے چڑھ رہا ہے یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ عام انتخابات ہوں یا پھر کوئی بھی بڑا یا چھوٹا سیاسی فیصلہ شوبز میں اس کی گونج صاف سنائی دیتی ہے۔

حال ہی میں انڈین حکومت نے آئین کی شق 370 کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ اس شق کے تحت انڈیا کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر کو نیم خود مختار حیثیت اور خصوصی اختیارات حاصل تھے۔

اب جن لوگوں نے اس فیصلے کے حق میں رائے دی سوشل میڈیا پر ان کو تھپکی دی گئی اور جنھوں نے زرا ہٹ کے بات کی تو انھیں بری طرح ٹرول کیا گیا۔

ان میں سب سے پہلا نمبر پاکستانی گلوکار عاطف اسلم کا تھا جنھوں نے حج پر جانے سے پہلے اپنے فینز کے لیے ایک ٹویٹ پوسٹ کی اور ساتھ ہی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اظہار ہمدردی بھی کیا جس پر عاطف کی خوب ٹرولنگ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

اب بالی وڈ سے مودی کیا چاہتے ہیں؟

’میں کسی سے نفرت نہیں کرتا، ماحول خراب نہ کریں‘

‘سیکس ویڈیو صرف میرے نام پر کیوں وائرل ہے’

عاطف کا تعلق تو چلو پاکستان سے ہے لیکن سوچیے ان لوگوں کے ساتھ کیا ہوا ہوگا جو انڈین ہیں اور بلا ہچکچاہٹ اپنی رائے ظاہر کر رہے ہیں، ان میں اداکارہ ہما قریشی اور انکے بھائی ثاقِب سلیم شامل ہیں۔

ہما قریشی نے اپنی ٹویٹ میں صرف اتنی درخواست کی کہ ایسے حساس وقت میں محتاط انداز میں کمنٹس کریں۔ انھوں نے لکھا ’آپ کو وادی میں کشمیری مسلمانوں یا کشمیری پنڈتوں کی زندگی یا خون خرابے کا کوئی اندازہ نہیں اس لیے برائے مہربانی غیر ذمہ دار باتیں نہ کریں اور خود کو ان لوگوں کی جگہ رکھ کر دیکھیں۔‘

ہما کی اس ٹویٹ کے بعد انھیں تو ٹرول کیا ہی گیا ساتھ ہی ان کے بھائی ثاقب سلیم کو پاکستان جانے کا مشورہ بھی دے دیا گیا۔

جواب میں ثاقب نے لکھا ’مجھے اپنے وطن سے محبت ہے اور اگر کہیں کچھ غلط ہو رہا ہے تو میں سوال کرونگا۔ اگر آپکو اس سے کوئی مسئلہ ہے تو یہ آپکی پریشانی ہے۔ آپ مجھے پاکستان بھیجنے کی کوشش نہ کریں میں جہاں ہوں ٹھیک ہوں۔‘

دوسری جانب انوپم کھیر جیسے فنکاروں نے ایسے موقع پر مودی حکومت کی تعریفوں کے پل باندھے اور اسے تاریخی کامیابی قرار دیا۔

ایک طرف اس بل کے خاتمے کے حق اور مخالفت میں بحث جاری ہے تو دوسری جانب فلسمازوں کو اس موضوع کو کیش کرانے کا موقع مل گیا اور ایک ساتھ کئی فلسماز آرٹیکل 370 کے ٹائٹل کو رجسٹر کروانے کی دوڑ میں لگ گئے ہیں۔

پرینیتی چوپڑہ

AFP
جب پرینیتی چوپڑہ کی فلمیں فلاپ ہوتی جا رہی تھیں تو وہ نہ لوگوں سے ملتی تھیں اور نہ اپنے گھر والوں سے بات کرتی تھیں

ڈپریشن پر توجہ دینے کی ضرورت

دپیکا پادوکون کے بعد اب اداکارہ پرینیتی چوپڑہ نے بھی ایک چیٹ شو میں بتایا ہے کہ ایک زمانے میں وہ ڈپریشن کا شکار تھیں اور دن بھر روتی رہتی تھیں۔

پرینیتی کہتی ہیں کہ ایک تو ان کی فلمیں فلاپ ہوتی جا رہی تھیں اور دوسرے کسی نے انکا دل توڑا جس کے بعد انھوں نے سب سے تعلق ختم کر لیا تھا، نہ وہ لوگوں سے ملتی تھیں اور نہ اپنے گھر والوں سے بات کرتی تھیں۔ پرینیتی کہتی ہیں کہ وہ کسی زومبی کی طرح ہو گئی تھیں۔

اس سے پہلے دپیکا نے ڈپریشن سے متعلق اپنے تجربے لوگوں کے ساتھ شیئر کیے تھے جس کے بعد سے ڈپریشن جیسا سنگین مسئلہ موضوع بحث بنا اور لوگوں میں بیداری پیدا ہونی شروع ہوئی کہ یہ ایک ذہنی بیماری ہے جس پر فوری توجہ ضروری ہوتی ہے۔

توجہ سے یاد آیا کہ پاکستانی اداکارائیں ماورہ حسین اور عروہ حسین نے ڈپریشن کا زبردست علاج تجویز کیا ہے۔ ان دونوں بہنوں کا کہنا ہے کہ ہم جو کچھ کھاتے ہیں اس کا اثر ہماری ذہنی کیفیت پر ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ یہ دونوں بہنیں کہنا چاہ رہی تھیں کہ دل کا نہیں بلکہ دماغ کا راستہ پیٹ سے ہو کر جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10423 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp