قانون واقعی اندھا ہوتا ہے یا ہماری پسند ناپسند کے تابع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انصاف کی علامت

Getty Images
انصاف تو اندھا ہو سکتا ہے لیکن جج بالآخر انسان ہی ہوتے ہیں

تو ثابت ہوا کہ انصاف کی دیوی اتنی بھی اندھی نہیں ہوتی جتنا کہا جاتا ہے۔

یہ بات ہم نہیں کہتے بلکہ امریکہ میں بڑے پیمانے پر کی گئی تحقیق کا نتیجہ ہے جس کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ عام لوگوں کی طرح، عدالتوں کے ججوں پر کس طرح مختلف انداز سے اثر انداز ہوا جا سکتا ہے۔

معاشرہ ججوں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ایسے فیصلے کرتے وقت انصاف سے کام لیں جن سے دوسرے لوگوں کی زندگی مثاتر ہو سکتی ہے اور اپنے فیصلے صرف ان شواہد کی بنیاد پر کریں جو ان کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔

لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہر انسان کی اپنی پسند ناپسند ہوتی ہے جو ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

نام میں کیا رکھا ہے؟

کورنیل یونیورسٹی کے مطالعۂ انصاف کے شعبے سے منسلک پروفیسر جیفری جے ریکلنسکی گزشتہ 20 برسوں سے ایسے عوامل پر تحقیق کر رہے ہیں جن سے ججوں کی پسند ناپسند متاثر ہو سکتی ہے۔

ایک برطانوی جیل کا منظر

PA Media
مسٹر ریکلنسکی کہتے ہیں کہ کسی مقدمے سے متعلق ہندسے بھی فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں

اس تحقیق میں ایک مشہور مطالعہ بھی شامل ہے جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ جج ’اینکرنگ‘ سے کیسے متاثر ہوتے ہیں۔ جب کوئی شخص اس اطلاع یا معلومات پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے لگتا ہے جو اسے کسی معاملے کی ابتدا میں فراہم کی جاتی ہے، تو اسے اینکرنگ کہا جاتا ہے، یعنی یہ بات اس شخص کے ذہن پر ایسے چپک جاتی ہے جیسے کسی بحری جہاز کا لنگر (اینکر) ساحل کے ساتھ لگ جاتا ہے اور بعد میں آنے والی تمام معلومات یا چیزیں اس کے ساتھ جڑتی رہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

گھریلو تشدد سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

سعودی عرب میں ایک عورت کی زندگی کیسے بدل رہی ہے؟

والد کی ’نافرمانی‘ پر سعودی خواتین کی گرفتاری کیوں؟

اس مطالعے کے دوران ججوں کے ایک گروپ کو کہا گیا کہ وہ تصور کریں کہ ایک نائٹ کلب نے اُس قانون کی خلاف ورزی کر دی ہے جس کے تحت نائٹ کلب میں ایک حد سے زیادہ بلند آواز یا شور نہیں ہو سکتا ہے۔

ججوں کو اس خیالی مقدمے پر فیصلہ سنانے کے لیے مذکورہ خلاف ورزی کے حالات و واقعات اور تمام ضروری قانونی معلومات فراہم کر دی گئیں۔ اس کے بعد انھیں بتایا گیا کہ مذکورہ کلب کا نام اس کے ڈاک کے پتے کے نام پر ہے۔ گروپ میں شامل نصف ججوں کو کہا گیا کہ وہ ’کلب 55‘ کا نام استعمال کریں جبکہ دوسرے نصف کو ’کلب 11866‘ کا نام دیا گیا۔

پروفیسر ریکلنسکی کہتے ہیں کہ جن ججوں کو کلب کا نام ’کلب 11866‘ بتایا گیا تھا انھوں نے ان ججوں کی نسبت تین گنا زیادہ جرمانے کا فیصلہ سنایا جنھیں کلب کا چھوٹا نام ’کلب 55‘ بتایا گیا تھا۔ پروفیسر ریکلنسکی کے مطابق جرمانے میں اتنے فرق کی وجہ صرف یہ تھی کہ 11866 کا ہندسہ 55 کے مقابلے میں بڑا ہندسہ تھا۔

عوامل یا واقعات کی ترتیب اور فیصلہ سازی

بعد میں جب تحقیق کاروں کی ٹیم نے ’اینکرنگ‘ کے اثرات کا مزید مطالعہ کیا تو اس میں مزید انکشافات بھی ہوئے۔

مثلاً، ایک دوسرے تجربے میں ججوں سے کہا گیا کہ وہ ایسے دو فرضی مجرموں کو سزا سنائیں جن کو قید کی دو سزائیں دی جا سکتی ہیں، ایک سال قید یا نو سال قید۔

جن ججوں نے پہلے شخص کو ایک سال قید کی سزا سنائی، انھوں نے دوسرے ملزم کو نو سال کی بجائے چھ سال قید کی سزا سنائی۔ پروفیسر ریکلنسکی کہتے ہیں کہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ججوں کو لگا کہ انھوں نے پہلے شخص کو جب ایک سال قید کی سزا سنائی ہے تو دوسرے کو چھ سال ہی درست ہے کیونکہ ایک سال کے مقابلے میں نو سال کا عرصہ بہت زیادہ ہے۔

لیکن ’جب ہم نے ججوں کے ایک دوسرے گروپ کے لیے ان مجرموں کی تریب الٹ دی، یعنی ان سے کہا کہ وہ پہلے مجرم کو 9 سال کی سزا سنائیں اور اس کے بعد دوسرے کی سزا سنائیں۔ اس تجربے میں ججوں نے دوسرے مجرم کو ایک سال قید کی بجائے دو سال قید کی سزا سنائی، کیونکہ انھیں لگا کہ پہلے کو 9 سال کی سزا کے بعد دوسرے کو اتنی کم سزا نہیں سنانی چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ دونوں تجربات میں پہلا ہندسہ ججوں کے ذہن میں ’اینکر‘ کر گیا۔

جج

Getty Images
معاشرہ توقع کرتا ہے کہ جج فیصلہ صرف عقل کی بنیاد پر کریں گے

ان تجربات کے اگلے مرحلے میں جب ججوں سے فرضی مجرموں کو سال کے بجائے مہینوں کی سزا سنائیں تو یہ دیکھا گیا کہ ججوں نے سزا چند مہینوں کی سنائی، یعنی چھوٹے ہندسوں پر اکتفا کیا۔

چھٹی حِس کی بنیاد پر فیصلے

امریکہ میں قانون کے شعبے سے متعلق ایک قدیم مقولہ یہ ہے کہ ’جج کیا فیصلہ کرے گا، اس کا انحصار اس پر ہے کہ اُس نے ناشتہ کیسا کیا تھا۔‘

ہو سکتا ہے کہ ہم یہی سوچتے ہوں کہ تجربہ کار جج اتنی معمولی چیزوں سے متاثر نہ ہوں کہ انھوں نے وقت پر کھانا کھایا تھا یا نہیں، لیکن تحقیق بتاتی ہے کہ ججوں کی بھی پسند ناپسند ہوتی ہے۔

کولمبیا بزنس سکول سے منسلک پروفیسر جوناتھن لیواو نے سنہ 2011 میں ایک تحقیق کی تھی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ اگر جج ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ کھانا کھانے کے فوراً بعد سناتے ہیں تو عموماً ضمانت دے دیتے ہیں، اور جوں جوں دن گزرتا جاتا ہے جج اتنی زیادہ ضمانتیں منظور نہیں کرتے۔

پروفیسر لیواو اور ان کی ٹیم نے اس تحقیق میں اسرائیل کے آٹھ تجربہ کار ججوں کے فیصلوں کا جائزہ لیا جہاں انھوں نے دس ماہ کے عرصے میں ضمانت کی 1112 درخواستوں پر فیصلے سنائے تھے۔

اس تحقیق کے مطابق جب ان ججوں نے چائے کے وقفے یا دن کے کھانے کے فوراً بعد فیصلے سنائے تو 65 فیصد مقدمات میں ضمانت دی، لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا ضمانت کے حق میں فیصلے کی تعداد کم ہوتی گئی اور کبھی کبھی تو یہ تعداد صفر ہو گئی۔ اس کے بعد جب دوبارہ چائے وغیرہ کا وقفہ ہوا اور اس کے بعد انہی ججوں نے 65 فیصد درخواستوں کے حق میں فیصلے سنائے۔

بیزار جج

Getty Images
’جج ویسا ہی فیصلہ کرتا جیسا اس نے ناشتہ کیا ہوتا ہے‘

تحقیق کرنے والے ماہرین اس بات کا تعین نہیں کر سکے کہ آیا ججوں کے مختلف فیصلوں کی وجہ کھانے کی کمی یا زیادتی تھی یا وقفے کے دوران ذہنی سکون، تاہم پروفیسر شائی دانزگر کہتے ہیں کہ ان نتائج سے ’یہ واضح ہوتا ہے کہ بیرونی عوامل بھی عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔‘

پروفیسر شائی دانزگر کے بقول یہ نتائج اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ تجربہ کار جج بھی اپنے نفسیاتی رجحانات اور پسند ناپسند سے متاثر ہو سکتے ہیں۔‘

ذہن میں راسخ سوچ

اس سلسلے میں اپریل 2018 میں بھی ایک تحقیق کی گئی تھی جس میں یہ دیکھا گیا کہ جنسی یا صنفی تفریق کے بارے میں ججوں کی اپنے رائے یا خیالات ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں یا نہیں۔ اس تحقیق میں شامل افراد میں سے 68 فیصد مرد تھے، 30 فیصد خواتین اور دو فیصد ایسے جج جنہوں نے اپنی جنس خفیہ رکھی۔

یہ تحقیق امریکہ کی ایک ریاست کے محمکۂ انصاف کے اعداد وشمار پر کی گئی، تاہم مذکورہ ادارے کا نام خفیہ رکھا گیا کیونکہ ادارے کی خواہش تھی کہ اس مسئلے کا کوئی حل تلاش کیا جائے۔

تحقیق میں شامل تمام ضلعی ججوں (میجسٹریٹوں) کو دو فرضی مقدمات پیش کیے گئے۔ دونوں مقدمات بچوں کی سرپرستی اور صنفی تفریق سے متعلق تھے، جن میں مدعی یا تو ایک مرد تھا یا خاتون۔

اس فرضی مقدمے کے ساتھ ساتھ ججوں نے ایک سروے کے سوالات کے جواب بھی دیے جس میں ان سے صنفی تفریق کے بارے میں ان کے خیالات پوچھے گئے تھے، مثلاّ ’بچوں کو پالنے پوسنے میں خواتین زیادہ دلچسپی لیتی ہیں‘ اور ’وہ خاندان زیادہ خوشحال ہوتے ہیں جن میں مرد ملازمت کرتے ہیں۔‘

اس تحقیق کی نگرانی کرنے والی پروفیسر اینڈریا ملر نے تحقیق کے نتائج ایک جریدے میں شائع کیے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ججوں کے فیصلے صنفی تفریق کے بارے میں ان کی اپنی سوچ کے عکاس تھے۔

ایک عدالت منظر

Getty Images
صنفی تفریق سے متعلق ججوں کی اپنی سوچ ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے

اس سے زیادہ پریشان کن بات یہ سامنے آئی کہ جب تحقیق کرنے والی ٹیم نے یہی تجربہ پانچ سو عام لوگوں کے ساتھ کیا تو ثابت ہوا کہ صنفی تفریق سے متعلق ججوں کے خیالات عام لوگوں کی نسبت زیادہ سخت تھے۔

پروفیسر ملر کہتی ہیں کہ ’جنسی تفریق سے متعلق سوچ ججوں کی فیصلہ سازی کو اتنی ہی متاثر کر سکتی ہے جتنی عام لوگوں کی سوچ۔ عام لوگوں کے مقابلے میں جج بہت زیادہ مہارت رکھتے ہیں لیکن فیصلہ کرتے وقت ان کے اپنے خیالات اتنے ہی اثر انداز ہوتے ہیں جتنا عام لوگوں میں ہوتا ہے۔‘

جج بھی انسان ہوتے ہیں

قانون کے بارے میں ہونے والی اس قسم کی تحقیق میں اب خاصا اضافہ ہو رہا ہے جس میں یہ ثابت ہو رہا ہے کہ جج بھی آخر کار انسان ہی ہوتے ہیں۔

امریکہ میں ’بے بی جج سکول‘ یا ’بچہ ججوں کا سکول‘ کی عرفیت سے نئے ججوں کے لیے ایک تربیتی پروگرام کا انعقاد بھی ہوتا ہے جس کا آغاز سنہ 1960 کے عشرے میں امریکی ایوان نمائندگان (کانگریس) نے کیا تھا۔ پروفیسر ٹیری میرونی اس تربیتی پروگرام سے منسلک ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے اس تربیتی پروگرام کے ڈائریکٹر جیرمی فوگل کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام شروع کرنے کا مقصد ’یہ یقینی بنانا تھا کہ لوگوں کو یہ کام کرنے کی بنیادی تربیت دی جائے۔‘

سنہ 2013 سے اس پروگرام میں یہ بات بھی شامل کی گئی ہے کہ ججوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے جذبات کس طرح ان کی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

جیرمی فوگل کے بقول ’ہم نے ایک عرصے سے یہ مفروضہ بنایا ہوا ہے کہ جذبات کا قانون کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا اور قانون محض عقل کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے، حالانکہ دنیا کے تقریباً تمام دیگر مضامین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جذبات انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔‘

پروگرام سے منسلک پروفیسر ٹیری میرونی نئے ججوں کو ہدایت کرتی ہیں کہ وہ کوئی فیصلہ کرتے وقت اپنے جذبات کا خیال رکھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ جج جو اپنی ذاتی پسند ناپسند کو تسلیم نہیں کرتے ان سے غلطی ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

عدالت

Getty Images
ججوں پر بیرونی عوامل کے اثرات پر بہت تحقیق کی جا رہی ہے

پسند ناپسند کو بھولنا

ریٹائرڈ جج اور کالم نگار جیمز ریڈوائن اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔

وہ بھی کہتے ہیں کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ’جج کی پسند ناپسند ہوتی ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ آیا وہ اپنی پسند ناپسند پر قابو پاتے ہوئے یہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ ان کی سوچ سے عام لوگ متاثر نہ ہوں۔‘

اپنے ایک مضمون میں وہ ہمیں اس 12 سالہ افریقی النسل لڑکی کا مقدمہ یاد دلاتے ہیں جس میں لڑکی نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے پانچ سیاہ فام لڑکوں نے ریپ کیا تھا۔

اس مقدمے کی سماعت خود مسٹر ریڈوائن نے کی تھی جن کا نسلی اعتبار سے تعلق امریکہ کی قدیمی آبادی سے ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ خود کو شناخت کے لحاظ سے سفید فام اشرافیہ کا حصہ سمجھتے ہیں۔ مسٹر ریڈوائن تسلیم کرتے ہیں کہ اس مقدمے میں انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ وہ لڑکوں کے ساتھ انصاف نہیں کر پائیں گے اور لامحالہ لڑکی کی طرفداری کریں گے۔

لیکن جوں جوں سماعت آگے بڑھی تو جیوری میں شامل افراد نے مقدمے کو نئے زاویے سے دیکھنا شروع کر دیا۔ اس جیوری میں سیاہ فام افراد کی تعداد زیادہ تھی۔

سماعت کے دوران کئی گواہوں کی شہادتیں سنی گئیں اور عدالت کو یقین ہوتا گیا کہ یہ مقدمہ ایسا نہیں جیسا شروع میں دکھائی دے رہا تھا۔

’اگر میں محض اپنی سوچ پر انحصار کرتا تو میں آسانی سے بہت بڑی ناانصافی کا مرتکب ہو سکتا تھا۔‘

یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ذاتی پسند ناپسند اور کسی خاص فریق سے ہمدردی نہ رکھنا، یہ کوئی فطری بات نہیں، بلکہ یہ رجحانات ہم سیکھتے ہیں۔ اسی لیے جج کہتے ہیں کہ ’آج فیصلہ کرتے ہوئے میں کوشش کرتا ہوں کہ اس قسم کے سبق بھول جاؤں۔‘

DO NOT DELETE OR TRANSLATE: Digihub tracker for [49016181]

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10736 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp