کشمیر میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ: مودی کا خطاب کس کے لیے تھا؟

شکیل اختر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مودی

Getty Images
وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر میں پاکستان کا ذکر دو مرتبہ آیا مگر سرسری انداز میں (فائل فوٹو)

جمعرات کو انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے انڈیا کے زیرِ انتطام کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی شق 370 ختم کیے جانے کے بارے میں ٹیلی ویژن پر انڈین قوم سے خطاب کیا۔

اس خطاب میں انھوں نے آرٹیکل 370 کو ختم کیے جانے کا جواز پیش کیا اور یہ بتایا کہ حکومت کے اس قدم سے جموں و کشمیر میں ایک نئے سنہری دور کا آغاز ہو گیا ہے۔

انھوں نے تقریباً 35 منٹ کی اپنی تقریر میں متعدد مرتبہ براہ راست کشمیر کے عوام کو مخاطب کیا لیکن ان کا یہ خطاب کشمیر کے عوام نہیں دیکھ سکے کیونکہ ریاست میں گذشتہ پانچ دنوں سے موبائل، انٹرنیٹ، لینڈ لائن اور کیبل ٹی وی کی سروس منقطع ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین میڈیا میں جشن لیکن کشمیری کہاں ہیں؟

تجارت کی معطلی سے زیادہ نقصان کسے ہو گا؟

’سفارتی، سیاسی انداز میں مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں‘

مودی کی تقریر بہت ٹھہری ہوئی اور اس انداز میں تھی جیسے وہ کسی معمول کی صورتحال کے بارے میں بات کر رہے ہوں۔

ان کا لب و لہجہ بہت نرم تھا۔ ان کی اس تقریر میں سخت گیر قوم پرستی کے الفاظ استعمال نہیں کیے گئے۔

ان کی تقریر میں پاکستان کا دو بار ذکر آیا مگر سرسری انداز میں۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے یہ ضرور کہا کہ شق 370 کو ختم کیا جانا ایک تاریخی فیصلہ ہے لیکن وہ اس تقریر سے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ جیسے اس فیصلے کے بعد جموں و کشمیر کے خطے میں سب کچھ نارمل ہے اور یہ سارا عمل محض انتظامی تبدیلیوں کا ہے۔

ان کا زور اس بات پر تھا کہ شق 370 دراصل سابق ریاست کی پسماندگی اور غربت کا سب سے بڑا سبب ہے جس نے ریاست میں بدعنوانی اورخاندانی سیاست کو فروغ دیا ہے اور اسی کے سبب دہشت گردی نے جنم لیا۔

کشمیر

Getty Images
نریندر مودی نے اپنی تقریر میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں درپیش تقریباً تمام مسائل کو آرٹیکل 370 کا شاخسانہ بتایا

ان کے مطابق آرٹیکل 370 ختم کرنے سے ریاست میں خوشحالی کا ایک انقلاب آنے والا ہے۔

انھوں نے خطے میں عدم مساوات، غربت، دلتوں اور اقلیتوں کے ساتھ تفریق، صنفی عدم مساوات، بدعنوانی، پنچائتوں اور بلدیہ میں لوگوں کی عدم نمائندگی اور جمہوری اداروں کی کمی جیسے معاملوں کا ذکر کیا اور یہ بتایا کہ ان ساری خرابیوں کا سبب شق 370 تھی اور اس کے ختم ہونے کے بعد اس خطے میں خوشحالی اور جمہوری نمائندگی کا ایک نیا دور جلد ہی شروع ہونے والا ہے۔

اس پورے خطاب کا تاثر یہ تھا کہ یہ انڈیا کے ایک خطے کا انتطامی معاملہ ہے جسے حکومت انتظامی ڈھانچے میں کچھ تبدیلیوں سے بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ کسی بھی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات کی طرح انڈیا کا ایک اندرونی معاملہ ہے اور اس کے بارے میں بیرونی دنیا کو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیر اعظم نے یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی کہ اس تبدیلی سے وہاں کے لوگ خوش ہیں اور اسی لیے عالمی برادری کو اس کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تقریر بہت مہارت کے ساتھ لکھی گئی تھی اور اسے اسی انداز میں وزیراعظم نے ڈیلیور بھی کیا۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان ریوش کمار نے جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکوت نے دنیا کے کئی ملکوں کے سفیروں اور عالمی تنظیموں کے نمائندوں کو انڈیا کی پوزیشن سے روشناس کروایا ہے۔ انھیں بتایا گیا ہے کہ شق 370 سے متعلق تبدیلی انڈیا کا مکمل طور پر اندرونی معاملہ ہے اور اس کا تعلق انڈیا کے آئین سے ہے جو انڈیا کے اقتدار اعلیٰ کے دائرے میں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان یک طرفہ قدم اٹھا کر اس اندرونی معاملے کو دنیا کے سامنے باہمی رشتے کی پریشان کن صورتحال کے طور پر پیش کر رہا ہے لیکن اسے ہر جگہ ناکامی ہوئی ہے۔

کشمیر

Getty Images
انڈیا کے وزیر اعظم کے مطابق آرٹیکل 370 ختم کرنے سے ریاست میں خوشحالی کا ایک انقلاب آنے والا ہے

ابتدائی خاموشی کے بعد کئی جانب سے ردعمل سامنے آئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے کشمیر کے سٹیٹس کو برقرار رکھنے کی بات کی ہے اور ساتھ میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بھی حوالہ دیا ہے۔ دوسری جانب جنیوا میں واقع اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے ادارے نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔

ادارے کے ترجمان نے کہا ہے کہ نئی پابندیوں سے خطے میں حقوق انسانی کی صورتحال مزید خراب ہو گی۔ انھوں نے کہا ’یہ حقیقیت کہ وہاں سے کوئی اطلاع باہر نہیں آ رہی ہے یہ خود گہری تشویش کا باعث ہے۔‘

فی الحال جموں و کشمیرمیں جمعے کو پانچویں روز بھی مکمل خاموشی رہی۔ سارے رابطے ٹوٹے ہوئے ہیں۔ کشمیر سے باہر زیرِ تعلیم طلبا اور طالبات اور ملازمت پیشہ افراد اور دیگر کشمیری باشندے عید کے لیے بے یقینی کے اس ماحول میں کشمیر واپس لوٹ رہے ہیں۔ حکومت نے کہا ہے کہ اگر صورتحال پر امن رہی تو وہ عید کے روز کرفیو میں کچھ حد تک نرمی کرے گی تاکہ لوگ عید منا سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10040 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp