شمالی کوریا کا ایک اور ’بیلسٹک میزائلوں’ کا تجربہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمالی کوریا، بیلسٹک میزائل

Reuters
شمالی کوریا میں ایک نامعلوم جگہ سے میزائل فائر کیا جا رہا ہے

شمالی کوریا نے سمندر کے اندر دو میزائلوں کا تجربہ کیا ہیں۔ یہ اس کا حالیہ ہفتوں میں پانچواں ایسا تجربہ ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ یہ مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ہیں۔

اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 11 قراردادوں کی خلاف ورزی ہوگا۔

میزائلوں کی یہ لانچ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند دن بعد ہی ہوئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ انھیں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی جانب سے ایک ‘بہت شاندار خط’ موصول ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شمالی کوریا میں ہار کا کیا انجام ہوتا ہے؟

شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

شمالی کوریا کے دوڑتے باڈی گارڈز

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ کم جونگ اُن امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں سے ناخوش تھے۔

شمالی کوریا نے تجربہ کب اور کہاں کیا؟

میزائل ساؤتھ ہیمیونگ صوبے کے مشرقی شہر ہیم ہنگ سے داغے گئے تھے اور یہ جزیرہ نما کوریا کے مشرق میں بحرِ جاپان میں جا کر گرے۔

جنوبی کوریا کی فوج کے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ جمعے کو مقامی وقت کے مطابق 05:34 اور 05:50 پر دو میزائل داغے گئے اور ان میزائلوں نے 400 کلومیٹر کا فاصلہ تقریباً 48 کلومیٹر کی بلندی پر طے کیا اور اس دوران ان کی زیادہ سے زیادہ رفتار آواز کی رفتار سے 6 اعشاریہ 1 گنا زیادہ تھی۔

Trump and Kim at DMZ

Reuters
امریکہ اور شمالی کوریا کے سربراہان کے درمیان جون میں تاریخی ملاقات ہوئی تھی

کم جونگ اُن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو کیا لکھا تھا؟

تازہ ترین لانچ سے تھوڑا ہی قبل امریکہ کے صدر نے شمالی کوریا کے رہنما کی جانب سے ملنے والے ایک خط کے بارے میں بات کی تھی۔

وائٹ ہاؤس میں رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ایک ‘نہایت مثبت خط تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ ہماری ایک اور ملاقات ہو گی۔ انھوں نے ایک بہت شاندار، تین صفحات، میرا مطلب ہے ابتداء سے اختتام تک ایک بہت ہی شاندار خط لکھا۔’

شمالی کوریا کی حکومت نے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صدر ٹرمپ اور جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی خلاف ورزی ہیں۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں

جہاں مرکزی مشقیں تو 11 اگست کو شروع ہوں گی، وہیں ان کی تیاریوں پر کام شروع ہو چکا ہے۔

یہ مشقیں بنیادی طور پر کمپیوٹر سمیولیشن کی مدد سے ہوں گی اور امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان ہونے والی گذشتہ مشقوں کے مقابلے میں کافی محدود ہوں گی جنھیں شمالی کوریا ‘بھڑکانے’ کے مترادف قرار دے چکا ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں میں شمالی کوریا نے کئی میزائل تجربے کیے ہیں جنھیں جنوبی کوریا کے حکام نے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے منگل کو ایسا تجربہ کیا گیا تھا۔

25 جولائی کو فائر کیے گئے میزائل، جن میں سے ایک نے 690 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، وہ صدر ٹرمپ اور کم جونگ اُن کی دو کوریاؤں کو تقسیم کرنے والے ڈی ملٹرائزڈ زون (ڈی ایم زی) یا غیر عسکری علاقے میں ہونے والی اچانک ملاقات کے بعد پہلا تجربہ تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10736 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp